آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ14؍ شعبان المعظم 1440 ھ20؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد میں سفید فام انتہا پسند دہشت گرد کے ہاتھوں 50مسلمانوں کے قتل عام کے بعد حملے میں ملوث شخص کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دینے کے بجائے ’’نفسیاتی‘‘ اور ’’جنونی‘‘ قرار دینے کی امریکی اور یورپی مہم اُس وقت دم توڑ گئی جب گزشتہ روز نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے پارلیمنٹ کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اس دلخراش سانحہ میں ملوث قاتل کو ’’دہشت گرد‘‘ اور ’’انتہا پسند مجرم‘‘ قرار دیا۔ اُنہوں نے اپنے خطاب کا آغاز ’’السلام و علیکم‘‘ سے کرتے ہوئے دہشت گرد کو روکنے کی کوشش میں جان دینے والے شہید پاکستانی نعیم رشید کو بھی خراج عقیدت پیش کیا۔ جیسنڈا آرڈرن نے اس قتل عام کو نیوزی لینڈ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا اور کہا کہ افسوس حملہ آوروں نے دہشت گردی کیلئے اُن کے ملک کا انتخاب کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعہ کے بعد جب نیوزی لینڈ میں مقیم مسلمان شدید صدمے اور خوف کا شکار تھے، وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن نے مسلمانوں کو گلے لگاکر اُن کے زخموں پر مرہم رکھا اور امریکی صدر کے تعزیتی فون پر اُن سے برجستہ کہا کہ ’’امریکہ مسلم کمیونٹی سے محبت و ہمدردی کا اظہار کرے۔‘‘ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اس عمل نے مسلمانوں کے دل موہ لئے اور وہ عالمی سطح پر ایک عظیم لیڈر بن کر ابھری ہیں۔

دہشت گردی کے حالیہ واقعہ سے قبل نیوزی لینڈ کا شمار دنیا کے پرامن ترین ملکوں میں ہوتا تھا اور اس سے پہلے نیوزی لینڈ میں اس طرح کی دہشت گردی کا کبھی کوئی واقعہ منظر عام پر نہیں آیا۔ کرائسٹ چرچ کی مساجد میں ہونے والا قتل عام دہشت گردی کی بدترین مثال ہے لیکن اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ دہشت گرد سفید فام ہونے یا مسلمانوں کے نشانہ بننے کی صورت میں ایسے واقعات کو ’’دہشت گردی‘‘ کے بجائے ’’قتل عام‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ اس سانحہ کا ایک افسوسناک پہلو یہ بھی ہے کہ عالمی میڈیا نے اس خونی واقعہ کو اس شدت سے پیش نہیں کیا جس طرح وہ کسی مسلمان حملہ آورکے واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔

حالیہ قتل عام نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے جس میں مذہب کی کوئی قید نہیں۔ اس سے پیشتر جب بھی امریکہ اور یورپ میں دہشت گردی کی کوئی کارروائی ہوتی تھی تو اُسے فوراً انتہا پسندی کا نام دے کر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی تھی جس کے نتیجے میں امریکہ اور یورپ میں نسل پرستی، تشدد اور انتقام کی لہر اٹھی جو اسلامو فوبیا کی شکل اختیار کر گئی۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آسٹریلین دہشت گرد جس نے 50نہتے مسلمانوں کو اپنی بربریت کا نشانہ بنایا، وہ بھی اسلامو فوبیا کا شکار تھا اور یہ بات واقعہ سے قبل فیس بک پر جاری کئے گئے اُس کے منشور سے بھی صاف ظاہر ہوتی ہے۔ وہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے دوران اسلام کے خلاف مسلسل زہر اگلتا رہا اور ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے خونی مناظر سوشل میڈیا پر براہ راست نشر کرتا رہا جبکہ اُس کے دوست اور فالورز اِس منظر سے لطف اندوز ہو کر اپنے کمنٹس میں دہشت گرد کے اقدام کو سراہتے رہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ نسلی تعصب لوگوں کو تشدد پر اُکساتا ہے جس کا آغاز نظریات اور اختتام خونریزی پر ہوتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں سفید فام نسل پرستی فروغ پا رہی ہے۔ ایسی سوچ رکھنے والے فاشسٹ نظریات کے حامل ہوتے ہیں جو مسلمانوں سے نفرت کرتے ہیں۔ اُن کا نظریہ ہوتا ہے کہ امریکہ اور یورپ میں صرف سفید فام لوگوں کو رہنے کا حق ہے اور سانحہ کرائسٹ چرچ نے سفید فام نظریات کی اس انتہا پسندی اور سفاکی کو عیاں کر دیا ہے۔

دہشت گردی آج پوری دنیا کا مسئلہ بن چکی ہے اور دہشت گردوں کا تعلق کسی مذہب سے جوڑنا قطعی درست نہیں۔ کرائسٹ چرچ واقعہ مسلمانوں کے خلاف کی جانے والی سازش کی ابتدا ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ اس واقعہ کے بعد غیر مسلموں اور اُن کی عبادت گاہوں پر ازخود حملے کروا کے اور مسلمانوں پر ردعمل کا الزام لگا کر مغربی ممالک مسلمانوں کیلئے اپنے امیگریشن قوانین میں مزید سختی لائیں گے تاکہ مسلمانوں کی مغربی ممالک آمد کو روکا جا سکے۔

سانحہ کرائسٹ چرچ میں 50مسلمانوں کے قتل عام کے ذمہ دار اسلامو فوبیا کا شکار امریکہ اور یورپ کے سیاستدان، مغربی میڈیا، سوشل میڈیا اور اسلام مخالف ویڈیو گیمز ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتے اسلامو فوبیا کو روکا جائے اور مسلمانوں کے خلاف منافرت کی روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے۔ سانحہ کرائسٹ چرچ عالمی برادری کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے لیکن اگر اس قسم کے پرتشدد واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے گئے اور اسلامو فوبیا پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں ایسے انسانی المیے رونما ہوتے رہیں گے اور پھر دنیا کو جہنم بننے سے نہ بچایا جاسکے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں