آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ19؍رمضان المبارک 1440 ھ25؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج ارادہ تو سعودی شہزادے کے دورہ پاک و ہند پر لکھنے کا تھا مگر اس خطے میں ایک مرتبہ پھر نفرت اور جنونیت کی جو آندھی اٹھی ہے وہ مجبور کر رہی ہے کہ اس کی جڑوں تک پہنچا جائے۔ اس مردم خیز اور زرخیز سر زمین کی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں انسانوں کو اپنے گھروں سے بے دخل کر کے دربدر بھٹکانے اور ذلت کی موت مروانے کے باوجود جنونیت کا طوفان تھم نہیں سکا ۔ سیانے کہتے ہیں برُے تجربے نہ کرو، مشاہدے کر لو۔ آج کے جاپان اور یورپ کو دیکھ لو، آج کا جاپانی ایٹم کے نام سے بھی خوفزدہ ہے۔ آج کا یورپ جنگی جنون سے اس قدر الرجک ہے کہ جرمنی اور فرانس جیسے ازلی ہمسایہ دشمنوں نے اپنے بارڈر کی جان نکال دی ہے۔ شہریوں کو پتا ہی نہیں چلتا، وہ کب جرمنی سے فرانس میں داخل ہو گئے۔ اس منزل تک پہنچنے کے لیے کیا یہ ضروری ہے کہ ہم بھی ویسے ہی آگ اور خون کے دریا عبور کریں، انسانی بربادیوں کا بیوپار کریں۔ اس کے بعد بھی کیا گارنٹی ہے کہ ہماری منتقم مزاجی مزید نسلوں کو بربادیوں کی بھینٹ چڑھانے کا تقاضا نہیں کرے گی؟

سبق سیکھنے کیلئے کیا تقسیم کے وقت کی تباہ کاریاں کافی نہیں تھیں؟ کیا 65ء،71ء اور کارگل کی معرکہ آرائیاں جو ’’ثمرات‘‘ دے کر گئی ہیں سمجھنے کے لیے ان پر گزارا نہیں کیا جا سکتا؟ جس چمنستان کی ڈال ڈال پر کبھی سونے کی چڑیاں چہچہاتی تھیں۔اقبال کے الفاظ میں ’’چشتی نے جس زمیں میں پیغامِ حق سنایا، نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا ، تاتاریوں نے جس کواپنا وطن بنایا، جس نے حجازیوں سے دشتِ عرب چھڑایا، یونانیوں کو جس نے حیران کر دیا تھا، سارے جہاں کو جس نے علم و ہنر دیا تھا، مٹی کو جس کی حق نے زر کا اثر دیا تھا، ترکوں کاجس نے دامن ہیروں سے بھر دیا تھا‘‘ ، آج وہ خطہ ارضی ایٹمی ہتھیاروں اور میزائلوں سے بھر چکا ہے لیکن انسانی ترقی و خوشحالی کے حوالے سے کم مائیگی کا جائزہ لیں تو پسماندگی میں شاید افریقہ کو بھی مات دے رہا ہے۔ ہماری جنونیت نے ہر دو ممالک کے کروڑوں باسیوں کی تقدیر میں خوشحالی کی جگہ غربت اور علم و ہنر کی جگہ جہالت جیسی بدنصیبیاں لکھ دی ہیں۔ کیا کوئی ہے جس کو اس خطے کے اصل وارثوں، کروڑوں بدقسمت غریب انسانوں کے دکھوں کا احساس و ادراک ہو؟۔ اس بد قسمت خطے کے اصل حکمرانو! کچھ خدا کا خوف کرو۔ کروڑوں مائوں، بہنوں اور معصوم بچوں پر ترس کھائو۔

پلوامہ میں جو خود کش حملے کی واردات ہوئی، سب مل کر اس دہشت گردی کی مذمت کرو اور حلف اٹھاؤ کہ دہشت گردی جہاں بھی ہو گی جس رنگ روپ میں بھی ہو گی، قابلِ مذمت ٹھہرے گی۔ برادر مقدس مملکت سعودی عرب کی قیادت نے بھی نئی دہلی میں ٹھیک انہی الفاظ کا چناؤ کیا ہے۔ اگر کوئی بلا ثبوت دوسرے پر اس کا پورا الزام لگاتا ہے تو اس کا جواب بھی شعوری دلائل سے دیا جانا چاہئے۔ ہر دو اطراف میں کسی کو بھی جنگی جنون پھیلانے سے باز رہنا چاہئے۔ نریندر مودی اور ان کی جماعت اپنے جذبات اور زبانوں پر کنٹرول کریں۔ جنگی ماحول کو بڑھاوا دینے سے باز آئیں، ہمارے وزیراعظم نے اگرچہ اچھی تقریر کی ہے لیکن اس سلسلے میں تحفظات، تاخیر یا سستی کی ستائش نہیں کی جا سکتی۔ آزادی کی جنگ لڑنے والوں کو بھی سمجھنا ہو گا کہ عدم تشدد کی راہ پر چلنے میں کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں کہ آج کی مہذب دنیا کسی بھی دلیل سے قابلِ ہمدردی نہیں سمجھتی۔

درویش بی جے پی کی قیادت اور نظریہ جبر پر یقین رکھنے والوں کو یہ کہنا ضروری سمجھتا ہے کہ عصرِ حاضر جبر دشمن ہے اگر کسی وقت آپ نے جبر سے آواز اعتدال کا گلا گھونٹ دیا تھا تو لازم نہیں کہ یہ نسخہ آج بھی کارگر یا کارآمد ثابت ہو جائے آج جبر سے کوئی باپ اپنے بچوں کو ساتھ نہیں رکھ سکتا چہ جائیکہ لاکھوں انسانوں کو جبری ہتھکنڈوں سے ساتھ لے کر چل سکے۔ آپ نے اگر کسی کو اپنے ساتھ لے کر چلنا ہے تو وہ صرف پیار محبت دلجوئی اور دلنوازی سے ممکن ہے آپ دوسروں کے دکھ درد کو سمجھیں ان کے شکوے شکایات کو نہ صرف سنیں بلکہ ان کا تدارک کریں یہی واحد صورت ہے جس سے خطے میں امن و سلامتی لا سکتے ہیں۔ یہی اپروچ اپنے ہمسائے کے لیے بھی اپنائیں۔ پلوامہ حملے میں آخر آپ اپنی سیکورٹی ناکامی کو کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ بارود سے بھرا ٹرک پاکستان سے تو نہیں گیا، مقامی سطح پر ہی یہ پورا اہتمام ہوا۔ جب یہ ٹرک اپنے ٹارگٹ کی طرف رواں دواں تھا تو روک ٹوک یا چیک کرنے والے ذمہ دار ادارے کے لوگ کہاں تھے؟ دوسروں پر الزام دھرنے سے پہلے خود احتسابی کا جذبہ پیدا کریں۔

اپنی قیادت کی خدمت میں درویش یہ عرض کرنا چاہتا ہے کہ دہشت گردی کی واردات کہیں بھی ہو عالمی نگاہیں آخر ہماری طرف ہی کیوں اٹھتی ہیں؟ ہندو ہمسایہ تو رہا ایک طرف، افغانستان اور ایران جیسے مسلم ہمسائے بھی ہم پر کیوں الزامات عائد کرتے رہتے ہیں؟ اندر خانے چین جیسا ہمسایہ بھی سنکیانگ کے حوالے سے بارہا توجہ دلا چکا ہے۔ اقوامِ متحدہ کو مطلوب وہ کونسی شخصیت ہے جسے ہم با ر بار چین کے ویٹو سے بچا رہے ہیں؟ اپنے تمام تر وسائل جھونک کر ستر سالوں میں جو مدعا ہم حاصل نہیں کر سکے الٹے آدھا ملک گنوا بیٹھے آگے چل کر کیا نکال لیں گے؟ کیا بہتر نہیں کہ ہم حقائق کی دنیا میں آجائیں اور جو کچھ میسر و موجود ہے اُسے بنانے کی تگ و دو کریں۔ آپ نے ملک میں شدت پسند تنظیموں پر پابندی لگا کر یقیناً مستحسن اقدام اٹھایا ہے جس کی ستائش کی جانی چاہئے لیکن یہ جائزہ بھی لینا چاہئے کہ سانحہ پشاور کے بعد ہم نے شدت پسندی کے خلاف جس نیشنل ایکشن پلان پر ایکا کیا تھا اس پر عمل کرنے میں کیوں ناکام رہے؟

درویش کی دانست میں پاکستان اور بھارت میں بسنے والے ڈیڑھ ارب انسانوں میں سے شاید 5فیصد بھی شدت پسند سوچ کے حامل نہیں ہونگے۔ 95فیصد سے زائد انسان پیار محبت، امن اور دوستی پر یقین رکھتے ہوئے ترقی، خوشحالی اورا ستحکام کے متلاشی اور لبرل سوچ کے حامل ہیں۔ لہٰذا وہ ایک دوسرے کے خلاف بولنے کی بجائے اپنی صفوں میں موجود شدت پسندی کے مائنڈ سیٹ کی مرمت کریں یہ وہی مائنڈ سیٹ ہے جس نے مہاتما گاندھی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان لی۔ ہم تشدد پر یقین و ایمان رکھنے والی اس منفی ذہنیت کو ماریں۔ مل جل کر اس غیر انسانی سوچ یا اپروچ کا خاتمہ کریں تو جنگی جنون یا نفرت و دشمنی کا ازخود خاتمہ ہو جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں