آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی سٹی پارلیمنٹ کی59 نشستوں کے لیے 22 پاکستانی نژاد امیدوار بھی میدان میں آگئے ہیں۔ ان امیدواروں کو مختلف نارویجن سیاسی جماعتوں نے نامزد کیا ہے۔

ناروے میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لیے مہم شروع ہوچکی ہے اور ووٹنگ اور حتمی نتائج سمیت ان انختابات کے تمام مراحل اس سال ستمبر کے اوائل میں مکمل ہوجائیں گے۔

دائیں بازو کی مرکزی حکمران جماعت ’’ہورے پارٹی‘‘ نے پاکستانی پس منظر رکھنے چار امیدوار طلعت محمود بٹ، افشاں رفیق، سعیدہ بیگم اور حسن نواز میدان میں اتارے ہیں جبکہ اپوزیشن لیبرپارٹی نے 9 پاکستانی نژاد امیدوار ڈاکٹرمبشر بنارس، عثمان آصف، ندیم بٹ، ناصر احمد، ماریا قریشی، فرخ قریشی، لبنیٰ مہدی، اویس اسلم اور منصور حسین کو نامزد کیا ہے۔

ان کےعلاوہ بائیں بازو لبرل ’’وینسترے‘‘ پارٹی نے تین امیدوار ٹینا شگفتہ کورنمو، نوازخان اور سارہ زاہد کو متعارف کراویا ہے۔

ان کے علاوہ بائیں بازو کی ’’ایس وے‘‘ پارٹی کی طرف اسد ناصر اور عطیہ مرزا محمود سامنے آئے ہیں۔

ریڈ پارٹی نے فائلہ نواز، رامین شیخ اور صوفیہ رانا کو کھڑا کیا ہے جبکہ گرین پارٹی نے شعیب سلطان کو نامزد کیا ہے۔

مقامی حکومتوں کے سیاسی دنگل میں نئے آنے والے زیادہ تر پاکستانی نژاد امیدواروں کا تعلق نارویجن پاکستانیوں کی دوسری نسل ہے جبکہ اب تیسری نسل بھی نارویجن سیاست میں آنے کے لیے قدم رکھ چکی ہے۔ اس کی ایک عمدہ مثال اوسلو کے مضافات میں ’’لیئر‘‘ کے علاقے کی مقامی اسمبلی کے لیے پاکستانی نژاد یونیورسٹی کی طالبہ محترمہ علیشاء زمان ہیں جنہیں لیبرپارٹی نے اپنا امیدوار نامزد کیا ہے۔

اس سے قبل ان کے دادی محترمہ خالدہ زمان اور والد قذافی زمان (مشہور نارویجن پاکستانی صحافی) اور چچا وقاص زمان بھی مقامی نمائندے کے طور منتخب رہ چکے ہیں۔

علیشاء زمان کے دادا چوہدری محمد زمان جو ستر کی دہائی میں پاکستان کے ضلع گجرات سے ہجرت کرکے ناروے آئے تھے، کہتے ہیں کہ نارویجن پاکستانیوں نے ناروے کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے اور ہماری نوجوان نسل ایک نئے انداز میں اس تسلسل کو جاری رکھے گی۔

اوسلو سٹی کی موجودہ اسمبلی میں چھ پاکستانی نژاد اراکین چوہدری خالد محمود، ڈاکٹر راجہ مبشر بنارس، شعیب سلطان، سعیدہ بیگم، ندیم بٹ اور ناصر احمد اپنی اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کررہے ہیں۔

چوہدری خالد محمود جو اس بار میدان میں نظر نہیں آرہے، اس سے قبل ناروے کی مرکزی پارلمان کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ خالد محمود جو ایک کہنہ مشق نارویجن پاکستانی سیاستدان سمجھتے جاتے ہیں، ایک طویل عرصے سے ناروے کی پارلمانی سیاست سے منسلک ہیں اور ناروے کی سیاست کا گہرا تجربہ رکھتے ہیں۔

ان کے علاوہ ڈاکٹرمبشر بنارس جو ایک بار پھر لیبرپارٹی کی طرف سے نامزد ہوئے ہیں، اوسلو کے گرورود کے علاقے کی ضلعی کونسل کے چیئرمین بھی ہیں ۔

اوسلو کی متحرک سماجی شخصیت اور پاکستان یونین ناروے کے سیکرٹری اطلاعات ملک محمد پرویز مہر کا کہنا ہے کہ ناروے کی قومی پارلیمان اور اوسلو کی سٹی اسمبلی میں گذشتہ چند عشروں سے نارویجن پاکستانیوں کی قابل توجہ نمائندگی ہے اور یہ مقام انہیں بہت محنت کے بعد حاصل ہوا ہے۔

دو نارویجن پاکستانی اختر چوہدری اور عابد قیوم راجہ اب تک ناروے کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر رہ چکے ہیں جبکہ دریمن شہر کے ڈپٹی میئر سید یوسف گیلانی بھی پاکستانی پس منظر رکھتے ہیں۔

ناروے کے دارالحکومت اوسلو کی شہری اسمبلی یا سٹی پارلیمنٹ ملک کے طول و عرض میں قائم مقامی حکومتوں میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس وقت اس اسمبلی میں مرکزی اپوزیشن لیبرپارٹی کو 20، حکمران جماعت ہورے کو 19، گرین پارٹی کو 5، پروگریس پارٹی کو 4، وینسترے پارٹی کو 4، ریڈ پارٹی کو 3، ایس وے کو 3 اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک نشست حاصل ہے۔

اوسلو کے موجودہ مقامی حکومت کے سربراہ ریمانڈ جوہانسن کا تعلق لیبرپارٹی سے ہے جبکہ اوسلو شہر کی میئر مریانہ بورگن کا تعلق ایس وے پارٹی سے ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں