آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
یہ کچھ عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک ماں بیٹا موٹر سائیکل پر جا رہے تھے یہ سڑک لاہور کی وحدت روڈ تھی اچانک ایک وین نے دونوں کو ٹکر مار دی۔ دونوں ماں بیٹا سڑک پر گر گئے اور بیہوش ہو گئے۔ بیٹا ماں کی طبیعت کی خرابی کے باعث انہیں شیخ زید ہسپتال لیکر جا رہا تھا کسے خبر تھی کہ جس کی طبیعت خراب ہے وہ بچ جائے گی اور جو بالکل تندرست ہے وہ کوما میں چلا جائے گا ماں کو ہوش آیا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کا بیٹا کوما میں چلا گیا ہے اور اس کی دماغی موت یعنی برین ڈیتھ ہو چکی ہے جب تک سانس کی نالی یعنی وینٹی لیٹر لگارہے گا سانس چلتی رہے گی جونہی وینٹی لیٹر سے اس سولہ سالہ نوجوان کو اتاریں گے اس کی سانسیں ختم ہو جائیں گی اب یہ فیصلہ ماں کو کرنا تھا کہ آیا وینٹی لیٹر پر اسے رکھا جائے یا ماں خود یہ فیصلہ دے دے کہ اس کے بیٹے کی سانسیں ختم کر دی جائیں۔بڑی مشکل گھڑی تھی کوئی اس ماں سے پوچھے جس کا صرف ایک بچہ ہو یعنی اکلوتا بیٹا، اکلوتی اولاد کوئی اور بچہ یا بچی نہیں اور ڈاکٹرز کہہ رہے ہیں کہ بچہ دماغی طور پر مر چکا ہے اور سانس بھی مشین پر چل رہی ہے یعنی ارسلان کی BRAIN DEATH ہو چکی تھی قدرت کا کھیل دیکھیں ۔ادھر شیخ زید ہسپتال میں دبئی سے آنے والا ایک پاکستانی جس کا تعلق سیالکوٹ سے ہے وہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں آتا ہے اس کو خون کی قے ہوتی ہے

ڈاکٹرز مختلف ٹیسٹ کراتے ہیں پتہ چلتا ہے کہ ہیپاٹائٹس سی کی وجہ سے اس کا جگر بالکل ناکارہ ہو چکا ہے اگر اس کے جگر کی پیوندکاری فوری نہ کی گئی تو وہ موت کے منہ چلا جائے گا ۔45سالہ سید عامر رضا ایک بچی کا باپ اس کے گھر میں رونا پڑ گیا وہ غریب آدمی کہاں سے 30لاکھ روپے لائے اور جگر کی پیوندکاری کرائے ۔ دوسری طرف اس کے پاس جگر کا عطیہ دینے والا کوئی نہیں تھا ۔
حکومت نے 2010ء میں اعضاء کی پیوندکاری کا ایک قانون پاس کیا تھا جس کے تحت کوئی بھی قریبی رشتہ دار اپنے کسی قریبی عزیز کی جان بچانے کے لئے اپنا کوئی جسمانی عضو عطیہ کر سکتا ہے۔مگر غیر رشتہ دارکا صرف اس صورت میں عطیہ لیا جا سکتا ہے جب پوری طرح اس بات کا یقین کر لیا جائے تو اس میں کہیں کوئی پیسے کا لین دین نہیں ہوا پھر قریبی رشتہ داروں کا کراس میچ تو ہو جاتا ہے کسی غیر کا کراس میچنگ ہونا ذرا مشکل ہوتا ہے ۔لیکن یہاں دیکھیں کہ سید عامر رضا کا خون اور دیگر تمام ٹیسٹ مرحوم ارسلان کے ساتھ میچ کر گئے ہے قدرت نے عامر رضا کو بچانے کے لئے ارسلان کو بھیجا تھا ۔ارسلان کی ماں نے بڑی عجیب بات بتائی کہ اپنی موت سے چند روز قبل اس نے مجھے کہا کہ ماں اگر مجھے کچھ ہو جائے تو میرے اعضا کسی کو عطیہ کر دینا جیسے یہ وقت قبولیت کا تھا اس کی کہی ہوئی بات سچ ہو گی ماں کو پنجاب بلکہ پاکستان کے سرکار ی ہسپتال کے واحد دو جگر کی پیوندکاری کے سرجنز ، ڈاکٹر عامر لطیف ، ڈاکٹر طارق علی بنگش ، شیخ زید ہسپتال کے چیئرمین ڈاکٹر ظفر اقبال اور امراض جگر و معدے کے ہیڈ ڈاکٹر الطاف عالم نے قائل کیا کہ بچہ اب کوما سے کبھی باہر نہیں آئے گا اور ایک مرتا ہوا انسان سات انسانوں کو نئی زندگی دے سکتا ہے ۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ بھلا کیسے ؟ دو آنکھیں، دو گردے، دو پھیپھڑے اور ایک جگر یعنی سات افراد کو نئی زندگی مل سکتی ہے ۔ مرنے کے بعد اعضاء تو ویسے ہی چند روز میں مٹی میں ملکر مٹی ہو جاتے ہیں ہڈیاں تک بھی باقی نہیں رہتی پھر بھی ہم کسی کو عطیہ دینے کو تیار نہیں ۔ سری لنکا کے لوگ آج بھی دنیا بھر میں ہزاروں افراد کو آنکھوں کا عطیہ دیتے ہیں۔ اور سب سے زیادہ آنکھوں کے عطیات ہمارے ملک میں لگا ئے جاتے ہیں جو سری لنکا سے آتے ہیں ۔ایک طرف عامر رضا کی درخواست ، دوسری طرف ماں نے بھی سوچا کہ اگر اس کے بیٹے کے جگر سے ایک مرتا ہوا انسان بچ سکتا ہے تو پھر دیر کس بات کی چنانچہ ماں نے روتے ہوئے اور اپنے دل پر پتھر رکھتے ہوئے بیٹے کا آخری بار دیدار کرکے اس کا منہ چوم کر ڈاکٹروں کو اس بات کی اجازت دے دی کہ وہ ارسلان کو اب وینٹی لیٹر سے اتار لیں اور اس کے لخت جگر کا جگر عامر رضا کو لگا دیں۔سلام اس ماں پر جس نے اپنے بیٹے کا جگر دیکر ایک انسان کی زندگی کا چراغ گل ہونے سے بچا لیا ۔ آج عامر رضا خوش وخرم زندگی بسر کر رہا ہے مگر دونوں نے یعنی ارسلان کی ماں اور عامر رضا نے اب یہ عہد کیا کہ وہ جگر کے امراض میں مبتلا ایسے افراد جن کو ڈاکٹروں نے جگر کی پیوندکاری کا مشورہ دیا ہوا ہے ان کے لئے کام کریں گے ۔
پورے پنجاب کے واحد جگر کے پیوندکاری کے ماہر سرجنز ڈاکٹر عامر لطیف اور ڈاکٹر طارق علی بنگش کا کہنا ہے کہ اس وقت دو سو افراد ہمارے ہسپتال میں ویٹنگ لسٹ پر ہیں اصل مسئلہ یہ ہے کہ لوگ عطیہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے اعضاء کی پیوندکاری میں رکاوٹ آ رہی ہے ۔
ایک طرف یہ دونوں سرجنز ہیں جو آئرلینڈ میں ماہانہ لاکھوں پونڈ کی ملازمت صرف اور صرف اس لئے چھوڑ کر پاکستان آئے کہ یہاں پر لوگوں کو ان کی اشد ضرورت ہے اور دوسری طرف ہمارے لوگ ہیں جو دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن عملاً کچھ نہیں ، کبھی کسی سیاست دان نے، کبھی کسی سیاسی جماعت نے اس بات پر دھرنا دیا ہے کہ ہر دسواں پاکستانی جگر کے امراض میں مبتلا ہو رہا ہے ہر دسواں پاکستانی کو ہیپاٹائٹس بی /سی ہو رہا ہے ۔
یہ بھلا سیاست دان کیوں اس پر دھرنا دیں کیونکہ وہ بیمار ہوں گے تو امریکہ ،ولایت، آسٹریلیا، آئرلینڈ جاکر علاج کرائیں گے انہیں کیا لگے ان کے لئے ان ممالک میں جگر کی پیوند کاری پر دوکروڑ خرچ بھی ہو جائیں تو اس سے ان کی صحت پر کیا اثر پڑتا ہے خدا کے لئے پوری قوم کے لوگوں میں ارسلان کی ماں والا جذبہ پیدا کیا جائے ۔ آج حادثات میں پورے ملک میں سینکڑوں افراد مر جاتے ہیں اور ان کے اعضاء بالکل صحت مند ہوتے ہیں اگر ان کے لواحقین اس بات کی اجازت دے دیں کہ مرنے والے عزیز کی آنکھیں، گردے، پھیپھڑے اور جگر حاصل کرکے ضرورت مند افراد کو لگا دیا جائے تو یقین کریں یہ بھی ایک بہت بڑی نیکی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ آخری نیکی ہی راہ نجات کا باعث بن جائے ۔دوسری طرف ارسلان کی ماں قرة العین نے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی طرف سے مالی امداد لینے سے انکار کر دیا تھا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اس ماں کی خدمات اس نیک کام کے لئے حاصل کرے کیونکہ اس ماں کا اکلوتا بیٹا تو دنیا سے چلا گیا اب اس کے پاس کوئی سہارا نہیں خاوند بھی بہت معمولی ملازمت کرتے ہیں اور قرة العین اس کو مشن کے تحت کام کرنا چاہتی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں