آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارتی جارحیت کے خلاف اور پاک فوج سے اظہاریکجہتی کے لیے سندھ بھر میں مذہبی، سیاسی جماعتوں، انجمنوں، تاجروں، طلبہ ،برادریوں، وکلاء ، اساتذہ نے کراچی، حیدرآباد، سکھر، خیرپور، میرپورخاص، روہڑی، جیکب آباد سمت دیگر شہروں میں ریلیاں نکالی، اتحادویکجہتی کا مثالی مظاہرہ طویل عرصے بعد دیکھنے میں آیا کراچی میں جماعت اسلامی، مہاجرقومی موومنٹ، وحدت المسلمین، پی ایس پی، جے یو آئی، شیعہ علماء کونسل، سنی تحریک، ملی مسلم لیگ، تحریک لبیک، پی پی پی، تحریک انصاف سمت مدارس کے طلبہ نے ریلیاں نکالی جہاں فضا پاکستان زندہ باد، افواج پاکستان زندہ باد، کشمیربنےگا پاکستان اور بھارت مردہ باد کے نعروں سے گونجتی رہی تمام سیاسی ، مذہبی جماعتیں طویل عرصے بعد ایک پیج پر نظرآئیں جماعت اسلامی کراچی کے تحت جیل چورنگی تا مزارقائد تحفظ پاکستان ریلی نکالی گئی جس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کراچی کے امیرحافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ پوری قوم اورافواج پاکستان بھارت کی جارحیت کے مقابلے کے لیے متحد اور تیار ہے بھارت نے حملہ کیا تو اسے منہ کی کھانی پڑے گی مہاجرقومی موومنٹ کی جانب سے بھارتی جارحیت اور افواج پاکستان سے اظہاریکجہتی کے لیے استحکام پاکستان ریلی نکالی گئی، ریلی کے شرکاء کاروں، بسوں اور موٹرسائیکلوں پر شاہراہ فیصل سے ہوتے ہوئے جب مزارقائد پہنچے تو اس وقت کارکنوں اور وہاں موجود عوام کا جوش وخروش دیدنی تھا، مہاجرقومی موومنٹ کے کارکنان بھارت کے خلاف اور پاک فوج کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے، ریلی کے شرکاء نے مودی کے پتلے کو آگ بھی لگائی، اس موقع پر مہاجرقومی موومنٹ کے رہنماؤں، وائس چیئرمین شاہد فراز، جنرل سیکریٹری عارف اعظم نے ریلی کے شرکاء سے خطاب کیا۔ادھر احتساب عدالت نے آمدن سے زیادہ اثاثوں کے کیس میں گرفتار اسپیکر اسمبلی آغاسراج درانی کے جسمانی ریمانڈ میں گیارہ مارچ تک توسیع کردی احتساب عدالت کو نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایاکہ آغاسراج درانی روزانہ اسمبلی جاتے ہیں جس کی وجہ سے تفتیش میں مشکلات پیش آرہی ہے آغاسراج درانی کاکہنا تھا کہ نیب ان سے بہترسلوک نہیںکررہا وہ دو بار اسپیکر اورتین بار قائم مقام گورنر رہ چکے ہیں ان کے ملازمین تک کو تنگ کیا جارہا ہے آغاسراج درانی کی گرفتاری کے بعد ان کے بھائی نے بھی ضمانت کرالی ہے۔ جبکہ قومی احتساب بیورو نے جوڈیشل مجسٹریٹ کی نگرانی میں اسپیکرسندھ اسمبلی آغاسراج درانی کے لاکرتوڑ کر اہم دستاویزات اور کروڑوں روپے مالیت کی غیرملکی کرنسی برآمد کرلی ہے آغاسراج درانی کی گرفتاری کے بعد محکمہ بلدیات کے 24 افسران سے بھی تفتیش کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ محکمہ بلدیات کے ملازمین کے دس سالوں کے اثاثوں کی بھی چھان بین اور جانچ کی جائے گی یہ بھی کہاجارہا ہے کہ نیب نے پی پی پی کے مزید چار رہنماؤں سابق وزیر اسپورٹس اعجازخان جاکھرانی ،وزیرجیل خانہ جات منظوروسان، سابق وزیر داخلہ انورسیال اور سابق وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کو بھی گرفتار کرنے کافیصلہ کیا ہے ۔ان رہنماؤں کے خلاف تحقیقات مکمل کرلی ہیں، اگلے چند ہفتوں میں انہیں گرفتار کیا جائے گا۔ قائم علی شاہ پر سرکاری زمینوں کی الاٹمنٹ میں بے قاعدگیوں کا الزام ہے، جبکہ منظور وسان، انورسیال اور اعجازجاکھرانی پر آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا الزام ہے۔ ذرائع نے بتایاہے کہ ان افراد کی گرفتار کی سمری چیئرمین نیب کو نیب کراچی نے ارسال کردی ہے۔دوسری جانب نیب نے پاکستان پیپلزپارٹی کے سابق ارکان اسمبلی کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے سے متعلق تحقیقاتی عمل تیز کردیا ہے۔ نیب نے وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی بننے والے اعجازجاکھرانی کو 6 مارچ کو طلب کرلیا ۔ضیاالحسن لنجار کو ارسال کئے گئے سوال نامے پر 15 دن میں جواب مانگ لیاگیا۔ نیب ذرائع نے بتایاکہ اعجازجاکھرانی کو نیب سکھر کی طرف سے نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ انہیں وزیراعلیٰ سندھ کا معاون خصوصی بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔ اس پرگورنرہاؤس نے اعتراض کیا تھا۔ نیب سکھر کے حکام کے سامنے سندھ کے سابق وزیرقانون وجیل خانہ جات ضیاء الحسن لنجار پیش ہوئے اور حیثیت سے زائد اثاثے بنانے، اختیارات کے ناجائز استعمال اوربدعنوانی کیس کی انکوائری میں نیب حکام نے ان سے سوالات کئے۔ سابق صوبائی وزیر نے 15 دن کی مہلت مانگی، چند روز میں مزید ارکان اسمبلی کو نوٹس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ پی پی پی نیب کارروائیوں کا سامنا کس طرح کرتی ہے ادھر کراچی کے رہائشیوں کے لیے خوش کن اطلاعات یہ ہے کہ پی ایس ایل کے بقیہ تمام میچز کراچی میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے کراچی سمت سندھ بھر میں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے بھارتی جارحیت کے بعد سیکورٹی سخت کردی تھی کراچی میں تمام پی ایس ایل میچز کرانا سندھ حکومت کے لیے چیلنج ہے جس کے لیے وہ تیار ہے وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ پی ایس ایل کی کامیابی کے لیے مجھے اس حوالے سے ہر شخص کا تعاون درکار ہے دیکھنایہ ہے کہ سندھ حکومت اس چیلنج سے کس طرح نبردآزما ہوتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں