آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل15؍رمضان المبارک 1440ھ 21؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں سوچ رہا تھا کہ میاں نواز شریف کی خرابیٔ صحت اور بڑھتی ہوئی تشویش کہ کہیں جیل میں اُن کو کچھ ہو نہ جائے کے تناظر میں لکھوں گا کہ سپریم کورٹ کو نواز شریف کی اپیل جلد سن لینا چاہئے لیکن اچھا ہوا کہ محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے متعلقہ کیس آئندہ ہفتہ سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ مجھے ڈر تھا کہ اللہ نہ کرے اگر میاں صاحب کو جیل میں کچھ ہو جاتا ہے تو اس کا سیاسی اور عوامی ردعمل اگر حکومت کے لیے ہو سکتا تھا تو اس سے پاکستان کی عدلیہ کا بچنا بھی ممکن نہ تھا اور ممکنہ طور پر ایک اور عدالتی قتل کی باتیں بھی ہو سکتی تھیں۔ گزشتہ رات ہی ایک ٹی وی ٹاک شو میں پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے بھی مطالبہ کیا کہ میاں صاحب کے کیس کو جلدی سنا جائے۔ یہی بات نون لیگ کے علاوہ اور بھی بہت سے لوگ کر رہے تھے اور اس کی سب سے اہم Justificationیہی ہے کہ دوسرے تمام کیسوں میں چاہے وہ پاناما دستاویزات میں سامنے آنے والے پانچ سو پاکستانیوں کے نام ہوں یا نیب کے احتساب عدالتوں میں چلنے والے درجنوں مقدمات، صرف نواز شریف کے کیس کا ٹرائل ہوا اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تناظر میں ایک مقررہ مدت کے اندر اندر نیب نے ریفرنس تیار کیے، روزانہ کی بنیاد پر ان مقدمات کو سنا گیا، عدالت عظمیٰ کے ایک جج صاحب کو اس سارے پروسیس کے لیے مانیٹر جج مقرر کیا گیا۔ کسی دوسرے مقدمہ یا کیس کے لیے ایسا کوئی عدالتی حکم موجود نہ تھا اور اسی وجہ سے اس کیس کے متعلق تنازعات نے جنم لیا۔ نہ صرف یہ بلکہ جن مقدمات میں احتساب عدالت سے نواز شریف کو سزائیں دی گئیں اُن عدالتی فیصلوں پر ملک کے بڑے بڑے قانون دانوں تک نے اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ یہ فیصلے کمزور ہیں اور اعلیٰ عدلیہ کے سامنے نہیں ٹھہر سکتے۔ ایون فیلڈ کیس جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال، مریم نواز کو سات سال اور کیپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی، کی سماعت کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ نے نہ صرف ان سب کی ضمانت منظور کی بلکہ احتساب عدالت کے فیصلے کی دھجیاں اڑا دیں۔ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال کی سزا سنائی گئی اور یہ فیصلہ بھی بہت سے قانون دانوں کی نظر میں اس لیے کمزور ہے کہ سزا مفروضوں کی بنیاد پر دی گئی ہے اور فیصلے میں بار بار انگریزی کے الفاظ ’’Presume‘‘ اور ’’Presumption‘‘ لکھے گئے ہیں۔طبی بنیادوں پر نواز شریف نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی جس میں فیصلہ اُن کے خلاف آیا۔ اس فیصلے کے خلاف نواز شریف نے اپنے وکیل خواجہ حارث کے ذریعے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور گزشتہ ہفتے درخواست کی کہ اس اپیل کو جلدی سماعت کے لیے مقرر کیا جائے جس پر سپریم کورٹ نے جلد سماعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس کو اسپیشل ٹریٹمنٹ (Special Treatment) نہیں دیا جا سکتا بلکہ روٹین کے مطابق جب یہ درخواست سننے کا وقت آئے گا تو اسے سماعت کے لیے مقرر کر دیا جائے گا۔ اس دوران نواز شریف کی طبیعت کے بارے میں تشویش بڑھ گئی اور وزیراعظم عمران خان نے حکومت پنجاب کو ہدایت جاری کی کہ نواز شریف کو بہترین طبی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں نواز شریف کی صحت یابی کے لیے دعا بھی کی۔ ان حالات میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کی اپیل کو آئندہ ہفتے 19مارچ کو سماعت کے لیے منظور کر لیا جو ایک خوش آئند بات ہے۔ اس فیصلے سے نہ صرف انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے بلکہ عدلیہ سے متعلق نواز شریف کے کیسوں میں پائے جانے منفی تاثر کے خاتمہ میں بھی مدد ملے گی۔ خبروں کے مطابق تین ممبر بینچ نواز شریف کی اس اپیل کو سنے گا اور اس بینچ کی سربراہی محترم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کریں گے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ بہتر ہوتا کہ نواز شریف کے کیسوں کی اپیلیں سننے کے لیے پاناما کا فیصلہ دینے والے بینچ کے کسی بھی جج صاحب کو شامل نہ کیا جاتا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں