آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات 20؍ ذوالحجہ 1440ھ 22؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے سامنے اس وقت اکنامک افیئر ڈویژن کا لیٹر موجود ہے، جس میں یہ ادارہ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سامنے درخواست کررہا ہے کہ آپ کی نااہلی اور بے حسی کے سبب اسلام آباد میں جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے سابقہ دور حکومت میں اعلان کردہ سو ملین ڈالر کے آئی ٹی پارک کے قیام کا منصوبہ دو سالوں سے شروع نہیں ہو سکا کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کی وزارت کی نااہلی کی وجہ سے جنوبی کوریا کی حکومت ہی اس منصوبے سے ہاتھ کھینچ لے اور اسلام آباد اتنے بڑے منصوبے سے محروم ہو جائے۔ صرف یہی نہیں اس منصوبے کے ساتھ کہیں جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے پاکستان کو دنیا کے سب سے کم ترین نرخوں پر دیا جانے والا پانچ سو ملین ڈالر کا قرضہ یا گرانٹ بھی ختم نہ کردی جائے۔ یہ منصوبہ جنوبی کوریا کی حکومت کی جانب سے پاکستان جیسے دوست ملک کے لیے بہترین تحفہ ہے جو دو ہزار سولہ میں منظور ہوا، جس کی شروع میں لاگت اسی ملین ڈالر منظور ہوئی تاہم منصوبے میں تاخیر کے سبب اس کی لاگت سو ملین ڈالر ہو گئی ہے، اس منصوبے کے تحت اسلام آباد کے جنوب میں چالیس ایکڑ رقبے پر ایک جدید ترین آئی ٹی پارک تعمیر کیا جانا تھا جہاں نہ صرف پاکستان کے اہم ترین اداروں کے دفاتر جدید ترین ٹیکنالوجی کی سہولتوں کے ساتھ قائم ہونا تھے بلکہ پاکستان کی آئی ٹی کمپنیوں کو نئی

ایجادات کے لیے دفاتر بھی فراہم کیے جانا تھے تاکہ پاکستان میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں نئی ایجادات کو سرکاری تعاون حاصل ہو سکے۔ کورین حکومت نے رقم کے اجرا کی ذمہ داری جنوبی کوریا کے ایگزم بینک کے سپرد کی جس میں یہ طے پایا کہ اس آئی ٹی پارک کی تعمیر جنوبی کوریا کی کمپنی ہی کر ے گی تاہم ان کو منتخب کرنے کی ذمہ داری پاکستان کی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کو دے دی گئی جس نے ماہرین پر مشتمل سلیکشن بورڈ بھی قائم کیا، جنوبی کوریا کی جانب سے پندرہ کمپنیوں کو اس منصوبے میں حصہ لینے کا اہل قرار دے دیا گیا۔ اس مرحلے سے ہی قومی مفادات کے خلاف کہانی کا آغاز ہوتا ہے، پندرہ کمپنیوں کو مختلف مرحلوں سے گزار کر پانچ کمپنیوں کو شارٹ لسٹ کیا جاتا ہے جس میں جنوبی کوریا کی سب سے بڑی آئی ٹی کمپنی بھی شامل تھی تاہم یہاں چوتھے نمبر پر آنے والی ایک کمپنی کو اس منصوبے کی کنسلٹنسی کا ٹھیکہ دینے کے لیے فائنل کیا جاتا ہے، اس ناانصافی پر فہرست میں شامل دیگر کمپنیاں اعتراض کرتی ہیں کیونکہ چوتھے نمبر پر آنے والی کمپنی تکنیکی طور پر جنوبی کوریا میں بھی اتنے بڑے منصوبے کے لیے مستند نہیں سمجھی جاتی، اس کمپنی پر غیر مناسب تعمیرات پر کئی دفعہ جنوبی کوریا میں پینلٹی لگ چکی ہے اور پھر کئی ٹھیکوں کے حصول کے لیے کرپشن ثابت ہونے پر پابندی کا شکار بھی رہ چکی ہے لہٰذا ایسی کمپنی کو اتنے بڑے منصوبے کی کنسلٹنسی دینے سے بہت سے سوالات جنم لیں گے لیکن پاکستان کی آئی ٹی منسٹری میں اس کمپنی کے حق میں اتنی مضبوط لابنگ موجود تھی کہ کسی نے ا ن شکایات کی جانب توجہ نہ دی، تاہم اس سے قبل کہ اس کمپنی کو یہ ٹھیکہ دیا جاتا جنوبی کوریا میں اس کمپنی پر ایک بار پھر سرکاری ایگزم بینک کی جانب سے کرپشن کی شکایت ثابت ہونے پر مارچ 2019تک کسی بھی ٹھیکے میں حصہ لینے کی پابندی عائد کردی گئی اس وجہ سے پاکستان میں بھی تاحال اس کمپنی کو یہ ٹھیکہ نہیں دیا جاسکا جبکہ پاکستانی حکام یہ تاویلیں دے رہے ہیں کہ مارچ میں پابندی ختم ہو جائیگی تو اپریل میں اس کمپنی کو آئی ٹی پارک کا ٹھیکہ دے دیا جائے گا جبکہ میرے سامنے موجود اکنامک افیئر ڈویژن کے لیٹر میں صاف طور پر کہا جا رہا ہے کہ حکومت پاکستان کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی رکھتی ہے لہٰذا وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اس منصوبے کو شفاف طریقے سے بہترین کمپنی کو جلد سے جلد ٹھیکہ الاٹ کرے۔ اگر کوئی کمپنی کرپشن میں ملوث ہے تو اس کے بجائے دیگر کمپنیوں میں سے کسی کو ٹھیکہ دیکر منصوبہ شروع کرایا جائے تاکہ منصوبے پر بڑھتی لاگت سے ہونے والے نقصان سے بچا جا سکے۔ یہ تو اب حکومت پاکستان اور اس کے متعلقہ محکموں کو دیکھنا چاہئے کہ کون ذاتی مفادات کے حصول کے لیے پاکستان کے قومی مفادات کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کیوں قومی نوعیت کے اس منصوبے کو طول دی جا رہی ہے، پاکستان میں وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کئی افسران بھی اپنے ہی ادارے کے غلط فیصلوں پر انگلیاں منہ میں دبائے بیٹھے ہیں لیکن زبان کھولنے سے کتراتے ہیں، اکنامک افیئر ڈویژن کے حکام وزارت آئی ٹی کے ناسمجھی پر مبنی فیصلوں سے تنگ ہیں، پاکستانی میڈیا بھی چیخ و پکار کر رہا ہے، جنوبی کوریا میں پاکستانی سفارتی حکام کہہ رہے ہیں کہ جنوبی کوریا کی حکومت بھی حیران ہے کہ ہمارے پانچ سو ملین ڈالر کا صرف پینتالیس فیصد ہی پاکستان استعمال کر سکا ہے جبکہ ہم تو پاکستان کے لیے گرانٹ کی حد 800ملین ڈالر کرنے کو بھی تیار ہیں لیکن ہمارے منصوبے پاکستان میں شروع ہی نہیں ہو پاتے، عمران خان کی حکومت دنیا سے مہنگے داموں قرضے حاصل کرنے کے لیے تو بھاگ دوڑ کر رہی ہے لیکن جنوبی کوریا جیسا دوست ملک جو کم شرح سود پر پاکستان کو اہم ترین منصوبوں کے لیے فنڈز دینے پر تیار بیٹھا ہے اور ہمارے اکنامک افیئر ڈویژن کے پاس ایسے منصوبے ہی نہیں ہیں، جن پر یہ فنڈ استعمال ہو سکیں۔ لہٰذا حکومت پاکستان کو جنوبی کوریا اور جاپان کے معاملات پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ امید ہے کہ وزیر اعظم عمران خان پاکستان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر ضرور توجہ دیں گے۔