آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ20؍ذیقعد 1440ھ 24؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاک ایٹمی پروگرام، امریکی سلامتی کو خطرہ،غلط ہاتھوں میں لگ سکتاہے، پاکستان محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے، امریکی وزیرخارجہ، بھارت سے کشیدگی کا الزام بھی لگادیا

واشنگٹن (ایجنسیاں‘جنگ نیوز)امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ملکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے خطرات بتاتے ہوئے کہا ہےکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔گزشتہ روزایک انٹرویومیں انہوں نے پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کے خلاف جو ایکشن لئے ہیں وہ ہم سے پہلے کسی حکومت نے نہیں لئے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو وہ بہت سنجیدہ لیتے ہیں کیونکہ انہوں نے خود اپنے دوستوں کو اس لڑائی میں کھویا ہے‘ان کا کہناتھاکہ ہم نے 11ستمبر کے حملوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہم نے پاکستان پر اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کے لیے زور ڈالا ہے‘طالبان کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے ‘افغانستان میں حملوں سے افغان اوراتحادی فوجیں کمزورنہیں ہوئیں‘ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ

کشیدگی پاکستان کے علاقے سے جانے والے دہشت گردوں کی وجہ سے شروع ہوئی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو ان دہشت گردوں کوروکنے کے لئے اپنے اقدامات بڑھانے ہوں گے اور ان دہشت گردوں کو محفوظ پناگاہیں دینا ختم کرنا ہوں گی ۔ افغانستان میں جاری امن مذاکرات کے بارے میں اس سوال پر کہ کیا طالبان القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں سے اپنے تعلقات ختم کر لیں گے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی کوئی حتمی رائے دینے سے قاصر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت افغانستان میں ایک حتمی حل کے لئے کام کر رہی ہے۔ وہ افغانستان میں سیاسی اتفاق رائے کے لئے کام کر رہے ہیں۔پومپیو نے کہا کہ زلمے خلیل زاد ابھی اسی سلسلے میں چھ سے آٹھ دن دوحا میں مذاکرات کے لئے گئے تھے ‘ ان مذاکرات میں افغان حکومت اور طالبان کے ساتھ کچھ پیش رفت ہوئی ہے‘اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ دونوں فریق ایک دوسرے سے بات کریں‘ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ اس بات کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ اس طویل جنگ کو ختم کرنا چاہتے ہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ اس کا کوئی ایسا حل نکلے جس سے امریکا کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کا خدشہ نہ رہے۔حالیہ دنوں میں افغان فورسز پر کئے جانے والے حملوں میں طالبان نے 50 افغان فوجیوں کو اغوا کر لیا تھا جبکہ اس سے ایک ہفتہ پہلے 70 افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس بارے میں پومپیو نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان حملوں سے افغان اور اتحادی فوجیں کمزوری کی پوزیشن پر آگئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ امن مذاکرات کی ٹیبل پر کون بیٹھا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہم امریکا کو مزید محفوظ بنائیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں