آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

معیشت کی بحالی کے لیے موجودہ حکومت کے مسلسل اقدامات و اصلاحات کے باوجود محصولات کی وصولیابی میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے خسارے کا بڑھتا ہوا خدشہ یقیناً بہت تشویشناک ہے ۔صورت حال کو بہتر نہ بنایا جاسکا تو آنے والے دنوں میں معاشی مشکلات مزید بڑھ جائیں گی لہٰذا ہمارے معاشی حکمت کاروں کو اس جانب فوری توجہ دینی ہوگی۔سرکاری ذرائع کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے اعداد وشمار کے مطابق فیڈرل بیورو آف ریوینیوکے قیام کے بعد سے اب تک موجودہ مالی سال کے ابتدائی آٹھ ماہ میں ٹیکس وصولی میں سب سے زیادہ یعنی 232.2 ارب روپے کاخسارہ واقع ہوچکا ہے۔ یہ رجحان جاری رہا تو مالی سال کے باقی چار ماہ میں یعنی جون کے اختتام تک خسارے کی مالیت کے 485.9 ارب تک پہنچ جانے کا اندیشہ ہے۔ مجموعی قومی پیداوار کے مقابلے میں ٹیکسوصولی کے خسارے کا تناسب گزشتہ مالی سال کے 6.6 فی صد سے بڑھ کر رواں مالی سال میں 7 فی صد تک پہنچ جانے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ متعلقہ ذرائع نے محصولات کی وصولی میں اتنے بڑے فرق کی سات وجوہات بتائی ہیں جن میں تنخواہوں پر ٹیکس کی شرح میں کمی،ٹیلی کام کے شعبے پر عائد ٹیکس کا سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت خاتمہ،ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی، درآمدات میں کمی، فائلرز کے لیے بینک سے رقم نکلوانے پر ٹیکس کا خاتمہ، شعبہ

بینکاری کے منافع میں کمی اور ایمنسٹی اسکیم کے تحت ادائیگیاں شامل ہیں۔ان اسباب کے امر واقعہ ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن ان میں سے کسی کوبھی زلزلے یا طوفان کی طرح اچانک پڑ جانے والی افتاد قرار نہیں دیا جاسکتا۔ اس بناء پر یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ان اسباب کے متوقع نتائج کا پیشگی اندازہ لگاکر صورت حال کے مقابلے کے لیے جو کچھ کیا جانا چاہیے تھا اس میں کوتاہی رہی ہے۔ تاہم کم از کم اب اس بات کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے کہ رواں مالی سال کی باقی مدت میں محصولات کی وصولی کو بہتر بناکر خسارے کو کم سے کم کیا جائے تاکہ معاشی بحران کی شدت کو حتی الامکان ہلکا رکھا جاسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں