آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑھتی مہنگائی اور معاشی سست روی کےدور میں پیسے بچانا کوئی آسان کام نہیں۔ عمومی اخراجات کے علاوہ، ہر آئے دن غیرمتوقع اخراجات سامنے آجاتے ہیں، جو ماہانہ بجٹ کو ڈانواں ڈول کرکے رکھ دیتے ہیں۔ تاہم عمومی طور پر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ خاتونِ خانہ کو ان حالات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ مہینے کے بجٹ کو کس طرح کامیابی کے ساتھ تشکیل دینا ہے تاکہ آخری تاریخوں میں ہاتھ تنگ نہ ہو اور کسی ضروری کام کو اگلے مہینے تک ملتوی نہ کرنا پڑے۔ خواتین، اپنے روز مرہ اخراجات میں کن طریقوں سے پیسوں کی بچت کرسکتی ہیں، آئیے جانتے ہیں۔

ڈسکاؤنٹس پر خریداری کریں

اگر آپ بڑے سپر اسٹور یا ریٹیل چین سے خریداری کرتی ہیں تو وہاں ہر آئے دن مختلف ڈسکاؤنٹس اور کوپونز کی پیشکش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ میعاد پوری ہونے کے قریب والی کئی مصنوعات سستے داموں فروخت کے لیے دستیاب ہوتی ہیں۔ ملک کے بڑے اخبارات (جیسے روزنامہ جنگ) میں مختلف اسٹورز اور آؤٹ لیٹس پر دستیاب ڈسکاؤنٹس سے متعلق تشہیربھی شائع ہوتی ہے، ان پر نظر رکھیں، جبکہ آپ ای میل پر بھی ان سروسز کو سبسکرائب کرسکتی ہیں، جن کے ذریعے مختلف ڈسکاؤنٹس سے متعلق باخبر رہا جاسکتا ہے۔

پُرانی چیزیں آن لائن فروخت کریں

بچے بہت تیزی سے بڑے ہوتے ہیں اور ابھی ان کے کپڑے نئے نئے ہی ہوتے ہیں کہ وہ ان کے لیے چھوٹے پڑجاتے ہیں۔ ایسے کپڑوں کو گھر کے کسی کونے میں پھینک کر ان پر مٹی کی تہہ جمنے کا انتظار کرنے کے بجائے آپ انھیں ’’فیس بک مارکیٹ پلیس‘‘اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فروخت کرسکتی ہیں۔ صرف کپڑے ہی کیوں، اگر چاہیں تو آپ وہاں بچوں کے استعمال شدہ کھلونے، کتابیں اور دیگر چیزیں بھی بیچ سکتی ہیں۔ اس طرح آپ نہ صرف کچھ اضافی آمدنی حاصل کرسکتی ہیں بلکہ اپنے گھر کو بے ترتیبی سے محفوظ رکھتے ہوئے اسے صاف ستھرا بھی رکھ سکتی ہیں۔

کریڈٹ کارڈ کی اہمیت

کریڈٹ کارڈ اگر طریقے سے استعمال کیا جائے تو اس کے کئی فوائد بھی ہیں۔ کئی بینکس سپر اسٹورز، آؤٹ لیٹس اور ریستوران کے لیے اپنے کریڈٹ کارڈز پر نہ صرف زبردست ڈسکاؤنٹ آفر کرتے ہیں بلکہ خریداری پر آپ کو پوائنٹس بھی دیے جاتے ہیں۔

گھر کی کافی پینابہتر ہے

اگر آپ روزانہ یا اکثر اوقات دفتر جاتے ہوئے راستے سے اپنے لیے کافی لیتی ہیں تو اس عادت کو ختم کریں اور کافی گھر پر تیار کرنے کا بندوبست کریں۔ کافی چاہیں تو گھر پر پیئیں یا پھر اپنے لیے کوئی ایک خوبصورت سا ’ٹریول مگ‘ خریدیں اور راستے بھر اس کافی کو انجوائے کرتی جائیں۔ اس طرح مہینے بھر میں آپ پیسوں کی بچت کرپائیں گی۔

’ریٹائرمنٹ سیونگ‘ میں اضافہ کریں

بجلی اور گیس کے بلوں، اسکول کی فیس، قرضوں کی ادائیگی، کار کی قسطوں اور گروسری کی خریداری کے بعد مستقبل کے لیے پیسے بچاکر رکھنا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس بات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لیے رقم درکار ہوگی۔ ماہرین کہتے ہیں کہ اگر آپ اپنی تنخواہ میں سے5فی صد ریٹائرمنٹ فنڈ میں ڈالتی ہیں تو اسے 6فی صد کردیں۔ ایک فی صد اضافے سے آپ کے ماہانہ بجٹ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن اس کے طویل مدتی فوائد قابلِ ذکر ہوں گے۔

بےکار اشیا کا متبادل استعمال

آپ نے وہ کہاوت تو سُنی ہوگی کہ ’’ایک شخص کا کچرا دوسرے شخص کا خزانہ ہوسکتا ہے‘‘۔ مثلاً ٹِن پیک میں خریدی گئی کئی اشیا کے استعمال شدہ ڈبوں کو آپ اسٹیشنری آرگنائیزر اور اِسنیک کنٹینر کے طور پر استعمال کرسکتی ہیں۔ اسی طرح بڑے شاپرز کو پھینکنے کے بجائے، انھیں آپ اپنے بچوں کے ہینگر میں ٹانگے گئے کپڑوں کی جیکٹ کے طور پر بھی استعمال کرسکتی ہیں۔ اس طرح آپ نہ صرف اپنے گھر کو بہتر انداز میں منظم رکھ سکیں گی، بلکہ آپ انھیں کچرے میں نہ پھینک کر ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی کا باعث بنیں گی۔

گروسری لسٹ تیار کریں

گروسری لسٹ، آپ کا پیسہ اور وقت دونوں بچاتی ہے۔ سپر اسٹور میں داخل ہونے کے بعد جب شاپنگ لسٹ آپ کے سامنے ہوتی ہے تو آپ کو پتہ ہوتا ہے کہ کون سی چیز کس جگہ رکھی ہوسکتی ہے، اس طرح آپ اپنے سامنے آنے والی ہر چیز خریدنے سے بچ جاتی ہیں۔

سیزن کے پھل اور سبزیاں خریدیں

سیزن کے پھل اور سبزیاں خریدنے سے آپ نہ صرف غذائیت حاصل کرتی ہیں بلکہ ان کی قیمتیں بھی نسبتاً مناسب ہوتی ہیں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوتا ہے کہ آپ فینسی پیکیجنگ میں دستیاب کئی امپورٹڈ اور کولڈ اسٹوریج والی چیزیں خریدنے سے محفوظ رہتی ہیں، جو کہ کافی مہنگی بھی ہوتی ہیں۔ اس طرح آپ ہر سال ہزاروں روپے بچا سکتی ہیں۔

گاڑی کا استعمال

یہ ایک مشکل ایڈجسٹمنٹ ہے، تاہم اس کے سالانہ فوائد لاکھوں روپے کی بچت کی صورت میں نکل سکتے ہیں۔ یا تو اپنی گاڑیوں کے سائز کو کم کریں یا پھر ہر فیملی ممبر کے لیے ایک علیحدہ گاڑی کے بجائے ’’ایک فیملی ایک گاڑی‘‘ کی پالیسی اختیار کریں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی گاڑی کا استعمال کیا ہوتا ہے۔ دفتر ڈراپ ہونے کے بعد آپ کی گاڑی سارا دن پارکنگ لاٹ میں کھڑی رہتی ہے۔ آپ ایک Family sharedگاڑی رکھ کر فیول اور منٹیننس کی مد میں سالانہ 2سے 4لاکھ روپے تک کی بچت کرسکتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں