آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 22؍محرم الحرام 1441ھ 22؍ستمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صحتِ زباں الفاظ اور محاورات کا درست استعمال: ’’کو ‘‘ یا ’’میں‘‘ ؟

’’کو ‘‘ یا ’’میں ‘‘؟

زبان کی صحت کا خیال رکھنے والے اب کتنے ہیں اور اردو زبان کے عام الفاظ کا اب پڑھے لکھے لوگ بھی کتنا غلط استعمال کرتے ہیں اس کا اندازہ یوں لگائیے کہ اب بعض پروفیسر حضرات اور صحافی بھی دن اور تاریخ کے ساتھ ’’کو ‘‘ کی بجاے ’’میں ‘‘ بولتے اور لکھتے ہیں۔

یہ بات تو بچے بھی جانتے ہیں کہ دن کے ساتھ ’’کو ‘‘ آتا ہے ، مثلاً پیر کو ، منگل کو وغیرہ ۔ اسی طرح تاریخ اگر عدد کے ساتھ بتائی جارہی ہے تب بھی ’’کو ‘‘ آئے گا، مثلا پہلی تاریخ کو تنخواہ ملے گی۔ اس تاریخ میں اگر سال شامل ہوتب بھی ’’کو ‘‘ لکھا اور بولنا چاہیے ، جیسے ۱۴؍ اگست ۱۹۴۷ء کو پاکستان وجود میں آیا۔ لیکن ایک پروفیسر صاحب جو ماشاء اللہ ایک جامعہ میں صحافت کا مضمون پڑھاتے ہیں ایک ادبی کانفرنس میں یوں گویا ہوئے ’’فلاں نقاد کا انتقال ۸؍ ستمبر ۲۰۱۰ء’’ میں ‘‘ہوا ‘‘۔ تب سمجھ میں آیا کہ آج کل اردو کے صحافیوں کی اردو اتنی خراب کیوں ہے۔جب صحافت کا استاد ہی غلط زبان بولے گا تو اس کے شاگرد اخبارات میں اسی طرح اردو زبان کی مٹی پلید کریں گے۔ اب بعض ٹی وی چینلوں پر بھی عام طور پر کسی کی وفات یا پیدائش کی تاریخ یوں ہی بتائی جاتی ہے کہ مثلاً فلاں صاحب پانچ جنوری ۱۹۲۸ء ’’میں ‘‘ پیدا ہوئے۔ اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ :

’’اردو ‘‘ کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے

سیدھی سی بات ہے کہ جب صرف مہینا ہوگا تو اس کے ساتھ ’’میں ‘‘ بولا اور لکھاجائے گا، جیسے جنوری میں۔ صرف سال ہوگا تب بھی ’’میں ‘‘ بولا اور لکھا جائے گا ، جیسے ۱۹۴۷ء میں ۔مہینا اور سال دونوں ہوں تب بھی ’’میں ‘‘ آئے گا ، مثلاًجنوری ۱۹۴۷ء میں ۔ لیکن اگر جملے میںدن (جیسے پیر) آئے گا یا تاریخ کے عدد (جیسے ۱۴؍ اگست) کی نشان دہی ہوگی تو ’’کو‘‘ استعمال کرنا لازمی ہے۔ گویافلاں ادیب کا انتقال جنوری’’ میں‘‘ ہوا۔ فلاں شاعر اگست’’ میں‘‘ پیدا ہوئے۔ فلاں صاحب کی شادی دسمبر ۱۹۶۹ء’’ میں‘‘ ہوئی۔لیکن فلاں شاعر کا انتقال دس جون ’’کو ‘‘ہوا، فلاں شاعر بدھ’’ کو‘‘ پیدا ہوئے، فلاں سیاست داں بیس مارچ ’’کو‘‘ پیدا ہوئے یا وہ بیس مارچ ۱۹۴۰ء’’ کو‘‘ پیدا ہوئے۔ فلاں صاحب کی شادی بائیس دسمبر ۱۹۶۹ء’’ کو‘‘ ہوئی۔فلاں لڑکی کی رخصتی اس مہینے کی دسویں تاریخ ’’کو ‘‘ ہوگی۔

غالب نے کہا کہ :

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت ’’کو ‘‘ ملیں گے

کیا خوب قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور

قیامت تو اس دن آئی تھی جب اردو کی جگہ انگریزی کو ذریعۂ تعلیم بنادیا گیا تھا۔ اب روئیے بیٹھ کر اس دن ’’کو‘‘۔

قرطاسِ ادب سے مزید