آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بدھ کے روز پارلیمانی ایوانوں کی کارروائی کے دوران سامنے آنے والی دو متضاد کیفیات اگر عام لوگوں خصوصاً غریب اور متوسّط طبقے کے افراد کیلئے تشویش کا ذریعہ بنی ہیں تو ان پر تعجب نہیں کیا جانا چاہئے۔ایک طرف وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر قومی اسمبلی کی مجلس قائمہ برائے مالیات کو بتا رہے تھے کہ جب 600ارب روپے کا خسارہ ہو گا تو مہنگائی تو ہو گی۔اسد عمر اپنی بریفنگ میں عوام کی تکالیف کا اعتراف کرتے ہوئے سابقہ حکومت کو اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دے رہے تھے مگر میڈیا سے آنے والی خبریں عام آدمی کی اس الجھن میں اضافہ کر رہی تھیں کہ وہ وفاقی وزیر خزانہ کے تسلسل سے آنے والے اسی نوع کے بیانات پر یقین کرے یا ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی اسمبلی کے فیصلے سے ابھرنے والے اس متضاد تاثّر کو اہمیت دے جس کے تحت وزراء اور ارکان اسمبلی کے مشاہروں میں کئی گنا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ مذکورہ اسمبلی میں سرکاری بینچوں کے غضنفر عباس کا منگل کے روز پیش کردہ پرائیویٹ بل جس طرح پہلے قائمہ کمیٹی اور بعدازاں سرکاری بزنس ڈے بدھ کو قواعد معطل کر کے منٹوں میں سرکاری اور اپوزیشن بینچوں نے اتفاق رائے سے منظور کیا،اس نے ایک طرف وزیراعلیٰ، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزراء کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ کر کے قومی اسمبلی اور دیگر صوبائی

اسمبلیوں کو پیچھے چھوڑ دیا دوسری جانب دیگر ایوانوں میں اسی طرح کی تحاریک کے امکانات بھی اجاگر کئے ہیں۔ صوبائی اسمبلی میں منظور کئے گئے مذکورہ بل کے بعد وزیراعلیٰ کی ماہانہ تنخواہ اور مراعات( 2لاکھ 91ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ) 59ہزار روپے سے بڑھ کر 3لاکھ 50ہزار ہو جائیں گی۔اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، وزیروں، مشیروں، مجالس قائمہ کے چیئرمینوں اور دیگر ارکان کی تنخواہوں، ہائوس رینٹ،دفتری کرایہ،ٹیلیفون،مہمان داری، یوٹیلیٹی الائونس اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کو ذاتی گھر نہ ہونے پر عمر بھر کیلئے گھر دینے کیلئے فراہم کی جانے والی رقم کا حساب لگایا جائے تو معیشت کی صورتحال اس تصویر سے مختلف نظر آتی ہے جو وفاقی وزیر خزانہ عوام کے سامنے پیش کر رہے ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے حوالے سے جس کیلئے غریب اور متوسّط طبقے کو بالواسطہ طور پر تیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔25؍جولائی 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں مرکز اور دو صوبوں میں حکومت بنانے والی پارٹی سے عام آدمی جس تبدیلی کی امید وابستہ کئے ہوئے تھا بدھ کے روز پنجاب اسمبلی میں عجلت میں کیا گیا فیصلہ نہ صرف اس کے برعکس ہے بلکہ واضح طور پر پی ٹی آئی کے منشور سے متصادم اور وفاقی حکومت کی پالیسی کے منافی ہے۔اس پر پی ٹی آئی کے کئی رہنمائوں اور وزیروں اور خود پارٹی چیئرمین اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کا ردّعمل قطعی فطری ہے۔عمران خان نے درست طور پر نشاندہی کی کہ پاکستان خوشحال ہو جائے تو شاید مذکورہ فیصلہ قابل فہم ہو مگر ایسے عالم میں کہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے وسائل دستیاب نہیں یہ فیصلہ بلاجواز ہے۔پنجاب اسمبلی میں اچانک جو صورتحال پیدا ہوئی اس کی وجوہ جو بھی ہوں مذکورہ بل کو اپنے نفاذ کیلئے ایک اور قانونی مرحلے سے گزرنا ہے۔اس اعتبار سے اسے واپس لینے یا اس میں ترمیم کرنے کا آپشن تاحال برقرار ہے۔تاہم غریب اور متوسط طبقے کے افراد ایکاایکی جس ذہنی دھچکے سے دوچار ہوئے ہیں اس میں یہ سوال پوری شدّت سے ابھرا ہے کہ مفلوک الحال طبقات کو اچھے دنوں کے وعدے پر مہنگائی قبول کرنے پر آمادہ کرنے کی بجائے ہر قسم کی مراعات سے فیضیاب ہونے والے خواص سے اپنی آسائشوں میں کمی کا مطالبہ کرنے میں کیا امر مانع ہے۔وزیراعظم عمران خان کو اپنی پارٹی کے لوگوں اور صاحبان دانش کی مشاورت سے نئی سامنے آنے والی مشکل صورتحال سے نکلنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے اور ان عوامل کا سدباب کرنا چاہئے جو عام لوگوں میں کسی بھی عنوان سے مایوسی پیدا کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں