آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 23؍ذوالحجہ 1440ھ 25؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تھائرائڈ گلینڈ کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، سیمی جمالی

جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جناح اسپتال )کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمیں جمالی نے کہا ہے کہ ملک میں اینڈوکرائن غدود کی بیماریوں خصوصاََ تھائرائڈ گلینڈ کے مریضوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

اسپتال میں گزشتہ برسوں میں آٹھ ہزار سے زائد تھائرائڈ کے کینسر کے آپریشن کئے گئے،ملک میں خاص طور پر تھائی رائیڈ گلینڈ کینسرکے مریضوں کی تعداد مسلسل بڑھتی جا رہی ہے، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر اس وقت پاکستان کا واحد سرکاری اسپتال ہے جہاں پر اینڈوکرائن غدود کی سرجری کی سہولت میسر ہے جہاں پر نہ صرف سندھ بلکہ بلوچستان خیبر پختونخوا اور اسلام آباد تک سے مریض آرہے ہیں۔

وہ جناح اسپتال میں چھٹی سالانہ سرجیکل ویک فار اینڈوکرائن ڈیزیز سے متعلق پریس کانفرنس سے خطاب کر رہی تھیں، اس موقع پر معروف کولوریکٹل سرجن شمیم قریشی، پروفیسر آف سرجری اورچھٹے انڈوکرائن ویک کے سیکریٹری پروفیسر نسیم بلوچ، ڈین جناح اسپتال پروفیسر اقبال آفریدی اور انڈوکرائنالوجسٹ ڈاکٹر عروج نے بھی خطاب کیا۔

ڈاکٹر سیمیں جمالی کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال کے صرف ایک یونٹ میں گذشتہ چند برسوں میں تھائیرائیڈ کینسر کے 8 ہزار مریضوں کے آپریشن کیے گئے، اسپتال میں 25 سے 28 فروری تک کراینڈوکرائن پر ایک تحقیقی پروگرام کیا جارہا ہے جس میں دنیا بھر سے ماہرین طب سے میں شرکت کررہے ہیں۔

پروگرام کا بنیادی مقصداسپتال کے ماہرین طب کو جدت کے ساتھ علاج سے روشناس کرانا ہے۔ڈاکٹر سیمیں جمالی نے بتایا کہ اسپتال میں اینڈوکرائن ڈیزیز کے حوالے سے چھٹا سالانہ سرجیکل ویک پیر سے شروع ہو جائے گا جس میں امریکہ اور برطانیہ سے دو ماہر ڈاکٹر جن میں ڈاکٹر صبابلاس اوبرا مینیم اور ڈاکٹر کیپال پٹیل شامل ہیں پاکستان تشریف لائیں گے اور پاکستانی مریضوں کو تھائی رائیڈ گلینڈ کے کینسر کے حوالے سے مشاورت فراہم کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ دنیا بھر سے ماہر ترین ڈاکٹر اور سرجنز کو جناح اسپتال میں بلایا جاتا ہے اور پاکستانی ڈاکٹروں کو تربیت دلوائی  جاتی ہے جس کی وجہ سے جناح اسپتال اس وقت پاکستان کا واحد اسپتال ہے جہاں پر اینڈوکرائن سرجریز یا اینڈوکرائن غدود کے آپریشن کیے جاتے ہیں۔

کانفرنس کے سیکرٹری اور معروف سرجن پروفیسر نسیم بلوچ نے بتایا کہ وہ گذشتہ چھ برس سے فرانس، امریکہ، برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک سے ماہرین کو بلا رہے ہیں ، جو لائیو سرجریز کرتے ہیں جسے بہ یک وقت 500 سے زیادہ پاکستانی ڈاکٹر دیکھتے اوراس سے سیکھتے ہیں اس کے لیے ڈاکٹروں کی بڑی تعداد پورے پاکستان سے کراچی آکر تربیت حاصل کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا پاکستان میں تھائی رائیڈ کینسر کے مریضوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کے لیے اب جناح اسپتال میں ایک علیحدہ وارڈ بنا دیا گیا ہے،انہوں نے انکشاف کیا کہ روزانہ 40 سے 50 مریض ملک بھر سے تھائیرائیڈ کی مختلف بیماریوں اور متعلقہ پیچیدہ امراض میں مبتلا ہوتے ہیں وہ او پی ڈی میں آتے ہیں،انہوں نے بتایا کہ تھائیرائیڈ کینسر کے سب سے زیادہ مریض پاکستان اٹامک انرجی کے نیوکلیئرمیڈیسن اور ریڈیو تھراپی سینٹرز کے ذریعے جناح آپریشن کے لیے بھیجے جاتے ہیں۔

تھائی رائیڈ کینسر کا صرف علاج آپریشن سے ممکن ہے اور جناح اسپتال سرکاری طور پر واحد اسپتال ہے جہاں پر یہ آپریشن کیے جاتے ہیں، پروفیسر نسیم بلوچ نے مزید کہا کہ اگر تھائیرائیڈ غدود کی بیماریوں کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو کینسر ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جناح اسپتال میں مریض اس وقت آتے ہیں جب ان کا مرض بہت پیچیدہ ہو چکا ہوتا ہے۔

انہوں نے مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ حکیموں، سنیاسی بابوں اور غیر طبی افراد کے پاس جانے کے بجائے ماہرین سے رجوع کریں اور اگر ان کو تھائیرائڈ گلینڈ کے آپریشن کا مشورہ دیا جاتا ہے تو اس پر عمل کریں،معروف کولوریکٹل سرجن پروفیسر شمیم قریشی کا کہنا تھا کہ تھائیرائیڈ گلینڈ کے کینسر کے مریض آپریشن کے نتیجے میں عام افراد کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں کیونکہ اس سرجری کے بعد مریض مکمل طور پر صحتیاب ہو جاتے ہیں۔

ڈاکٹر کوثر عامر نے بتایا کہ مردوں کی نسبت خواتین میں گلے کے سرطان کے کیسز سامنے آرہے ہیں۔تھائرائڈ کے مرض کے علاج میں تاخیر کینسر کی طرف لے جاتی ہے۔ ڈین جناح اسپتال پروفیسر اقبال آفریدی کا کہنا تھا کہ تھائیرائیڈ غدود کی بیماریوں سے نفسیاتی الجھنیں بھی پیدا ہوتی ہیں۔اسکا علاج کروانا چاہیے،اسپتال کی انڈوکرائنالوجسٹ ڈاکٹر عروج کا کہنا تھا کہ گلے کے غدود میں سوجن ،نگلنے میں مشکل ،گھبراہٹ ،وزن کم ہونا، آنکھوں کا باہر نکل آنا ایسی علامات ہیں جن کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے اور ماہر انڈوکرائنالوجسٹ سے رابطہ کرنا چاہیے۔ 


صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید