آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار16؍رجب المرجب 1440ھ 24؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوم ِثمود کی جائے پیدائش

قدیم جزیرۃ العرب کے شمال مغربی علاقے میں واقع،’’ وادی القریٰ‘‘ اپنی ہریالی و شادابی میں بے مثال ہے۔ اس وادی پر قومِ ثمود کی حکم رانی تھی، جب کہ اس کے مدّ ِمقابل، جنوب مشرقی عرب پر قومِ عاد قابض تھی۔ قومِ ثمود بھی قومِ عاد کی طرح نہایت طاقت وَر، طویل القامت اور زبردست شان و شوکت کی مالک تھی اور اسے فنِ تعمیر میں بھی کمال حاصل تھا۔ پہاڑوں کو تراش کر انتہائی خُوب صورت عمارتیں بنانے کا فن گویا اُن پر ختم تھا۔ اس قوم کے دارالحکومت کا نام، حجر تھا، جو حجازِ مقدّس سے شام جانے والے قدیم راستے پر واقع تھا۔ اب یہ علاقہ ’’مدائنِ صالح‘‘ کہلاتا ہے۔ مدائنِ صالح کے قدیم شہروں میں ایک ’’العلا‘‘ ہے، جو آج بھی بہت پُررونق اور آباد ہے۔ مدینہ منورہ سے تبوک جاتے ہوئے بڑی شاہ راہ پر تقریباً ساڑھے چار سو کلومیٹر کی مسافت پر یہ شہر واقع ہے۔

وادیٔ ثمود، اِک جائے عبرت

العلا شہر ہی سے وادیٔ ثمود میں داخلے کا راستہ ہے۔ سعودی حکومت نے وادیٔ ثمود کی تاریخی حیثیت کے پیشِ نظر 1972ء میں اسے سیّاحوں کے لیے کھول دیا تھا۔ یہاں کے ریلوے اسٹیشن کا نام بھی مدائنِ صالح اسٹیشن رکھا گیا ہے۔تاہم، وادی میں داخلے کے لیے محکمۂ سیّاحت سے اجازت نامہ لینا ضروری ہے۔ یہ لق ودق میدان، چٹیل بیابان18سے20مربع میل پر پھیلا ہوا ہے، جہاں ہزاروں ایکڑ کے رقبے پر وہ خُوب صورت تاریخی عمارات ہیں، جنہیں قومِ ثمود نے سخت سُرخ چٹانیں تراش کر بنایا تھا۔ دوسری جانب، نرم میدانی علاقوں میں عالی شان مکانات کے کھنڈرات ہیں۔ ایک ہزار سال قبلِ مسیح کے ان فن پاروں کو دیکھ کر آج کے جدید، ترقّی یافتہ انسان اور ماہرِ تعمیرات حیران رہ جاتے ہیں۔ سُرخ پہاڑوں کے اندر اس شہرِ خموشاں کی ہزاروں تاریخی عمارتوں کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ اُس زمانے میں بھی اس شہر کی آبادی چار یا پانچ لاکھ سے کم نہ ہو گی، جسے ان کی بداعمالیوں اور نافرمانیوں کے سبب ایک زوردار، تیز اور ہول ناک آواز کے ذریعے آناً فآناً ہلاک کر دیا گیا۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی (قریٰ) میں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے۔‘‘ (سورۂ الفجر9:)۔ 2008ء میں اقوامِ متحدہ کے ادارے، یونیسکو نے اسے سعودی عرب کا پہلا عالمی وَرثہ قرار دیا۔

حضرت صالح ؑمنصبِ نبوّت پر

قومِ ثمود اپنے عالی شان محلّات، سرسبز و شاداب کھیت کھلیان، خُوب صورت مرغزاروں اور نعمتوں کی فراوانی کے سبب غرور، تکبّر اور سرکشی کے نشے میں چُور تھے اور چوں کہ تکبّر اور کفر کا چولی دامن کا ساتھ ہے، تو یہ بھی ابلیس کے پیروکار بن گئے، حالاں کہ کچھ ہی عرصہ پہلے قومِ عاد پر قہرِ الٰہی کے مناظر اُن کے سامنے تھے۔ یہ بھی اپنے ہاتھوں سے تراشے ہوئے پتھر کے خدائوں کی عبادت کرتے تھے۔ ان کے معاشرے سے حق و انصاف ناپید ہو چُکا تھا۔ بے حیائی، فحاشی آخری حدود چُھو رہی تھی۔ مقدّس انسانی رشتوں کا احترام ختم ہو چُکا تھا۔ رقص و سرود، عیش و عشرت، شراب و شباب اُن کی زندگیوں کے لازمی جز بن چُکے تھے۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے اُس قوم ہی میں سے ایک خدا ترس اور بہت نیک انسان، حضرت صالح علیہ السّلام کو نبوّت کے منصب پر فائز فرمایا۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ’’اور ہم نے (قومِ) ثمود کی طرف اُن کے بھائی صالح ؑکو بھیجا۔‘‘ (سورۂ اعراف73:)۔دیگر نبیوں کی طرح حضرت صالح علیہ السّلام نے بھی اپنی قوم کو راہِ راست پر لانے کی بہت کوشش کی۔ وہ دن رات اُنھیں سمجھاتے رہے کہ ’’اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ اسی نے تم کو پیدا کیا اور آباد کیا، تو اس سے مغفرت مانگو اور اس کے آگے توبہ کرو۔ بے شک میرا پروردگار نزدیک (بھی ہے اور دُعا کا) قبول کرنے والا (بھی) ہے۔‘‘ (سورۂ ہود61:)۔ اس پر قوم اُن کے خلاف ہو گئی اور یوں گویا ہوئی’’اُنہوں نے کہا اے صالح ؑ! اس سے پہلے ہم تم سے (کئی طرح کی) اُمیدیں رکھتے تھے (اب وہ منقطع ہو گئیں) کیا تم ہم کو ان چیزوں سے منع کرتے ہو، جن کو ہمارے بزرگ پوجتے چلے آئے ہیں اور جس بات کی طرف تم ہم کو بلاتے ہو، اس میں ہمیں قوی شبہ ہے۔‘‘ (سورۂ ہود62:)۔

معجزے کی فرمائش

حضرت صالح علیہ السّلام کی مسلسل وعظ و نصیحت اور اس کے نتیجے میں غریب لوگوں کا ایمان لانا قومِ ثمود کے سرداروں کے لیے تشویش کا باعث تھا۔ دراصل غرور و تکبّر کی دلدل میں دھنسے یہ لوگ اس بات کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی عام آدمی اس طرح محفلوں اور چوک، چوراہوں پر کھڑا ہو کر اُن کے آبائواجداد کے خدائوں کی نفی کرے اور صرف ایک اَن دیکھے ربّ کی عبادت کی بات کرے۔ چناں چہ اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لیے سب سردار سر جوڑ کر بیٹھے اور پھر متفّقہ طور پر ایک نتیجے پر پہنچنے کے بعد اُنہوں نے حضرت صالح علیہ السّلام کو بلایا اور کہا ’’اے صالح ؑ! اگر تم اللہ کے سچّے پیغمبر ہو، تو ہم کو کوئی ایسا معجزہ دِکھائو، جسے دیکھ کر ہمیں تم پر یقین آ جائے۔‘‘ حضرت صالح علیہ السّلام نے فرمایا ’’اے میری قوم کے لوگو! تم کیا معجزہ دیکھنا چاہتے ہو؟‘‘ اُنہوں نے کہا کہ’’ہم چاہتے ہیں کہ یہ جو سامنے چٹان ہے، اس میں سے ایک ایسی اونٹنی برآمد کرو، جو گابھن ہو، بچّہ دے، ہم سب کے لیے دودھ مہیا کرے اور اس میں فلاں فلاں خُوبیاں ہوں۔‘‘حضرت صالح علیہ السّلام نے اُن سے فرمایا’’اگر مَیں تمہاری شرط پوری کر دوں، تو کیا تم اللہ پر ایمان لے آئو گے؟‘‘ اُنہوں نے جواب دیا ’’ہاں، ہم تمہارے ربّ پر ایمان لے آئیں گے۔‘‘ حضرت صالح علیہ السّلام نے اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دُعا فرمائی اور اپنی قوم کی فرمائش پوری کرنے کی التجا کی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی دُعا قبول فرمائی اور دیکھتے ہی دیکھتے چٹان شق ہو گئی اور اُس میں سے ایک طویل القامت، خُوب صورت اونٹنی برآمد ہوئی، جس میں وہ سب خوبیاں تھیں، جن کی قومِ ثمود نے فرمائش کی تھی۔ یہ محیّرالعقول منظر دیکھ کر قومِ ثمود لاجواب ہو گئی۔ اس موقعے پر قوم کے سرداروں میں سے ایک، جندع بن عمرو بن محلات بن لبید اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ایمان لے آیا، لیکن اکثریت اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہی اور اسے جادو کا کمال ظاہر کرتی رہی۔ اس موقعے پر حضرت صالح ؑنے اپنی قوم سے فرمایا ’’اے میری قوم! یہ ناقۃ اللہ (یعنی اللہ کی بھیجی ہوئی اونٹنی) ہے، جو تمہارے لیے ایک معجزہ ہے۔ اب تم اسے اللہ کی زمین میں کھاتی ہوئی چھوڑ دو اور اسے کسی طرح کی تکلیف نہ دینا، ورنہ اللہ کا عذاب تمہیں فوری پکڑ لے گا۔‘‘ (سورۂ ہود64:)۔ اونٹنی اور اس کا بچّہ سارا دن نخلستان میں چَرتے رہتے تھے، سب قبیلے والے پیٹ بھر کر اونٹنی کا دودھ پیتے، لیکن وہ کم نہ ہوتا۔حضرت صالح ؑنے کنویں کے پانی کو بھی تقسیم کر دیا تھا۔ ایک دن اونٹنی پانی پیتی تھی اور ایک دن ثمود کے لوگ۔ جب اونٹنی پانی پینے آتی، تو وہ کنویں کا سارا پانی پی جاتی۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’صالح ؑنے اپنی قوم سے کہا (دیکھو) یہ اونٹنی ہے (ایک دن) اس کی پانی پینے کی باری ہے اور ایک معیّن روز تمہاری باری۔ اور اس کو کوئی تکلیف نہ دینا، (نہیں تو) تم کو سخت عذاب آ پکڑے گا۔‘‘ (سورۂ الشعراء156:،155)۔

اونٹنی کا قتل

کچھ ہی عرصے بعد قومِ ثمود کو اونٹنی کی موجودگی کھٹکنے لگی۔ اُنہیں اپنے ہرے بھرے نخلستانوں میں آزادی سے گھومتی پِھرتی اونٹنی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور جب وہ یہ دیکھتے کہ اپنی باری آنے پر اونٹنی ایک ہی سانس میں پورے کنویں کا پانی پی جاتی ہے، تو حیران ہو کر اسے جادو سے تشبیہ دیتے۔ آخرکار شیطان کے اکسانے پر اُنہوں نے اونٹنی سے جان چھڑوانے کی تدابیر سوچنی شروع کر دیں اور اس کا ایک ہی حل تھا کہ اُسے ہلاک کر دیا جائے، مگر کیسے؟ قومِ ثمود کے سردار یہ کام خود اپنے ہاتھوں انجام دینے کو تیار نہ تھے۔سو، اُنہوں نے دو نہایت اونچے اور مال دار خاندان کی آزاد منش عورتوں کو راضی کیا کہ وہ قوم کے کسی نوجوان سے یہ کام کروائیں،جس پراُن عورتوں نے دو اوباش اور شراب و شباب کے رسیا نوجوانوں کو اونٹنی کے قتل پر آمادہ کیا، جن کے ساتھ مزید سات اوباش نوجوان شامل ہوگئے۔ قرآنِ پاک کی سورۂ نمل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح ؑ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا’’شہر میں نو افراد کی ایک جماعت تھی، جو مُلک میں فساد مچاتے پِھرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔‘‘ (سورۂ نمل48:)۔اور پھر حسبِ پروگرام ایک دن یہ 9 افراد اونٹنی کے انتظار میں کنویں کے پاس گھات لگا کر بیٹھ گئے، جب کہ قوم کے لوگ اللہ کے عذاب کے ڈر سے چُھپ کر یہ منظر دیکھنے لگے۔ جب اونٹنی کنویں کے قریب آئی، تو مصدع نامی شخص نے تیر چلایا، جو اُس کی پنڈلی میں پیوست ہو گیا اور ٹانگ سے خون کا فوّارہ جاری ہو گیا۔ اونٹنی کو زخمی دیکھ کر باقی لوگ خوف زَدہ ہو کر پیچھے ہٹ گئے۔ یہ منظر دیکھ کر دونوں عورتیں آگے بڑھیں اور مَردوں کو بُرا بھلا کہنا شروع کردیا، جس پر قبیلے کا سب سے قوی شخص، قدار بن سالف آگے بڑھا اور تلوار کے ایک بھرپور وار سے اونٹنی کی کونچیں (یعنی پچھلے پائوں کے اوپر کا حصّہ) کاٹ ڈالیں۔ اونٹنی شدید زخمی ہو کر زمین پر گر پڑی اور ایک زوردار چیخ ماری۔ اسی اثناء میں زخمی اونٹنی کو گھیرے میں لے کر اُس پر نیزوں اور تلواروں کے لاتعداد وار کیے گئے، جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔ اُدھر اس کا بچّہ بھاگتا ہوا پہاڑ پر چڑھا اور چیخیں مارتا غائب ہو گیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اُن درندوں نے پیچھا کر کے اُسے بھی مار ڈالا۔ (واللہ اعلم)۔

حضرت صالح ؑ کے قتل کا پروگرام

اونٹنی کے قتل کے بعد جب ان لوگوں نے دیکھا کہ کوئی عذاب نازل نہیں ہوا، تو مارے خوشی کے دیوانے ہوگئے اور جشن مناتے ہوئے چیخ چیخ کر حضرت صالح ؑکو چیلنج کرنے لگے کہ’’ تم جس عذاب سے ڈراتے ہو، اُسے لا کر دِکھائو۔‘‘ قرآنِ پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’آخر اُنہوں نے اونٹنی (کی کونچیں) کاٹ ڈالیں اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح ؑ جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (اللہ) کے پیغمبر ہو، تو اسے ہم پر لے آئو۔‘‘ (سورۂ اعراف77:)۔’’ ناقۃ اللہ‘‘ کے قتل کی خبر سُن کر حضرت صالح ؑآب دیدہ ہو گئے اور فرمایا’’اس بدنصیب قوم کو اب اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا۔‘‘ ادھر ثمود کے لوگوں کی دیدہ دلیری اور جرأت میں مزید اضافہ ہو گیا، اُن کے دل سے ڈر اور خوف نکل چُکا تھا۔ چناں چہ اُنہوں نے اُسی رات حضرت صالح ؑکو بھی قتل کرنے کا پروگرام بنا لیا تاکہ اونٹنی کے ساتھ اُن کا بھی قصّہ ختم ہو جائے۔ وہ نو افراد ایک پہاڑ کی گھاٹی میں چُھپ کر بیٹھ گئے تاکہ جب حضرت صالح ؑوہاں سے گزریں، تو اُنہیں قتل کر دیں ،مگر کائنات کا مالک اللہ، قومِ ثمود کے ہر مکر و فریب اور شیطان کی چال بازیوں سے خُوب واقف تھا۔ چناں چہ پہاڑ سے اُن پر پتھر برسائے گئے ،جن سے وہ سب ہلاک ہو گئے۔ دوسرے دن جب لوگوں کا وہاں سے گزر ہوا، تو دیکھا کہ نو کے نو افراد پتھروں کے نیچے مَرے پڑے تھے۔

عذابِ الٰہی کا نزول

حضرت صالح ؑکو اونٹنی کے قتل کا بڑا غم تھا اور اب اتمامِ حُجّت ہو چُکا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اب عذاب آنا ہی تھا، لہٰذا حضرت صالح ؑنے اپنی قوم کو مطلع فرمایا کہ’’ اب تمہارے پاس عیش و عشرت کے صرف تین دن بچے ہیں، اس کے بعد ایک سخت عذاب تم پر نازل ہو گا۔‘‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’کہ جب اُنہوں نے کونچیں کاٹ ڈالیں، تو (صالح ؑنے) کہا کہ اپنے گھروں میں تین دن (اور) فائدے اٹھا لو۔ یہ وعدہ جھوٹا نہیں ہے۔‘‘ (سورۂ ہود65:)۔ حضرت صالح ؑکی بات سُن کر وہ لوگ ہنسی مذاق اور استہزا کرنے لگے اور طنزیہ استفسار کیا کہ’’ یہ تین دن ہم کیسے گزاریں گے؟‘‘ حضرت صالح ؑنے فرمایا ’’پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہو جائیں گے۔ دوسرے دن رنگ سُرخ ہو جائے گا اور تیسرے دن، تمہارے چہروں پر نحوست پوری طرح عیاں ہو جائے گی یعنی وہ سیاہ پڑ جائیں گے اور چوتھے دن تم پر قہرِ الٰہی نازل ہوگا‘‘۔ اور پھر جب تینوں دن ایسا ہی ہوا، تو وہ خوف زَدہ ہو گئے اور انتظار کرنے لگے کہ اب کس قسم کا عذاب نازل ہونے والا ہے؟ ابھی چوتھے دن کا سورج طلوع ہی ہوا تھا کہ آسمان سے ایک بہت تیز چیخ کی آواز چنگھاڑ کی صُورت بلند ہوئی، جس نے اُن کے کانوں کے پردے پھاڑ دیئے، دل دہلا دیئے۔ چیخ کی آواز کے ساتھ ہی اُن کی روحیں، جسموں کا ساتھ چھوڑنے لگیں اور وہ اپنی اپنی جگہوں پر اوندھے پڑے سسک سسک کر ختم ہونے لگے۔ کچھ ہی دیر میں لاکھوں افراد پر مشتمل نہایت قوی اور طاقت وَر قوم جانوروں کے کھائے ہوئے بُھوسے کی طرح ڈھیر ہو چُکی تھی اور کفر و شرک میں مبتلا، غرور و تکبّر میں ڈوبے لوگوں کا شان دار اور بارونق شہر، شہرِ خموشاں میں تبدیل ہو کر ہمیشہ کے لیے عبرت کا نشان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کا قرآنِ پاک میں ارشاد ہے ’’اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا، اُن کو چنگھاڑ (کی صُورت میں عذاب) نے آ پکڑا، تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ گویا کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے۔ سُن رکھو کہ ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا۔ اور سُن رکھو ثمود پر پھٹکار ہے۔‘‘ (سورۂ ہود68:، 67)۔اللہ تعالیٰ نے اس عذاب سے حضرت صالح ؑاور اُن پر ایمان لانے والوں کو محفوظ رکھا۔ چناں چہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’جب ہمارا حکم آ گیا، تو ہم نے صالح ؑکو اور جو لوگ اُن کے ساتھ ایمان لائے تھے، اُن کو اپنی مہربانی سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے (محفوظ رکھا)۔ بے شک تمہارا پروردگار طاقت وَر (اور) زبردست ہے۔‘‘ (سورۂ ہود66:)۔

نبی کریمﷺ کا وادیٔ ثمود سے گزر

مسند احمد میں حضرت ابنِ عُمرؓ سے مروی ہے کہ9ہجری میں رسول اللہﷺ تبوک جاتے ہوئے جب وادیٔ ثمود سے گزرے، تو آپﷺ نے اس ویران اور اجڑی جگہ کو دیکھ کر صحابہؓ سے فرمایا ’’یہاں سے جلدی سے گزر چلو اور اگر پانی کی ضرورت ہو، تو صرف اس کنویں کا پانی استعمال کرو، جس سے حضرت صالح ؑ کی اونٹنی پانی پیا کرتی تھی۔‘‘ بعض صحابہؓ نے دوسرے کنوئوں سے پانی لے کر آٹا گوندھ لیا تھا، آپﷺ نے اسے پھینکوا دیا۔ اس عرصے میں آپﷺ مسلسل توبہ استغفار کرتے رہے۔ پھر نبی کریمﷺ نے اپنے اصحابؓ کو منع فرمایا کہ’’ قومِ ثمود جو عذاب سے ہلاک ہوئی، اُن کے گھروں اور بستیوں میں نہ جائیں‘‘ اور فرمایا کہ ’’مجھے خوف ہے کہ کہیں تم کو بھی وہی (عذاب) نہ پہنچ جائے، جو اُن کو پہنچا تھا، لہٰذا اُن کے پاس نہ جائو۔‘‘

حضرت صالح ؑ کی عُمر اور مزار

ابنِ کثیرؒ کے مطابق آپؑ کا انتقال دو سو اسّی برس کی عُمر میں ہوا۔ مفسّرین میں اس پر مختلف آراء ہیں کہ قوم پر عذاب کے بعد حضرت صالح ؑنے کہاں قیام فرمایا۔ اکثر نے تحریر کیا کہ ثمود کی ہلاکت کے بعد آپؑ اہلِ ایمان کے ساتھ شام تشریف لے گئے اور پھر فلسطین میں کچھ عرصہ قیام کے بعد مکّہ مکرّمہ آ گئے اور وہیں انتقال ہوا۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ حضرت صالح،ؑ قوم پر عذاب کے بعد عمان (صلالہ) سے دو سو کلومیٹر دُور، ناسک کے مقام پر آباد ہو گئے، جہاں اُن کا انتقال ہوا۔ ناسک میں اُن سے منسوب ایک مزار بھی ہے، جہاں زائرین کثیر تعداد میں فاتحہ کے لیے آتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں