آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی میں گزشتہ تین دن کے دوران دو پولیس افسران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے۔

کھارادر تھانے میں تعینات اے ایس آئی منور حسین باجوہ منگل کو دن میں پولیس موبائل پر گشت ڈیوٹی پر تھے کہ اولڈ سٹی ایریا میں لی مارکیٹ کے قریب ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔ انہیں فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں پہنچنے پر ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔

ڈاکٹروں کے مطابق انہیں دل کا دورہ پڑا، بروقت طبی امداد نہ ملنے کی وجہ سے ان کی موت واقع ہوئی۔ بعدازاں ان کی میت کو ایدھی سینٹر موسٰی لین میں غسل کفن کے بعد ڈاکس تھانے میں نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں کسی اعلیٰ افسر نے شرکت نہیں کی۔

ملتان یا بہاولپور کے لئے کوئی فوری فلائٹ دستیاب نہ ہونے پر ورثاء سڑک کے راستے میت لے کر پنجاب روانہ ہوگئے۔ ہارون آباد میں ان کے آبائی شہر بہاولنگر کے نواحی علاقے فقیروالی انہیں سپرد خاک کیا گیا۔

کراچی پولیس کے ایک اور انسپکٹر زبیر گھمن کے ساتھ بھی اتوار کے روز کچھ ایسا ہی ہوا۔ انسپکٹر زبیر گھمن کو دل کا دورہ پڑا انہیں اسپتال منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی جس کے بعد ان کی میت ان کے آبائی شہر بورے والا روانہ کی گئی جہاں گزشتہ روز ہی ان کی تدفین ہوئی۔

کراچی پولیس کے بیشتر افسران دل کے مریض ہیں، پولیس ملازمین کی بڑی تعداد کو ہیپاٹائٹس کا عارضہ لاحق ہے۔ اسی طرح شوگر کے مریض پولیس افسران کی تعداد بھی ان گنت ہے۔ بلڈپریشر اور دیگر امراض میں مبتلا پولیس ملازمین بھی کثیر تعداد رکھتے ہیں۔ ڈیوٹی کے دوران بیشتر پولیس ملازمین کو دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ فٹ نہیں ہوتے۔

ان کے علاج معالجے کیلئے پولیس اسپتال قائم کیا گیا ہے جہاں پولیس ملازمان کے علاج معالجے سے زیادہ چھٹی کیلئے میڈیکل، بھرتی یا ٹریننگ کیلئے فٹنس یا دیگر ایسے امور سرانجام دیے جاتے ہیں جن کا پولیس فورس کے ملازمین کی صحت کی بحالی سے قطعی کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا۔

سب سے افسوسناک بات یہ کہ اعلیٰ پولیس افسران کو اس صورتحال پر تشویش بھی نہیں۔ گزشتہ دو روز کے دوران جن دو پولیس افسران کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا اس پر کسی تحقیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی۔

بیشتر پولیس افسران نے ان کی موت کی خبر سن کر بے ساختہ ’اوہو‘ کہا اور ’انا للہ وانا الیہ راجعون‘ پڑھ کر افسوس کا اظہار کردیا اور سرکاری کاموں میں مصروف ہوگئے۔ شاید بیشتر بڑے افسران کی نظر میں صرف گولی لگنے یا کسی اور حملے میں پولیس افسر کی موت ہی اصل ’موت‘ ہوتی ہے۔

کوئی پولیس ملازم کسی اور طریقے سے مرا تو اللہ کی رضا سمجھ لیا جاتا ہے۔ کسی پولیس ملازم کو کسی افسر کی دھمکی، وسائل کی عدم دستیابی پر خاندانی معاملے یا کسی مافیا کے خوف سے دل کا دورہ پڑا یا مرنے والا کن حالات کا شکار ہوا۔؟ کسی سے پوچھنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں