آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات17؍رمضان المبارک 1440ھ 23؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

(گزشتہ سے پیوستہ)

بلاول بھٹو نے یہ بھی کہا کہ نواز شریف دل کے مریض ہیں۔ اُن پر دباؤ ڈالنا بھی ایک طرح کا تشدد ہے۔ اِس ملاقات میں میثاقِ جمہوریت پر بھی بات ہوئی کہ کس طرح دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی اِس میں شامل کرنے کا اہتمام کیا جانا چاہئے تاکہ جمہوری و سیاسی قدروں کو آگے بڑھاتے ہوئے سیاست کو نئی زندگی دلائی جا سکے۔ آرٹیکل 62اور 63کے حوالے سے ماضی میں روا رکھی گئی غلطیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بیگم کلثوم نواز کی جمہوری جدوجہد کا بھی تذکرہ ہوا۔ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ بلاول نواز ملاقات محض تیمارداری کے لیے نہیں تھی، اُس کا سیاسی ایجنڈا بھی تھا، وہ غلط نہیں کہہ رہے ہیں۔ دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے قائدین خواہ کسی بھی حوالے سے ملیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ سیاست یا ملکی حالات پر بات نہ ہو۔ آج آپ کے تمام مخالفین اور کئی موافقین کا یہ اعتراض بلا جواز نہیں ہے کہ یہ اصولوں کا نہیں، مجبوریوں کا سودا ہے۔ جوں جوں نیب کا شکنجہ کسا جا رہا ہے آپ کو چارٹر آف ڈیمو کریسی کی یاد ستانے لگی ہے۔ اب آپ نے اِس تمام تر منفی پروپیگنڈے کو اپنے ٹھہراؤ، میچورٹی، دھیمے پن اور اصول پسندی سے غلط ثابت کرنا ہے۔ مستقبل میں میاں صاحب کے علاوہ مریم نواز کے ساتھ بھی اُسی جذبے سے چلنا ہے جس طرح میاں صاحب آپ کی والدہ محترمہ کے سنگ چلے تھے۔ الیکشن 2008کا بائیکاٹ نہ کرنے کی بات ان کے کہنے پر مانی تھی۔ آپ لوگوں کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہمارا مدعا محض حصولِ اقتدار نہیں، ہم آئین، جمہوریت، انسانی حقوق، آزادیوں اور اعلیٰ اقدار کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے اور اِس ملک کو پروگریسو، لبرل ،ذمہ دار، خوشحال اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔ جو اِس خطے بالخصوص سارک ممالک کے لیے نہ صرف غربت، جہالت، بے انصافی اور بیماری سے لڑنے والا ہوگا بلکہ پورے خطے کو امن و خوشحالی کا گہوارہ بنانے کے لیے رول ماڈل بنے گا۔ جس طرح ہم بیرونی دشمنوں کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں، اِسی طرح اندرونِ ملک سویلین بالادستی کے لیے بھی چارٹر آف ڈیمو کریسی جیسا ایکا دکھائیں گے۔

جہاں تک میاں صاحب کی بیماری کا سوال ہے، کئی بہی خواہوں کے نزدیک ملک و قوم کے لیے اُن کی خدمات کے اعتراف میں اُنہیں House Arrestکیا جا سکتا ہے اور باہر بھی بھیجا جا سکتا ہے کیونکہ اگر وہ ذہنی تناؤ یا ٹینشن میں رہیں گے تو اِس کا اثر اُن کی بیماری پر پڑے گا، جو ایک طرح کا ذہنی تشدد ہے۔ وطنِ عزیز کے لیے اُن کا یہ بہت بڑا کریڈٹ ہے کہ وہ تین مرتبہ منتخب وزیراعظم رہ چکے ہیں اور شاید ہی آئندہ کوئی اُن کا یہ ریکارڈ توڑ سکے۔ باوقار اقوام اپنی قیادت پر فائز رہنے والوں کا تاحیات احترام کرتی ہیں۔ رہ گئے کرپشن کے الزامات تو اُن کی قلعی وقت کے ساتھ کھلتی چلی جائے گی۔ پاکستان میں کروڑوں لوگ اِن الزامات کو سوائے انتقام کے کچھ نہیں سمجھتے۔ حکومتی ایوانوں میں بھی اِس حوالے سے خاصی نرمی آچکی ہے۔ ترجمان وزیراعلیٰ شہباز گل کے بقول نوازشریف جہاں سے علاج کروانا چاہیں، ہم تیار ہیں۔ پی آئی سی کے سربراہ نے کہا ہے کہ دنیا کی تمام جدید مشینری اُن کے پاس موجود ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد، اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، پی ٹی آئی رہنما علیم خان اور دیگر کے مثبت بیانات بھی آ رہے ہیں اور یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ خود عمران خان بھی ان کی تیمارداری کرنے اسی طرح جا سکتے ہیں جس طرح نواز شریف 2013میں ان کے کنٹینر سے گرنے پر اُن کی تیمارداری کیلئے گئے تھے۔ اِس سے یقیناً سیاسی تنائو میں بھی کمی آئے گی۔

بلاول بھٹو نے اپنی پریس کانفرنس میں بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ اگر تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیراعظم پر جے آئی ٹی بنائی جا سکتی ہے اور اُسے جیل بھیجا جا سکتا ہے تو کالعدم دہشت گرد تنظیموں پر جے آئی ٹی کیوں نہیں بنا ئی جا سکتی؟ اُنہیں جیل کیوں نہیں بھیجا جا سکتا؟ اِس سے پوری دنیا کو یہ پیغام جائے گا کہ واقعی ہم انتہا پسندی اور دہشت گردی کو پروان چڑھانے والے نہیں بلکہ اُس کے مخالف ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہمارے تین وفاقی وزراء کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں۔ ان کے بیانات، تصاویر یا وڈیوز سے سب کچھ واضح ہے، انہیں بر طرف کیوں نہیں کیا جا رہا؟ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا؟ اپنی اپوزیشن کے خلاف بولنے والے کیوں اُن کالعدم تنظیموں کے خلاف ایک لفظ بولنے کو تیار نہیں؟ اِس پسِ منظر میں بلاول بھٹو کے سوالات قابلِ فہم ہیں۔ اُنہوں نے ایک تاریخی جملہ بولا ہے ’’پہلے انسان بنو پھر سیاستدان‘‘۔ بلاول بھٹو کی یہ درد مندی اپنی جگہ لیکن بدلے ہوئے حالات میں امید کی جا رہی ہے کہ اب ہمارے اصل حکمرانوں کے پاس اِس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ پاکستان کے روشن چہرے پر لگنے والے اِن تمام سیاہ داغ دھبوں کو دھو ڈالا جائے۔ اس سے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا سوفٹ امیج ابھرے گا بلکہ اندرونی سطح پر بھی حکومت اپوزیشن تعلقات میں کشیدگی و منافرت کو ختم کرتے ہوئے قومی یکجہتی کو اجاگر کیا جائے گا۔ ’’نیشنل ایکشن پلان‘‘ اور ’’میثاقِ جمہوریت‘‘ جیسی قومی دستاویزات کا یہی تقاضا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں