آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

آپ کی خدمت میں اسلام میں مساوات، نرم مزاجی، خوش اخلاقی، درگزر کرنے اور معاف کرنے کے بارے میں اپنے پچھلے کالم میںکچھ عرض کیا تھا۔ یہ بھی عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اگرچہ ظلم کا بدلہ لینے کی اجازت دی ہے، کان کے بدلے کان، ناک کے بدلے ناک، قتل کے بدلے قتل (یہ اس لئے کہ نفسیات کے نقطہ نظر سے یہ نہایت اہم اصول ہے کہ جس پر ظلم ہوتا ہے وہ فوراً اس کا بدلہ لینا چاہتا ہے اگر اس سے زبردستی یہ حق چھین لیاجائے تو وہ نہایت کرب، غصّے کا شکار ہو جائے گا) اسی طرح ایک دوسرے پر برتری، رنگ، نسل، رتبہ، عہدےکی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاق و کردار پر منحصر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ظلم کا بدلہ لینا ہمارا حق ہے مگر معاف کرنا اس سے کہیں بڑھ کر ہے اور اللہ تعالیٰ اس عمل کو بدلے سے زیادہ پسند کرتا ہے۔

روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اِمام حسینؓ، نواسہ رسولﷺ، اپنے مہمانوں کے ساتھ کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک حبشی غلام کے ہاتھ سے کھانا آپ کے کپڑوں پر گر گیا۔ آپ کے چہرہ پر غصّہ کے تاثرات دیکھ کر غلام نے فوراً سورۃ آل عمران کی آیت 134کی تلاوت شروع کردی، ’’جو خوشی و غم میں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور جو غصّے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں ایسے لوگ اللہ کو بے حد پسند ہیں‘‘۔ یہ آیت سنتے ہی حضرت اِمام حسین ؓکے چہرہ مُبارک پر مسکراہٹ آگئی آپؓ نے کہا میں نے تجھے معاف کیا اور آزاد بھی۔ تُو اب ایک آزاد انسان ہے۔

پچھلے کالم میں سلطان محمود غزنوی اور ان کے غلام ایاز کے واقعہ کا کچھ حصّہ بیان کیا تھا۔ سلطان کی ہدایت کے باوجود امیروں نے قیمتی موتی توڑنے سے یہ کہہ کرمعذرت کر لی تھی کہ وہ بہت قیمتی تھا اور وہ حکومت کی دولت کو اس طرح نہیں برباد کر سکتے۔ آخر میں جب سلطان نے ایاز سے یہی کہا تو اس نے ایک لمحہ توقف کئے بغیر جیب سے دو پتھر نکالے اور اسکو چورا چورا کردیا۔

’’ایاز بادشاہ کے امتحان سے واقف تھا۔ شاہ کے امتحان کے (مبارک و مستحسن) فریب سے ایاز گمراہ نہ ہوا۔ خلعت اور وظیفہ نے اُس کو گمراہ نہ کیا۔ اس نے بادشاہ کے حکم سے موتی توڑ ڈالا۔ جب اس نے خاص موتی (انا) توڑا تو اس وقت امیروں نے بہت شور اور فریاد بلندکی کہ یہ کیا بے باکی ہے، خدا کی قسم کافر ہے جس نے اس منور موتی کو توڑ ڈالا حالانکہ اس جماعت نے نادانی اور اندھے پن سے باشاہ کے حُکم کے موتی کو توڑ ڈالا تھا۔ (تعجب ہے کہ) دوستی اور محبت کے نتیجے کے موتی (الفاظِ محبوب) کی قیمت اُن (اہل ظاہر اہلِ کتاب) کی طبیعت پرکیوں پوشیدہ ہوئی۔

ایاز نے کہا کہ اے نامور سردارو (ہادیانِ دین) قیمت میں شاہ کا امر (تازہ حُکم) بہتر ہے یا موتی (جسم یعنی علم و دانش کی کتاب) تمہارے نزدیک امرِ سلطان بہتر ہے یا یہ اچھا موتی۔ خدا کے لئے بتائو۔ ارے تمہاری نظر موتی (کتاب اور ارکانِ دین) پر ہے، شاہ (صاحبِ کتاب) پر نہیں ہے۔ تمہارا قبلہ شیطان ہے۔ سیدھا راستہ نہیں ہے۔ میں شاہ (حق) سے (کسی حال میں) نظر نہیں پھیرتا ہوں۔ میں مشرک کی طرح پتھّر (نشانی) کی جانب رُخ نہیں کرتا ہوں۔ وہ بے گوہر روح، جو راستے کے پتھّر (آیہ صفات) پسند کرے۔ وہ شاہ کا حُکم (اس کی ذات) پیچھے ڈال دے گی۔ تُو پھول جیسے رنگ (صفات) کی گڑیا کی جانب پُشت کر لے۔ عقل کو رنگ دینے والے میں (ذاتِ حق میں) حیران کر دے۔ حقیقت کی نہر میں آجا۔ (جسم کے) سُبو کو پتھّر مار دے۔ بُو اور رنگ (عالمِ صفات) میں آگ لگا دے۔ اگر تُو دین کی راہ میں راہزنوں میں سے نہیں ہے تو عورتوں کی طرح (مؤنث روحوں کی طرح) رنگ و بُو کی پرستش نہ کر۔ اے نالائقو! (اصل) موتی بادشاہ کا حُکم ہوتا ہے۔ تم سب نے اعلانیہ اُس (حُکم کے) موتی کو توڑا۔

جب ایاز نے اس راز کو میدان میں ڈال دیا تو سب ارکان خوار اور ذلیل ہو گئے۔ اُن سرداروں نے سر جھُکا لئے۔ دل و جان سے اُس بھول کے عُذر خواہ بن گئے۔ اس وقت سینکڑوں آہیں ہر ایک دل سے دھوئیں کی طرح آسمان تک جاتی تھیں۔ بادشاہ کا امیروں کو قتل کرنے کا ارادہ کرنا اور تخت کے سامنے ایاز کا سفارش کرنا کہ العَفُو اولیٰ (معاف کردینا زیادہ بہتر ہے)۔ اسرار شفاعت میں سے پہلی شرط تو یہ ہے کہ محبوبِ رب ہو۔ شاہ کے پردے میں محبوب رب العالمین کی ثناء۔ یہ بیان کہ غفلت ہمیشہ گستاخی سے پیدا ہوتی ہے۔ غافل شخص تعظیم ختم کردیتا ہے۔ بھُول چُوک کا خیال اس کے دل سے نکل جاتا ہے۔ ٓ بھول جاتا ہے، یہ تو جان بوجھ کر مستی کا پردہ لینا ہے۔ البتہ خدائی مست کی لغزش کی کیا تعریف کی جائے۔ عفو کی درخواست میں پھر درپردہ محبوب خداﷺ کی جانب رجوع۔ یہ درخواست کہ جو کچھ کریں مگر اپنے سے جُدا نہ کریں۔ دوزخ کے درمیان کافر بھی آپ کی نظر کی طلب کرے گا۔

شاہ نے پُرانے جلّاد کو اشارہ کیا کہ ان کمینوں کو میرے دربار سے صاف کر دے۔ یہ جو پتھّر (جسم مجازی جھوٹی انا) کی خاطر ہمارے حُکم کو توڑتے ہیں۔ میرے دربار (میرے قُرب) کے لائق کب ہیں۔ ایسے مفسدوں کے نزدیک ہمارا امر، رنگین پتھروں (وجود و صفات) کی وجہ سے ذلیل اور کھوٹا ہو گیا۔ پھر محبت بڑھانے والا ایاز اٹھا اور سلطانِ اعظم کے تخت کے سامنے دوڑ کر پہنچا۔ کہ اے باشاہ کہ آپ سے آسمان بھی شگفتہ ہوتا ہے۔ اے وہ ہُما (اے وہ سایہ نیک) کہ سب ہُما آپ سے برکت حاصل کرتے ہیں اور تمام سخی، آپ ہی سے سخاوت حاصل کرتے ہیں۔ اے وہ کریم! کہ جہاں کے کرم آپ (حضورﷺ) کے مخفی ایثار (رئوف الرحیمی) کے آگے محو ہو جاتے ہیں۔ اے وہ صاحبِ لطف (صاحبِ الطافِ عمیم)کہ جب گُلِ سرخ نے آپ کو دیکھا تو شرمندگی سے لباس چاک کر ڈالا۔ آپ کی مغفرت (آپ کی غفور الرحیمی) سے مغفرت، سیر چشم ہے۔ آپ کے عفو کی بُنیاد پر، (جسم کی) لومڑیاں شیر (نفس) پر غالب ہیں۔ جو شخص آپ کے حُکم پربے باکی کرتا ہے وہ آپ کے عفو کا سہارا لے کر ایسا کرتا ہے۔ اے معافی دینے والے! ان مُجرموں کی غفلت اور گستاخی آپ کے وفُور عفو (معافی کے شوق) کی وجہ سے ہے۔

(غور کریں تو) غفلت سے ہمیشہ گستاخی پیدا ہوتی ہے ۔ آنکھوں سے تعظیم ختم کر دیتا ہے۔ (وگرنہ) غفلت اور بھُول، جو بُرے طریقوں سے سیکھی جاتی ہے تعظیم کی آگ سے جل جاتی ہے۔ اس (آقا) کی ہیبت، بیداری اور سمجھ عطا کرتی ہے۔ بھول اور چُوک اس کے دل سے نکل جاتی ہے یاجب غنیم (فرشتہ اجل) لوٹ رہا ہو تو لوگوں کو نیند نہیں آتی ۔ تاکہ کوئی (اعمال کی) گُدڑی نہ لے اڑے۔ جب گُدڑی کے ڈر سے نیند بھاگ جاتی ہے تو گلے کے ڈر سے (روح کی موت کے ڈر سے) نیند اور بھوک کب ہوسکتی ہے۔ لاتواخِذنآ ان نَّسینا ٓ (اگر بھول گئے تو تُو پکڑ نہ کر) گواہ ہے کہ بھول (محبوب ہم سے غفلت) بھی ایک طرح سے گناہ ہے۔ (وجہ یہ ہے کہ) اُس نے (محبوب کی) تعظیم کی تکمیل نہ کی۔ورنہ بھول مصیبت نہ لاتی۔ اگرچہ بھول ضروری اور لاعلاج ہے لیکن انسان صاحب اختیار ہے کہ سبب اختیار کرے۔ اے وہ ذاتِ (عفو و عطا) کہ ہر ذرّہ آپﷺ کی معافی کا عکس ہے۔ تمام جہان کی معافیاں (آپ کی معافی کے مقابلے میں) ایک ذرّہ ہیں۔ تمام معافیوں نے آپ (حضورﷺ) کی معافی کی تعریف کی ہے۔ اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُو (اے لوگو ڈرو کہا ہے) اور یہ کہ آپ کا کوئی کفَو (ہم سر ) نہیں ہے (کفوًا اَحَد کہا ہے) اے کامران! وہ لوگ آپ کے شیریں مقاصد ہیں۔ آپ ان کی جان بخش دیجئے اور آپ سے ان کو الگ نہ کیجئے۔ اس پر رحم کیجئے جس نے آپ کا دیدار کرلیا ہے۔ وہ آپ کی جدائی کی تلخی کیسے چکھّے گا۔ جو چاہیں کریں، لیکن (خدارا) یہ نہ کریں دنیا میں محبوب کی جدائی سے بدتر کوئی چیز نہیں ہے۔ ایاز کی سفارش پر سلطان نے اُمراء کو معاف کردیا‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں