آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍شوال المکرم 1440ھ 27؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیرون ممالک کے مقابلے میں پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو یہ تاثرعام ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت اعلیٰ صلاحیتیں رکھنے کے باوجود ،وسائل کی کمی،بے روزگاری ،جانبداری اور نظام کی خرابی کے سبب بہتر انداز میں اپنا کردارادا نہیں کر پاتی۔ یہ بات کسی حد تک غلط بھی نہیں تاہم کم وسائل، کرپشن اور بدعنوانی جیسے مسائل ہونے کے باوجود آج بھی بیشترپاکستانی نوجوان ایسے ہیں، جو کامیابی کی منازل زینہ بہ زینہ طے کرتے ہوئے ملک وقوم کا نام روشن کررہے ہیں۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے احمدسایا ایک ایسے ہی نوجوان ہیں، جنہیں پیشے کے اعتبا ر سے استاد کا درجہ حاصل ہے۔ تدریس کے پیشے سے حد درجہ لگاؤ، انتھک محنت اور طلبہ کو معاشرے کا فعال اور ذمہ دار شہری بنانے کےلیے پرعزم احمدسایا رواں برس دنیا کے ’’سب سےمحنتی اور پُر خلوص استاد‘‘ (Most Dedicated Teacher) کا اعزاز اپنے نام کرچکے ہیں۔

احمد سایا کو رواں برس دنیا کے بہترین اور محنتی استاد کا اعزاز معروف ترین کیمبرج یونیورسٹی کے’’کیمبرج یونیورسٹی پریس‘‘ کی جانب سے نوازا گیا۔ ہر سال کیمبرج یونیورسٹی کی جانب سے دنیا کے سب سے زیادہ پُرخلوص (Dedicated) ٹیچر کے ایوارڈ کے لیے عالمی مقابلے کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی پریس کے مطابق دنیا کے محنتی ترین استاد کے انتخاب کے لیے آن لائن ووٹنگ کا سلسلہ یکم اکتوبر2018ء سے شروع کیا گیا تھا، جس میں دنیا بھر کے طالب علموں کو اپنے پسندیدہ اساتذہ کی نامزدگیوں کے لیے مدعو کیا گیا۔ ان نامزدگیوں کا سلسلہ اکتوبر سے دسمبر تک جاری رہا۔ پہلے مرحلے میں آن لائن ووٹنگ کے ذریعے دنیا بھر کے 140 ممالک سے تعلق رکھنے والےچار ہزار اساتذہ کے نام ایوارڈ کے لیے نامزد کیے گئے۔ اگلے مرحلے اور شارٹ لسٹ کی تیاری کے لیےکیمبرج یونیورسٹی پریس کی جانب سے موجودہ ٹیچرز، ماہرین تعلیم اور مصنفین پر مشتمل پینل، کیمبرج یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی پریس کے بورڈ اراکین کا انتخاب کیا گیا۔ جنھوں نے ہزاروں کی تعداد میں سے پہلے مرحلے میں 50اور پھر دوسرے مرحلے میںصرف 6اساتذہ کا نام شارٹ لسٹ کیا، جو تدریسی شعبے کا معیار بہتر بنانے، طالب علموں کا مستقبل سنوارنے اور انھیں معاشرے کا فعال شہری بنانے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں۔

آخری مرحلے میں شارٹ لسٹ کیے گئے 6اساتذہ میں ابھینندن بھٹاچاریا (انڈیا)،انتھونی چیلیاہ(سری لنکا )، کینڈس گرین(آسٹریلیا)، جمرے ڈیپن(فلپائن) اورشیرون کونگ فونگ(ملائیشیا) جبکہ پاکستان سے احمد سایا شامل تھے۔ ان 6ممالک سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کے درمیان مقابلہ بے حد سخت رہا، دنیا بھر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعدا د نے آن لائن ووٹ درج کروائے لیکن 80فیصد ووٹ حاصل کرکے احمدسایا سرفہرست اور مقابلے کے فاتح قرار پائے۔

احمد سایا کے پروفائل پر نظر ڈالی جائے تو وہ اے لیول کروانے والے کراچی کے ایک نجی اسکول میں بطوراکاؤنٹس اور میتھ میٹکس ٹیچر اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی ایوارڈ کے فاتح احمدسایا گزشتہ 18برس سے تدریس کے شعبے سے منسلک ہیں ۔ احمد سایا نے کراچی کے ایک اسکول سے اے لیول کیا، پھر برطانیہ کی آکسفورڈ بروکس یونیورسٹی سے بی ایس سی (آنرز) اور اس کے بعد ماسٹرز کی ڈگر ی حاصل کرکے وہ اپنے شوق کی خاطر شعبہ تدریس سے منسلک ہوگئے۔ احمدسایا ان دنوں ایک نہیں کئی اے لیول اسکولوں اور کالجز میں شعبہ اکاؤنٹس اور میتھ میٹکس پڑھا رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ او لیول اور اے لیول ٹیچرز کی تربیت کے لیے بھی مختلف ذمہ داریاں سرانجام دے رہے ہیں ۔

احمد سایا طلبہ کی رہنمائی کیلئے سائیکو میٹرک ٹیسٹنگ کمپنی میں بطور چیف آپریٹنگ آفیسر وابستہ ہیں، جہاں وہ طلبہ کو ان کے بہترین اور کامیاب مستقبل کے حوالے سے کمزوریوں، طاقت، اہلیت اور دلچسپیوں کی نشاندہی کے حوالے سے مدد فراہم کرتے ہیں۔

اپنی کامیابی سے متعلق احمد سایا کا کہنا ہے،’’ شعبہ تدریس ملازمت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری کلاس ختم ہونے کےباوجود بھی ختم نہیں ہوتی۔ میں صرف طالب علموں کو نصاب (Syllabus)میں موجود اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ میرا اصل مقصد ان کے کردار، اخلاقیات اور حسن عمل سے متعلق تربیت فراہم کرنا ہے۔ میرا یقین ہے کہ ہر طالب علم ایک کامیاب اور روشن مستقبل کا حقدار ہے اور میں اس حوالے خوش قسمت ہوں کہ ان کے روشن مستقبل کےحصول کے لیے قدرت نے مجھے بطور مددگار منتخب کیا ہے‘‘۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں