آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍شوال المکرم 1440ھ 20؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایک فاسٹ بالر کی نفسیات، سوچ اور ردِعمل کو ایک وکٹ کیپر سے بہتر اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ کوچ اور کیپٹن بھی فاسٹ بالر کے رویوں کو وکٹ کیپر سے بہتر نہیں سمجھ سکتے۔ اسپنر کو چوکا یا چھکا لگ جائے تو وہ بیچارہ روہانسا منہ لیکر ادھر ادھر دیکھتا رہتا ہے۔ اسکے برعکس ایک فاسٹ بالر کو چھکا لگ جائے تو وہ طیش میں آجاتا ہے۔ غصہ سے لال پیلا ہو جاتا ہے۔ وکٹ کیپر کو فوراً پتہ چل جاتا ہے کہ فاسٹ بالر کی اگلی گیند تیز ترین ہو گی۔ بیٹس مین کو دن میں تارے دکھانے کے لیے اس کی اگلی گیند بائونسر ہو گی۔ آپ بائونسر کا مطلب سمجھتے ہیں نا؟ تیز بالر کی پھینکی ہوئی ایسی گیند جو پچ پر پڑنے کے بعد اچھل کر بیٹس مین کے سر کو نشانہ بناتی ہے۔ آج کل سر پر ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے بیٹس مین سر پر گیند لگنے کے بعد چکرا کر گر پڑتے ہیں، مگر مرنے اور اپاہج ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ اگلے وقتوں میں ہیلمٹ صرف سپاہی پہنتے تھے مگر وہ کرکٹ نہیں کھیلتے تھے۔ پرانی بات ہے، کلکتہ میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ کے دوران آسٹریلیا کے ایک تیز ترین بالر کی گیند ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان ناری کانٹریکٹر کے سر پر لگی تھی۔ ناری کانٹریکٹر بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرتا تھا۔ ناری کانٹریکٹر گیند لگنے کے بعد ڈھیر ہو کر گر پڑا۔ تاحیات ناری کانٹریکٹر مفلوج ہو گیا۔ چل پھر سکتا تھا اور نہ ہی بول سکتا تھا۔ میں سمجھتا ہوں آسٹریلیا کے فاسٹ بالر کا نام شاید ریلنڈ وال تھا۔ بہت پرانی بات ہے، انگلینڈ کے فاسٹ بالر لارووڈ نے آئوٹ کرنے کے بجائے آسٹریلیا کے سات کھلاڑیوں کو زخمی کرنے کے بعد اسٹریچر پر گرائونڈ سے پویلین اور پویلین سےاسپتال بھیج دیا تھا۔ سر ڈان بریڈمین واحد کھلاڑی تھے جو آخر تک بیٹنگ کرتے رہے تھے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ طیش میں آنے کے بعد ایک فاسٹ بالر کسی کی نہیں سنتا۔ وہ اپنی بات بھی نہیں سنتا۔ اچھے اچھے بیٹس مین دعا کرتے رہتے ہیں کہ فاسٹ بالر کو غصہ نہ آئے۔

یہ جو گرائونڈ سے باہر بیٹھے ہوئے لوڈوکے کھلاڑی تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سات آٹھ مہینوں میں فاسٹ بالر نے کچھ نہیں کیا ہے۔ پے در پے مخالف ٹیم کے کھلاڑیوں کو پویلین اور پویلین سے اسپتال بھیجتے رہے ہیں۔ قانون سازی کا خانہ خالی پڑا ہوا ہے۔ کسی قسم کی کوئی قانون سازی نہیں ہوئی ہے۔ لوڈوکے کھلاڑی وکٹ کیپر نہیں ہوتے۔ اس لیے وہ فاسٹ بالر کے بارے میں کچھ نہیں جانتے کہ فاسٹ بالر کو طیش میں لانے کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ کچھ اور کھلاڑی گرائونڈ سے اسٹریچر پر اٹھوا کر پویلین اور پویلین سے اسپتال پہنچا دئیے جائیں گے۔ لوڈوکے کھلاڑیوں سے میری مودبانہ گزارش ہے کہ فاسٹ بالر کو سمجھنے کے لیے آپ وکٹ کیپنگ کی تربیت لینا شروع کریں۔ وکٹ کیپر بننے کے بعد آپ کو فاسٹ بالر اور فاسٹ بالر کی باتیں سمجھ آنے لگیں گی۔

آپ کا یہ فقیر موہن جودوڑو اور ہڑپہ کے دور کا وکٹ کیپر ہے۔ میں فاسٹ بالر کی باڈی لینگویج سمجھتا ہوں۔ اس کے دائیں ہاتھ کی چھنگلی میں پہنی ہوئی بڑے نگ والی انگوٹھی کے راز سے میں واقف ہوں۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ ایک شخص اپنے حلقہ احباب سے پہچانا جاتا ہے (A Man is known by the company he keeps)میں فاسٹ بالر کے دوست احباب سے واقف ہوں۔ وہ سب اعلیٰ نسل کے ہیں۔ یہ تمام باتیں میں اس لیے جانتا ہوں کہ میں وکٹ کیپر رہ چکا ہوں۔ وکٹ کیپر ہونے کے ناتے میں آپ کو اور خاص طور پر لیوڈو کے کھلاڑیوں اور معتبر تجزیہ کاروں اور تجزیہ نگاروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ فاسٹ بالر پچھلے سات آٹھ مہینوں میں صرف وکٹیں اڑانے اور بیٹس مین کو بائونسر مار مار کر زخمی کرنے اور میدان سے اسٹریچر پر پویلین اور پویلین سے اسپتال بھیجنے میں مصروف نہیں رہا ہے۔ فاسٹ بالر نے اندرون خانہ زبردست قانون سازی بھی کی ہے۔ صرف اعلان کرنے کی دیر ہے۔ سر دست میں آپ کو ایک ایسے قانون کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں جس کے اطلاق کے بعد آپ اپنے آپ کو بے حد طاقتور دیکھ کر حیران رہ جائیں گے۔ کچھ لوگ پریشان ہو جائیں گے۔ اس قانون پر عمل درآمد کے بعد بڑے بڑے طرم خانوں اور پھنے خانوں کے چھکے چھوٹ جائیں گے۔ میں مختصراً آپ کو اس حیرت انگیز قانون سے واقف کرنا چاہتا ہوں۔

فاسٹ بالر بے انتہا سیاسی طاقت آپ کے یعنی ووٹ دینے والوں کے ذمہ کرنے جا رہا ہے۔ قانون سازی میں واضح کیا گیا ہے کہ ووٹ دینے والے اپنا ووٹ دیکر جب کسی شخص کو اپنا نمائندہ بنا کر اسمبلی ممبر بناتے ہیں، تب وہ شخص ایک لحاظ سے ووٹ دینے والوں کا ملازم ہوتا ہے، جس کو تنخواہ حکومت دیتی ہے۔ اس وضاحت کے بعد لکھا گیا ہے کہ جس طرح ناکارہ، سست، کام چور ملازم کو مالک ملازمت سے فارغ کرنے کا حق رکھتے ہیں، عین اسی طرح ووٹ دینے والے اپنے منتخب نمائندوں کی ناکارہ کارکردگی دیکھ کر اس کے خلاف عدم اطمینان یعنی Vote of no confidenceکی تحریک چلانے کا حق رکھیں گے۔ وہ اپنا ووٹ واپس لیکر اپنے ناکارہ ایم این اے اور ایم پی اے کو اسمبلی ممبر شپ سے محروم کر دیں گے۔ پچھلے ادوار میں ایک ناکارہ ممبر کو ووٹ دینے والے پانچ برس بھگتتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوگا۔ انقلابی قانون آنے کے بعد آپ فی الفور اپنے ناکارہ نمائندے کو فارغ کر سکیں گے۔ اور کیا چاہتے ہیں آپ، ووٹ دینے والے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں