آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈاکٹر رضوانہ انصاری

ایک وقت تھا جب کہ عورت ان پڑھ تھی۔ شادی کے بعد گھر داری میں لگی رہتی تھی۔ شوہر، بچوں، ساس سسر کے ساتھ ساتھ نندوں اور دیوروں کا خیال رکھنا بھی اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا، مگر اس سب کے باوجود وہ محفوظ تھی. پر سکون تھی اور ڈھلتی عمر کے ساتھ وہ ایک رہنما اور سرپنچ کے عہدے تک پہنچ جاتی تھی۔ بچوں پر حکم اور فیصلے سنانے کے علاوہ سارا دن گھر داری میں گزارنے والی کو محلے کی عورتوں کے علاوہ کسی سے تعلق نہ ہوتا تھا، پھر وقت بدلا، جدت آئی عورت کو اپنے مقام کا احساس ہوا اور وہ آزاد ہونے لگی… سسرال تو سسرال اسے خاوند کی خدمت بھی ایک بوجھ لگنے لگا، پھر پرائیویسی کے نام پر علیحدہ گھر کے مطالبات ہونے لگے… وقت مزید آگے بڑھا تو اس سے بھی چند قدم آگے جا کر اب عورت مکمل آزاد ہے تعلیم یافتہ ہے اور اپنی زندگی جی رہی ہے… ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جارہا ہے کہ، عورت گھر سے نکل کر بینک، شاپنگ مال آفس اور کئی ایسی جگہوں پر ملازمت کرتی دکھائی جارہی ہے جہاں اس کی موجودگی ہی سمجھ سے باہر ہے… خیر عورت کو ترقی کرنی چاہیے ضرور کرنی چاہیے ہم اس کے بالکل خلاف نہیں مگر، عورت کی بے لگام ترقی کا سب سے بڑا نقصان مرد کی تنزلی کی صورت میں ہو رہا ہے، جہاں کہیں ملازمتوں کے در کھلتے ہیں، وہاں مرد کے پاس دکھانے کو صرف اپنی تعلیمی دستاویزات ہوتی ہیں جبکہ عورت کے پاس ہنر، تعلیم اور قابلیت کے باعث ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ مردوں کی اکثریت بے روزگار ہو رہی ہے… ایک اور بڑا نقصان یہ بھی ہے کہ عورت جتنی زیادہ تعلیم یافتہ ہوتی جا رہی ہے اس کے رشتے کا مقابل مرد تلاش کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے، کیونکہ مردوں کی اکثریت ماسٹر ڈگری وہ بھی فارمل ایجوکیشن کے ساتھ کرنے کے بعد ملازمت ڈھونڈنے میں مگن ہو جاتی ہے۔

اب عورت کا اگلا قدم یہ ہو گا کہ عورت ہی ملازمت کر کے گھر کی کفیل ہوا کرے گی، جبکہ مرد مکمل فارغ یا پھر کسی چھوٹی موٹی ملازمت سے بس زندگی کو دھکا دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوا نظر آئے گا… بہ ظاہر ایسا لگ رہا ہے کہ ملازمت کرنا اور گھر چلانا عورت کا کام ہے۔ عورت کی اس طرح کی آزادی ہمارے خاندانی نظام کے لیے بڑی خطرناک ہے۔ بچے کے گرنے پر ماں کا میں صدقے جاؤں کہہ کر لپکنا… بچے کی ہر آہٹ پر بے چین ہو جانے والی ماں، بڑھتی عمر کے بچوں کے لیے فکرمند ماں، وہ سب کی پسند ناپسند کا خیال کرکے ہانڈی پکانے والی ماں، قصے کہانیاں اور لوری سنا کر سلانے والی ماں، غلط کاموں پر ڈانٹنے اور چپلیں پھینک کر ڈرانے والی ماں، اپنی اولاد کی پرورش میں گم صم رہنے والی اور اپنی ہی اولاد میں کیڑے نکالنے اور نکتہ چینیاں کر کے دل ہی دل میں خوش ہونے والی ماں، اب اگلی نسل کو شاید نصیب ہی نہ ہو، کیونکہ سارا دن کی تھکی ہاری عورت گھر آکر کیا کیا کام کرے گی۔ بچے سنبھالے گی، گھر سنبھالے گی، شوہر کی ضروریات کا خیال رکھے گی یا آرام کرے گی، تاکہ صبح تازہ دم ہو کے ملازمت کی ذمہ داری سنبھال سکے… اسپتال، اسکول، پولیس جیسی ضروری جگہوں پر تو عورت کا وجود نعمت سے کم نہیں مگر پرائیویٹ اداروں کے استقبالیہ شاپنگ مالز میں جینٹس پراڈکٹس شاپس اور اس جیسی لاتعداد جگہوں پر عورت کی موجودگی ہمارے مشرقی نظام کے لیے ایٹم بم ہے.. اور ہمارے اخلاقی نظام کا دیوالیہ نکالنے کے لیے کافی ہے… یہ تلخ باتیں بہت سی خواتین کے لیے تکلیف دہ ہو سکتی ہیں، مگر ہم نے حقیقت دکھانے کی کوشش کی ہے... کچھ سمجھانے کی کوشش کی ہے. امید ہے کہیں بھی ضرب لگ گئی تو کچھ بدلؤ آجائے۔

نصف سے زیادہ سے مزید