آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان اور کینیڈا کی دہری شہریت رکھنے والے معتدل مزاج مولوی ڈاکٹر طاہر القادری بدستور میڈیا کی شہ سرخیوں میں ہیں۔ 23 دسمبر کو لاہور میں منہاج القرآن کے اراکین پر مشتمل ایک بہت بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر اُن کی تجویز کردہ انتخابی اصلاحات تسلیم نہ کی گئیں تو وہ14 جنوری کو لاکھوں افراد کو ساتھ لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے۔ تاہم میڈیا کی طرف سے پوچھے جانے والے سخت سوالات کے نتیجے میں ڈاکٹر صاحب اپنے سخت موقف سے بتدریج پیچھے ہٹتے نظر آرہے ہیں۔
پہلے پہل انہوں نے کہا کہ چونکہ فوج اور عدلیہ اسٹیک ہولڈرز ہیں اس لئے انہیں نگران حکومت میں لازمی عناصر کے طور پر شامل کیا جائے۔ تاہم آج وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان اداروں کا صرف ”مشاورتی کردار“ ہی ہونا چاہئے۔ پہلے انہوں نے آئین کے آرٹیکل 254 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمینٹ کی تحلیل کے بعد قائم ہونے والی نگران حکومت کچھ مخصوص آئینی ضروریات کیلئے انتخابات کو نوّے دنوں سے بھی زیادہ عرصے کے لئے التوا میں ڈال سکتی ہے۔ تاہم اب انہوں نے اپنے پہلے بیان میں خاطر خواہ ترمیم کر لی ہے کہ وہ انتخابات کا التوا نہیں چاہتے کیونکہ ان کا اصلاحاتی ایجنڈا صرف تیس یوم میں بھی مکمل ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرصاحب کے ابتدائی بیانات کے مطابق اُن کا

اصل مقصد انتخابی اصلاحات اور ٹیکس کی وصولی کو بہتر بنانا اور ”نااہل، بددیانت اور بدعنوان افراد پر مشتمل دو جماعتی نظام“ کی کمر توڑنا ہے۔ تاہم اب اس ایجنڈے میں واجب تبدیلی کرتے ہوئے طوہاً کراہاً یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کے کاندھوں پر ڈال دی گئی ہے۔ فرمایا گیا ہے کہ ”اصل مقصد“ الیکشن کمیشن کو تقویت دینا ہے تاکہ غلط بیانی کرنے اور دھاندلی سے انتخابات جیتنے والے امیدواروں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔ پہلے قادری صاحب نے بڑی احتیاط سے کام لیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ کسی قسم کی فوجی مداخلت کے حق میں نہیں ہیں لیکن اب وہ فوج کو تنبیہ کررہے ہیں کہ وہ لانگ مارچ روکنے کیلئے منتخب شدہ حکومت کے احکامات (اگر دیئے جائیں) پر عمل نہ کرے۔
نگران حکومت کے قیام کے حوالے سے پہلے قادری صاحب کا موقف تھا کہ اس میں ماہرین شامل ہوں جبکہ ان کی قیادت کسی ایسے ”ماہر“ کے ہاتھ میں ہو جو پارلیمینٹ کا رکن نہ ہو(جیسے نظام میں بہتری لانے کی غرض سے13 ماہ کے لئے اٹلی میں قائم کی گئی)۔ اُس وقت ”ماہر“ سے جناب کی مراد اپنی ذاتِ گرامی ہی تھی لیکن چونکہ انقلابات کا زمانہ ہے اس لئے اب وہ ”مسندِاقتدار “کو پائے حقارت سے ٹھکراتے ہوئے مصر کے تحریر چوک، جہاں جمع ہونے والے ہجوم کے دباؤ کی وجہ سے حسنی مبارک کو اقتدار چھوڑنا پڑا اور تازہ انتخابات کی نگرانی کے لئے سپریم ملٹری کونسل کا قیام عمل میں آیا، کی مثال دے رہے ہیں۔ دیکھا جا سکتا ہے کہ ان تمام ”انقلابی اقدامات“ کا مقصد ایک ہی ہے کہ اسلام آباد میں افراتفری پیدا کرتے ہوئے حکومتی نظم و نسق مفلوج کر دیا جائے تاکہ دفاعی اداروں کو مداخلت پر مجبور ہونا پڑے یا پھر ایسی صورتحال پیدا کر دی جائے جس میں پی پی پی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو سیاسی عمل سے باہر کر دیا جائے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قادری صاحب اپنے اس ایجنڈے میں کامیاب ہو جائیں گے؟
ایم کیو ایم نے اپنا وزن قادری صاحب کے پلڑے میں ڈالتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اُس کے لاکھوں کارکن اسلام آباد میں قادری صاحب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ تاہم ایم کیو ایم کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ وہ کچھ سیاسی مقاصد کیلئے اپنی اتحادی جماعت پر اس طرح کا دباؤ ڈالتی رہی ہے اور اس کے پُرعزم انقلابی بیانات بہت جلد ”مفاہمتی“ سیاست کے پیرائے میں ڈھل جاتے ہیں۔ پانچ سال تک زرداری حکومت کا لازمی اتحادی رہنے اور اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد اب ایم کیو ایم کا سیاسی مفاد اس میں ہے کہ وہ حکومت سے علیحدہ ہوتے ہوئے ایک اپوزیشن کی پارٹی نظر آئے یا پھر پی پی پی پر دباؤ بڑھاتے ہوئے آئندہ بننے والی نگران حکومت میں زیادہ حصے کا مطالبہ کرے تاکہ وہ سندھ میں اپنے انتخابی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ اب اگر زرداری صاحب الطاف بھائی کی کمر پر تھپکی دے دیتے ہیں تو قادری صاحب کو اسلام آباد کی سیر کے بعد خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو پھر ہو سکتا ہے کہ ایم کیو ایم چند ہزار کارکنان کو قادری صاحب کے ہم قدم کر دے لیکن ایک بات لکھ رکھیں کہ ایم کیو ایم قادری صاحب کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئے نہ تو آخری حد تک جائے گی اور نہ ہی اپنی کشتیاں جلائے گی۔
دوسری طرف پاکستان مسلم لیگ (ق) کے چوہدری صاحبان نے بھی طاہر القادری سے ملاقات کی ہے اور اس ملاقات کی تصویر میڈیا میں شائع ہوئی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد اور ایک قابلِ اعتماد نگران حکومت کے قیام کے لئے قادری صاحب کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں لیکن وہ اُن کے ساتھ لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد نہیں جائیں گے اور نہ ہی پی پی پی سے اتحاد توڑیں گے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو کا ڈاکٹر قادری کے مارچ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بروقت بیان نے بہت سی سازش کی تھیوریوں کو بھی،جو بہت سے ذہنوں میں کھلبلی مچا رہی تھیں، ٹھنڈا کر دیا ہے۔ اسی طرح کے ایک اور بیان سے ایم کیو ایم کی بھی ”تسلی“ ہو جائے گی۔ اس صورتحال میں سب سے اہم بیان پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کی طرف سے آیا ہے۔ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں انتخابات کو التوا میں نہیں ڈالنا چاہتی، اس لئے وہ ڈاکٹر قادری کے لانگ مارچ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اب چونکہ عمران خان کے جوشیلے جوان انتخابی عمل کے ذریعے انقلابی تبدیلی کا راستہ ہموار کر رہے ہیں یعنی وہ اسلام آباد میں ہونے والے اجتماع کا حصہ نہیں ہوں گے، چنانچہ تحریر چوک کا خواب دیکھنے والوں کو نوشتہ ٴ دیوار پڑھ لینا چاہئے۔ اس کے علاوہ بریلوی مکتبہ ِ فکر کے لوگ جو بطور تنظیم منہاج القرآن کے حامی ہیں، اس کے ان سیاسی مقاصد کا آلہٴ کار بننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مزید یہ کہ دو دن تک اسلام آباد میں جلسہ کرکے خیرو عافیت سے گھروں کی راہ لینا ایک بات ہے اور طویل عرصہ… مطالبات کی تکمیل… تک دارالحکومت میں دھرنا دینا اور بات ہے۔ پی پی پی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جلوس کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ اس کا رخ ایک پارک کی طرف موڑ دیا جائے گا۔ پی پی پی کو یقین ہے کہ پی ایم ایل (ن) پنجاب میں لانگ مارچ کے شرکاء کے راستے میں رکاوٹ بھی ڈالے گی اور دیگر اسلامی گروہوں سے قادری لانگ مارچ کے خلاف بیانات بھی دلوائے گی۔
قادری صاحب کو پاکستانی سیاست میں اس طرح ہلچل مچا دینے کے لئے جس کسی نے بھی اکسایا ہے… یقینا بین الاقوامی برادری نے ایسا نہیں کیا ہے…اُس نے لگتا ہے کہ اب میڈیا میں ہونے والی تنقید کی وجہ سے ارادہ تبدیل کر لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی، پی ایم ایل (ق) اور جے یو آئی قادری صاحب کی حمایت نہیں کر رہے ہیں یا پھر ہو سکتا ہے کہ وہ قوت چاہتی ہو کہ قادری صاحب کے احتجاج کے ذریعے ذرا صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ یہ حقیقت بھی ایک کھلا راز ہے کہ زرداری حکومت کا انتخابات میں کامیابی کے بعد دوبارہ حکومت سنبھالنا یا نوازشریف کا اقتدار میں آنا ہمارے مقتدر حلقوں کو پسند نہیں ہے۔انہیں ایک ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو مضبوطی اور ثابت قدمی کے ساتھ طالبان کے خلاف جنگ میں دفاعی اداروں کی معاونت کر سکے، افغانستان میں نیٹو افواج کے انخلا کے بعد بنائی جانے والی متوقع حکمت ِ عملی کی حمایت کرے اور ملکی معیشت کو بہتری کی طرف گامزن کرے تاکہ فوجی کارروائیوں کا بوجھ برداشت کیا جا سکے۔ ان حالات میں حکومت کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ موجودہ پارلیمینٹ کے تحلیل ہونے اور اگلے عام انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کر دے۔ اس کے ساتھ ساتھ آئین میں درج طریقے کے مطابق نگران حکومت کے وزیراعظم کے نام پر بھی اتفاق کر لیا جائے۔ ان اقدامات سے موجودہ بے یقینی کی صورتحال ختم ہو جائے گی اور قادری لانگ مارچ کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ چنانچہ امکان ہے کہ قادری صاحب کا ڈرون حملہ دھماکہ کرنے کی بجائے آہیں بھرتا ہوا اپنے ”گھر “سدھارے گا۔ اگر اس تگ و دو میں کسی کا نقصان ہوا تو وہ قادری صاحب کی ساکھ ہی ہوگی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں