آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر17؍ رجب المرجب 1440ھ 25؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


شہد کی مکھی سے 4 گْنابڑی دنیا کی سب سے بڑی مکھی کو 38 سال بعد انڈونیشیا کے جزیرے سے ایک مرتبہ پھر دریافت کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی امریکا اور آسٹریلیا کے ماہرین پر مشتمل سرچ ٹیم کو ’مادہ ویلس جائنٹ بی ‘(میگا چائل پلوٹو) انڈونیشیا میں ایک درخت پر بنے دیمک کے گھر سے ملی ۔

اس مادہ مکھی کی لمبائی 4 سینٹی میٹر ہےجسے پہلی مرتبہ 1858 میں انڈونیشیا کے جزیرے’ باکان‘ سے برطانوی شخص الفریڈ رسل ویلس نے دریافت کیا تھا۔

اس مکھی کو دوسری مرتبہ 1981 میں امریکی ماہر نے انڈونیشا کے 3 جزیروں میں دریافت کیا تھا اور مشاہدہ کیا تھا کہ یہ مکھی اپنے جبڑوں کو دیمک سے پاک گھونسلے کے لیے لکڑی اور گوند جمع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

بعد ازاں سرچ ٹیمیں ایک مرتبہ پھر اس مکھی کی تلاش میں ناکام ہوگئی تھیں اور پھر ماہرین نے اس مکھی کو ’25 انتہائی مطلوب جانوروں‘ کی فہرست میں شامل کردیا تھا۔

اس مادہ مکھی کی دوبارہ دریافت سے اس بات کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ اس علاقے کے جنگلات میں دنیا کی سب سے بڑی مکھی کی نسل اب بھی موجود ہے۔


Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں