آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍رجب المرجب 1440ھ 18؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کراچی(طاہرعزیز/ اسٹاف رپورٹر) دی گریٹر کراچی بلک واٹرسپلائی اسکیم(کے فور) پروجیکٹ کے تھرڈپارٹی ڈیزائن ریویو کے لیے حکومت سندھ نے نیس پاک کو مقررکردیا جو نہ صرف کے فور منصوبے کے فیزون 260 ایم جی ڈی کے ڈیزائن کو دوبارہ دیکھے گا بلکہ فیزٹو 260 ایم جی ڈی اور فیزتھری 130 ایم جی ڈی کا بھی جائزہ لے گا باخبرذرائع کا کہنا ہے کہ تھرڈپارٹی ریویومنصوبے کے ابتدامیں ہی ہوجانا چاہیے تھا اور یہ بات کنٹریکٹ میں بھی شامل تھی لیکن کلائنٹ کراچی واٹراینڈسیوریج برڈ نے اس پر زور نہیں دیا کے فور کا کینجھرجھیل سے کراچی تک پانی پہنچانے کے لیے موجودہ نہر اور کنڈیوٹ سے ہٹ کر ایک نئے روٹ کا انتخاب کیا گیا ہے جس میں پہلے مرحلے میں فیز ون 260 ایم جی ڈی کی ایک نہر اس کے بعد فیزٹو 260 ایم جی ڈی اور آخر میں 130 ایم جی ڈی کے لیے تیسری نہر تعمیر کی جائے گی تینوں نہریں ایک ساتھ ہوں گی ان نہروں کی تعمیر کے لیئے منتخب کئے گئے نئے روٹ پر بعض مقامات پر پہاڑی سلسلہ اور سخت چٹانیں ہیں جنہیں ڈائنامائیٹ کے ذریعے بلاسٹ کرنے کے علاوہ کوئی دوسراراستہ نہیں ہے اگر ایک نہر تعمیر کرلی جاتی ہے بعدازاں دوسری نہر کے لیے بلاسٹ کیا گیا تو پہلے والی نہر کو خطرہ ہوگا اور وہ ٹوٹ سکتی ہے اس لیے کنٹریکٹر کے توجہ دلانے پر وفاقی اور صوبائی حکومت نے ایک ساتھ تین الگ الگ

نہروں کی جگہ ایک ہی نہر کی تعمیر کے لیے ڈیزائن پرنظرثانی کا کام تھرڈپارٹی نیس پاک سے کرانے کافیصلہ ہے تاکہ بعد میں کسی خامی کا امکان نہ رہے اور کے فور منصوبے کے کل پانی 12 سو کیوسک کو ایک ہی چینل کے ذریعے کراچی تک پہنچایا جاسکے اس سلسلے میں جب پروجیکٹ ڈائریکٹر کے فور اس ضامن سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ تھرڈپارٹی ریویو کا فیصلہ کیا ہے اور اس پر وفاقی حکومت بھی آمادہ ہے تاکہ منصوبےپر ایک ہی مرتبہ بھرپور نظرثانی ہوجائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں