آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12؍رجب المرجب 1440ھ20؍مارچ 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن


انڈونیشیا میں انسانی انگوٹھے جتنی شہد کی مکھی سے چار گنا بڑی مکھی کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کر دیا گیا۔

انڈونیشیا میں38 سال بعد دریافت ہونے والی شہد کی مکھی سے 4 گُنابڑی دنیا کی سب سے بڑی مکھی کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کرلیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی امریکا اور آسٹریلیا کے ماہرین پر مشتمل سرچ ٹیم کو مادہ ویلس جائنٹ بی (میگا چائل پلوٹو) انڈونیشیا میں ایک درخت میں2 میٹر کی اونچائی پر بنے دیمک کے گھر سے ملی ہے۔

اس مادہ مکھی کی لمبائی 4 سینٹی میٹر ہےاوراسے پہلی مرتبہ 1858 میں انڈونیشیا کے جزیرے باکان سے برطانوی شخص الفریڈ رسل ویلس نے دریافت کیا تھا۔

اس مکھی کو دوسری مرتبہ 1981 میں امریکی ماہر حشرات ایڈم میسر نے انڈونیشا کے 3 جزیروں میں دریافت کیا تھا اور مشاہدہ کیا تھا کہ یہ مکھی اپنے جبڑوں کو دیمک سے پاک گھونسلے کے لیے لکڑی اور گوند جمع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

بعد ازاں سرچ ٹیمیں ایک مرتبہ پھر اس مکھی کی تلاش میں ناکام ہوگئی تھیں اور پھر ماہرین نے اس مکھی کو ’25 انتہائی مطلوب جانوروں‘ کی فہرست میں شامل کر لیا تھا ۔

تاہم اب مادہ مکھی کی دوبارہ دریافت سے اس بات کی امید پیدا ہوگئی ہے کہ اس علاقے کے جنگلات میں دنیا کی سب سے بڑی مکھی کی نسل اب بھی موجود ہے۔

اس مکھی کا مسکن انڈونیشیا میں زراعت کے لیے جنگلات کی شدید کٹائی کے خطرات کا شکار ہے جبکہ اپنے حجم اور دنیا میں نایاب ہونے کی وجہ سے یہ مکھی اپنے شکاریوں کا ایک آسان ہدف بھی رہی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں