آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی کے ایک ہوٹل سے زہریلا کھانا کھا کر ہلاکتوں کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں5 بچے جاں بحق ہوگئے جب کہ ان کی والدہ اور پھوپھو اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

کوئٹہ سے آنے والی اس فیملی نے صدر کراچی میں واقع ایک نجی ہوٹل سے کھانا کھایا تھا،جس کے بعد طبیعت خراب ہونے پر انہیں کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

نجی اسپتال میں 5 بچےجانبر نہیں ہو سکے تاہم ان کی والدہ 28سالہ بینا اور پھوپھو زیر علاج ہیں، بچوں کی والدہ  کی حالت انتہائی تشویشناک ہے۔

جاں بحق ہونے والے بچوں کی عمریں ڈیڑھ سال سے 9 سال تک ہیں جن میں ڈیڑھ سالہ عبد العلی، 4 سالہ عزیز فیصل، 6 سالہ عالیہ، 7 سالہ توحید اور 9 سالہ سلویٰ شامل ہیں۔

ایس پی گلشن اقبال طاہر نورانی کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں بچوں کی موت کی وجہ فوڈ پوائزننگ لگتی ہے، متاثرہ فیملی نے صدر میں ایک ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ متاثرہ فیملی گزشتہ رات ساڑھے 11 بجے کوئٹہ سے کراچی پہنچی تھی،جس نے صدر میں ایک گیسٹ ہاؤس میں قیام کیا ۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ فیملی نے باہر سے ایک ہوٹل سے گیسٹ ہاؤس میں کھانا منگوایا تھا، جبکہ انہوں کوئٹہ سے کراچی آنے سے قبل خضدار میں بھی کھانا کھایا تھا۔

پولیس حکام نے یہ بھی بتایا کہ رات میں 5 بچوں، ان کی والدہ اور پھوپھو کی طبیعت خراب ہو گئی، جس پر ان 7 افراد کو اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب ڈی آئی جی ساؤتھ کراچی، ایس پی انویسٹی گیشن، پولیس کا فرانزک اور تفتیشی یونٹ قصر ناز گیسٹ ہاؤس پہنچے جہاں یہ متاثرہ فیملی ٹھہری ہوئی تھی۔

قصر ناز میں فرانزک یونٹ اور تفتیشی حکام نے متاثرہ فیملی کے زیر استعمال کمرے کا جائزہ لیا اور شواہد جمع کیے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں