آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 21؍ ذوالحجہ 1440ھ23؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں، اپوزیشن ارکان نشستوں پہ کھڑے ہو کر حکومت مخالف نعرے لگاتے رہے، گیس کے بل پھاڑ کر ایوان میں لہرا دئیے گئے، حکومتی وزرا کی اپوزیشن پہ سخت تنقید، حکومت اور اپوزیشن ارکان کی ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی، اپوزیشن نےا سپیکر کے ڈائس کا گھیراؤ کر لیا، چند ارکان اسپیکر ڈائس پہ چڑھ گئے، اپوزیشن کے احتجاج ختم نہ کرنے پہ اسپیکر نے قومی اسمبلی اجلاس ملتوی کر دیا۔ سینیٹ میں بھی اپوزیشن ارکان کی سخت ہنگامہ آرائی، حکومت کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے الزامات۔ یہ منظر نامہ تھا 26فروری کی صبح بھارت کی طرف سے بالا کوٹ کے ملحقہ علاقے جابہ میں بزدلانہ کارروائی کرنے کی ناکام کوشش سے پہلے کا، اپوزیشن نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پہ پارلیمنٹ میں ہنگامہ برپا کیا ہوا تھا۔ حکومت پارلیمانی کارروائی چلانے کے لیے اپوزیشن کے سامنے بے بس تھی۔ دوسری طرف قومی اسمبلی میں قائد ایوان عمران خان بھی اپنے لب ولہجے میں کوئی تبدیلی لانے کے لیے تیار نہ تھے اور جو باتیں وہ پارلیمنٹ کے کسی ایوان میں آکر نہیں کر سکتے تھے وہ عوامی تقاریب میں بدستور کئے جا رہے تھے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان احتساب کے معاملے پہ

گزشتہ چھ ماہ سے جاری محاذ آرائی رواں قومی اسمبلی اور سینیٹ اجلاس کے دوران بھی پورے زور و شور سے جاری تھی۔ کوئی فریق صلح جوئی کے لیے تیار تھا اور نہ ہی کسی طرف سے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ دیکھنے کو مل رہا تھا۔ اسی کشیدگی کے باعث پارلیمان کوئی قابل ذکر قانون سازی نہیں کر سکا، سینیٹ سے منظور کئے جانے والے کئی اہم بلز تاحال قومی اسمبلی سے منظوری کے منتظر ہیں لیکن فریقین کو سوائے طعنہ زنی کے کوئی فکر لاحق نہ تھی، حکومت اور اپوزیشن میں کوئی یہ تک سوچنے کی زحمت کرنے کو تیار نہ تھا کہ ان کی اس اٹھک بیٹھک اور بدزبانی کا خمیازہ بھی انہیں پارلیمنٹ تک ہنچانے والے عوام کے ادا کردہ ٹیکسوں کے پیسے کے زیاں کی صورت میں اسی قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اگر عوام کو صرف یہ معلوم ہو جائے کہ صرف ایک دن کے قومی اسمبلی کے اجلاس کے انعقاد پہ کتنا پیسہ خرچ ہوتا ہے تو وہ ایسے افراد کےانتخاب سے پہلے ہزار بار سوچیں۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کشیدگی کے اسی ماحول میں 26فروری کو پو پھوٹنےسے پہلے بھارتی طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی لیکن پاک فضائیہ کے شاہینوں کے اڑان بھرتے ہی دم دبا کر بھاگ نکلے، یہی وہ لمحات تھے جب پاکستان کی پوری قوم مشکل کی ہر گھڑی کی طرح ایک مٹھی کی شکل اختیار کر گئی، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بھارت جیسے گھٹیا دشمن کو رات کی تاریکی میں وار کرنے کی کوشش پہ سبق سکھانے کے لیے کوئی تفریق نہ رہی، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے آستینیں چڑھانے والے حکومت اور اپوزیشن کے رہنما شیر و شکر ہو گئے، تمام اختلافات کو پس پشت ڈال دیا گیا، پوری قوم مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی اور اسی قوم کا سر فخر سے بلند کرنے کے لیے چند ہی گھنٹوں میں شاہینوں نے دو بھارتی طیاروں کو گرا کر انتہا پسند مودی کا غرور خاک میں ملا دیا، پاکستان کی حدود میں گرنے والے مگ 21طیارے کے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نندن کو حراست میں لے کر مودی کی گیدڑ بھبکیوں کا پردہ بھارتی عوام کے ساتھ دنیا کے سامنے بھی چاک کر دیا۔ بچوں اور خواتین سمیت مقبوضہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے دہشت گرد مودی کو یہ باور کرانے کے لیے کہ جب بھی مادر وطن کے دفاع کی بات ہو گی تو کوئی حکومت ہو گی اور نہ اپوزیشن، نہ پاکستان تحریک انصاف نظر آئے گی نہ پاکستان مسلم لیگ ن، نہ پاکستان پیپلز پارٹی کا وجود ہو گا اور نہ ہی متحدہ مجلس عمل کا بلکہ سب ایک ہی جھنڈا اٹھائے کھڑے ہوں گے اور وہ ہو گا سبز ہلالی پرچم۔ مکار دشمن کے خلاف اس یک جہتی کا نظارہ قومی اسمبلی اجلاس میں دیکھنے کو ملا اور جیسے ہی اپوزیشن نے بھارتی جارحیت سے نمٹنے اور مادر وطن کے دفاع سے متعلق اقدامات جاننے کے لیے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے انعقاد کا مطالبہ کیا تو حکومت نے فوری طور پہ نہ صرف عمل کیا بلکہ ملک کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کے لیے ان کیمرا بریفنگ کا اہتمام بھی کر ڈالا، صورتحال کی حساسیت کے پیش نظر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرنز کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری بھی اسلام آباد پہنچ گئے۔ پاکستان کو بھارت کی آنکھوں میں کھٹکنے والی ایٹمی قوت بنانے والے کوٹ لکھپت جیل میں قید سابق وزیراعظم نوازشریف نے وطن کی خاطر خون کا آخری قطرہ تک بہانے اور ہر پل حکومت کو آڑے ہاتھوں لینے والے مولانا فضل الرحمان نے پاک فوج کی بھرپور حمایت کرنے کے بیانات جاری کئے۔ گاہے بگاہے حکومتی رویے پہ تنقید کرنے والی مریم نواز اور عمران خان کی گورننس پہ سوالات اٹھانے والے اسفندیار ولی بھی مادر وطن کا دفاع کرنے والے جوانوں کو خراج تحسین پیش کرنے لگے۔ وزیراعظم عمران خان نے پہلے بھارتی طیاروں کی طرف سے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی پہ قوم کو اعتماد میں لیا جبکہ نیشنل کمانڈر اتھارٹی کے خصوصی اجلاس میں مسلح افواج کو دفاعی کارروائی کی اجازت دینے کے فیصلے بعد اگلے ہی دن دوسری بار نہ صرف قوم کو اعتماد میں لیا بلکہ حسن صدیقی جیسے بہادر سپوتوں کے ہاتھوں لگے زخم چاٹنے والے مودی کو ایک بار پھر امن کا پیغام دے کر مدبرانہ قیادت کا ثبوت بھی پیش کیا۔ مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپوزیشن کو تمام تر صورتحال بارے خود تفصیلی بریفنگ دی، سیاسی رہنماؤں کی طرف سے کسی بھی چیز کی مزید وضاحت پہ انہیں مکمل طور پہ مطمئن کیا۔ اس دوران اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کی ان کیمرا بریفنگ میں عدم شرکت اور ڈیڑھ گھنٹہ انتظار کرائے جانے جیسی نا خوشگوار صورتحال پہ بھی بردباری کا مظاہرہ کیا اور کوئی رد عمل نہیں دیا۔ وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت اور اپوزیشن کے تعاون پہ انہیں خراج تحسین پیش کر کے بھارت کے خلاف حکومت اور اپوزیشن کے یک جان دو قالب ہونے کا ثبوت دے دیا جس پہ پارلیمنٹ میں متفقہ قراردادکی منظوری نے مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اپوزیشن نے وزیر اعظم کی طرف سےزیر حراست بھارتی پائلٹ کو فوری رہا کرنے کے اعلان اور مشترکہ اجلاس میں دوسرے روز شرکت نہ کرنے کے فیصلے پہ تحفظات کے باوجود تنقید نہ کر کے مزید بردباری کا مظاہرہ کیا جبکہ فیصل واوڈا اور زرتاج گل جیسے وزرا کی نا تجربہ کاری اور رنگ میں بھنگ ڈالنے کی باتوں کو بھی نظر انداز کر کے سیاسی بصیرت کا شاندار نمونہ پیش کیا۔ اپوزیشن کی طرف سے حکومت کی غیر مشروط حمایت سے پیدا ہونے والے اس خوشگوار ماحول اور اتحاد کو برقرار رکھنا اب حکومت کا فرض ہے اور حکومت کو ذہن نشین رہنا چاہئے کہ اتحاد میں ہی برکت ہے۔