آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پنجاب ایسا صوبہ ہے جہاں بڑے سیاسی نام اور شخصیات صوبے کی سیاست پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ گزشتہ دنوں مخدوم احمد محمود کی بحیثیت گورنر پنجاب تقرری نے جہاں ایک طرف سیاسی ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے وہاں اسے خوش آئند قدم اور صدر آصف زرداری کی دوراندیشانہ سیاسی حکمت عملی اور سرائیکی صوبے کے قیام میں ایک اہم پیشرفت بھی قرار دیا جارہا ہے۔ مخدوم احمد محمود تحریک بحالی صوبہ بہاولپور میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے ہیں اور پنجاب اسمبلی میں بہاولپور صوبے کی قرارداد کی منظوری کا سہرا بھی انہی کے سر جاتا ہے۔ مخدوم احمد محمود کی بطور گورنر پنجاب تقرری آئندہ انتخابات میں جنوبی پنجاب میں پیپلزپارٹی کی ساکھ کی مضبوطی اور بہاولپور ڈویژن کی16 نشستوں پر کامیابی میں اہم کردار ادا کرے گی۔ اس طرح صدر پاکستان کی نئی سیاسی حکمت عملی نے ضلع رحیم یار خان اور بہاولپور میں پیپلزپارٹی کی پوزیشن مستحکم کردی ہے کیونکہ اس علاقے میں مخدوم احمد محمود کے مریدوں کی کافی بڑی تعداد آباد ہے۔
موجودہ گورنر پنجاب کا تعلق پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے بااثر سیاسی خاندان سے ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والے مخدوم احمد محمود کے والد مخدوم زادہ سید حسن محمود ریاست بہاولپور کے وزیراعظم تھے اور وہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مسلم لیگ

فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی کے کزن ہیں جبکہ مخدوم احمد محمود کی والدہ سابق پیر پگارا کی سگی بہن تھیں۔ وہ 3 مرتبہ مسلسل قومی اسمبلی کے رکن اور 3 بار پنجاب اسمبلی کے رکن بھی منتخب ہو چکے ہیں اور وہ نواز شریف کی کابینہ میں وزیر مملکت کے عہدے پر بھی فائز رہے جبکہ 2001ء سے 2005ء تک وہ رحیم یار خان کے ضلعی ناظم بھی رہے۔ ان کا ایک بیٹا قومی اسمبلی اور دوسرا بیٹا پنجاب اسمبلی کا رکن ہے۔ مخدوم احمد محمود وہ چھٹے گورنر ہیں جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے۔ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کا یہ کہنا بجا ہے کہ ”وہ اپنے پیشرو لطیف کھوسہ سے مختلف ہیں کیونکہ انہیں اپنے علاقے کے لاکھوں افراد کی حمایت حاصل ہے“۔
مخدوم احمد محمود کے علاقے کے لوگ ان کیلئے اپنے دل میں انتہائی عزت و احترام رکھتے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ اگر وہ کسی گمنام شخص کو بھی اپنے حلقے سے نامزد کر دیں تو ان کے پیروکار اسے ووٹ دے کر کامیاب کردیں گے۔ اس کی زندہ مثال2008ء کے عام انتخابات میں مخدوم صاحب کا چوہدری پرویز الٰہی کو اپنے حلقے سے الیکشن میں کھڑا کرنا تھا جس میں انہیں عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ دے کر کامیاب کیا، اسی طرح مخدوم صاحب، شہباز شریف کو بھی اپنے علاقے سے منتخب کروا چکے ہیں۔ لوگوں اور مخدوم صاحب کے درمیان یہ تعلق یکطرفہ نہیں مخدوم صاحب بھی اپنے علاقے کے لوگوں سے بے پناہ پیار کرتے ہیں جس کا میں خود بھی گواہ ہوں۔ ایک دن جب وہ مجھے اور لندن سے آئے ہوئے ہمارے مشترکہ دوست شہزاد خان جمال دین والی میں واقع اپنے فارم دکھانے کیلئے اپنی گاڑی جسے وہ خود ڈرائیو کر رہے تھے میں لے جارہے تھے تو جس راستے سے ان کی گاڑی گزرتی لوگ احتراماً کھڑے ہوکر مخدوم صاحب کو سلام کرتے ۔ فارم سے واپسی پر ایک جگہ میں نے دیکھا کہ ایک مزارعہ ایک بوڑھی عورت کو سہارا دے کر کچی سڑک پر لے جارہا تھا، بیماری اور نقاہت کی وجہ سے بوڑھی عورت کو چلنے میں دشواری پیش آرہی تھی۔ مخدوم صاحب نے فوراً اپنی گاڑی روکی اور دونوں ماں بیٹے کو نہ صرف اپنی گاڑی میں بٹھا کر اسپتال پہنچایا بلکہ اسپتال کے ڈاکٹرز کو بوڑھی خاتون کا مکمل علاج کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ وہ اخراجات خود ادا کریں گے۔ میں نے دیکھا کہ راستے بھر بوڑھی عورت اور اس کا بیٹا مخدوم صاحب کو دعائیں دیتے جارہے تھے۔اس لئے جب گورنر پنجاب کیلئے ان کی تقرری کا اعلان ہوا تو پاکستان میں کچھ لوگوں کیلئے یہ بات باعث حیرت ضرور تھی مگر میرے لئے نہیں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ غریبوں کی دعائیں عرش تک پہنچتی ہیں اور ضرور رنگ لاتی ہیں۔ مخدوم احمد محمود کے گورنر بننے پر جب میں نے انہیں مبارکباد کیلئے فون کیا تو انہوں نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ گورنر پنجاب کا حلف اٹھانے کے بعد گورنر ہاؤس میں پہلا سرکاری پروگرام میک اے وش کے بچوں کا ہو، اس طرح ان کی ہدایت پر گزشتہ روز گورنر ہاؤس پنجاب میں میک اے وش لاہور چیپٹر سے تعلق رکھنے والے لاعلاج مرض میں مبتلا 15 بچوں کیلئے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ وہ منظر بڑا جذباتی اور متاثر کن تھا جب میرے ہمراہ میک اے وش کے بیمار بچے اپنے والدین کے ساتھ گورنر ہاؤس کے دربار ہال میں منعقدہ اس تقریب میں موجود تھے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی لاہور میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے گورنر پنجاب انہیں بھی اپنے ساتھ اس تقریب میں لے آئے اور اس طرح وزیراعظم اور گورنر پنجاب نے گلے لگاکر ان بچوں کی خواہشات کی تکمیل کرتے ہوئے انہیں اپنے ہاتھوں سے تحفے تحائف دیئے۔ اس تقریب میں ڈپٹی چیئرمین سینیٹ صابر بلوچ، سابق برٹش ممبر پارلیمینٹ اور میک اے وش کے بورڈ ممبرچوہدری محمد سرور، شہزاد خان، میک اے وش کے رضاکار، بیمار بچوں کے والدین اور شہر کی معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ اس موقع پر معروف گلوکارہ شازیہ منظور کے میک اے وش کیلئے گائے گئے نغمے کی تقریب رونمائی بھی کی گئی جسے وزیراعظم، گورنر پنجاب اور تقریب میں شریک لوگوں نے بے حد سراہا۔
اس موقع پر وزیراعظم نے میک اے وش پاکستان کے منفرد کام کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی خوشی ہے کہ وہ اس تقریب میں موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے میک اے وش کے بچوں کو وزیراعظم ہاؤس آنے کی بھی دعوت دی۔ گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے اپنی تقریر میں کہا کہ مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ میرے گورنر بننے کے بعد گورنر ہاؤس میں منعقد پہلی تقریب غریب اور بیمار بچوں کی آخری خواہشات کی تکمیل کیلئے منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میک اے وش فاؤنڈیشن پاکستان کی فلاحی و سماجی شعبے میں خدمات قابل قدر ہیں، یہ ادارہ لاعلاج قرار دیئے گئے بچوں کی خواہشات کی تکمیل کرکے نہ صرف ایک منفرد کام کررہا ہے بلکہ بچوں کی مسکراہٹوں میں اللہ کی رضا تلاش کررہا ہے جو ایک عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس جیسے ادارے پاکستان بھر میں قائم ہوں ۔اشتیاق بیگ صاحب نے جب مجھے بیمار بچوں کی Wish Grantingمیں شرکت کی دعوت دی تو میں نے اس شرط پر یہ دعوت قبول کی کہ یہ تقریب کسی ہوٹل میں منعقد کرنے کے بجائے گورنر ہاؤس میں منعقد کی جائے گی اور آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ آئندہ بھی اس طرح کی تقریبات کا انعقاد گورنر ہاؤس میں منعقد کرکے مجھے خوشی ہوگی۔ میں نے اپنی تقریر میں گورنر پنجاب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میک اے وش پاکستان کیلئے یہ اعزاز کی بات ہے کہ Wish Granting کی یہ تقریب گورنر ہاؤس میں منعقد کی گئی ہے جو مخدوم صاحب کے گورنر بننے کے بعد غریب اور بیمار بچوں کیلئے گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی پہلی تقریب ہے جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گورنر صاحب غریبوں اور بیماروں کیلئے اپنے دل میں درد رکھتے ہیں اور گورنر ہاؤس کے دروازے صرف سیاسی اور بااثر لوگوں کیلئے ہی نہیں کھلے بلکہ غریبوں اور بیماروں کیلئے بھی کھلے ہوئے ہیں۔
تقریب کے بعد گورنر کے آفس میں دوران گفتگو انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ گورنر کے عہدے کی کوئی تنخواہ، مراعات نہیں لیں گے اور گورنر ہاؤس کے کچن کے تمام اخراجات بھی خود برداشت کریں گے جبکہ اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال میں لائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انتظامیہ کو یہ تنبیہ کی ہے کہ ان کی آمد و رفت کے دوران سڑکوں کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر عام ٹریفک کیلئے بند نہ کیا جائے اور جس طرح عام لوگوں کی گاڑیاں سگنل پر رکتی ہیں اسی طرح ان کی گاڑی بھی رکنی چاہئے۔
اس موقع پر انہوں نے مجھے گورنر ہاؤس میں قیام کی پیشکش کی جس پر میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مسکراکر کہا ”آپ خود گورنر ہاؤس میں رات بسر نہیں کرتے بلکہ اپنی ذاتی رہائش گاہ چلے جاتے ہیں تو میں گورنر ہاؤس میں اکیلا کیا کروں گا“۔ واضح ہو کہ گورنر پنجاب نے اپنی ذاتی رہائش گاہ پر سیکورٹی لینے سے انکار کردیا ہے۔ یہ بات میرے علاوہ کسی کو نہیں معلوم کہ 15بچوں کی خواہشات کی تکمیل اور گورنر ہاؤس میں منعقد ہونے والی تقریب پر ہونے والے اخراجات گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود نے اپنی جیب سے ادا کئے جبکہ میک اے وش پاکستان کو بھی اپنی جیب سے عطیہ دیا۔
تقریب کے بعد جب میں ان بیمار بچوں اور ان کے والدین جن کے چہرے خواہشات کی تکمیل پر خوشی سے تمتما رہے تھے کے ہمراہ گورنر ہاؤس سے باہر آیا تو مجھے وہ دور یاد آگیا جب 1975ء میں جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نواب صلاح الدین عباسی کے والد نواب محمد عباس خان عباسی گورنر پنجاب مقرر ہوئے تھے اور اسی گورنر ہاؤس میں ان کا قیام تھا۔ ان کے بارے میں بھی یہ مشہور ہے کہ وہ جتنے عرصے گورنر رہے نہ تو انہوں نے حکومت سے اپنے عہدے کی کوئی تنخواہ لی اور نہ ہی مراعات حاصل کیں جبکہ گورنر ہاؤس کے کچن کے اخراجات بھی وہ خود برداشت کرتے تھے اور اپنی ذاتی گاڑیاں استعمال کرتے تھے۔ آج اتنے سالوں بعد سابق بہاولپور ریاست کے وزیراعظم کے بیٹے مخدوم احمد محمود نے ان کی روایت کو زندہ رکھا ہے۔ پاکستان کو آج ایسے ہی لیڈروں کی ضرورت ہے جو حکومتی خزانے پر بوجھ نہ بنیں اور ان کے دل میں عوام کا درد ہو۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں