آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے استفسار کیا ہے کہ تفتیش کے موقع پر اپنے لوگوں کو بلاکر حملہ کروانے کا رویہ کالعدم تنظیموں سے کس طرح مختلف ہے؟

فواد چوہدری نے آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی نیب ہیڈکواٹرز میں پیشی کے دوران پیپلز پارٹی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان پیش آنے والے صورتحال پر اظہار خیال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے لوگوں کے لوگوں کا پولیس پر حملہ افسوسناک ہے،امید ہے پی پی قیادت آج معذرت کرلے گی۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ آج چند درجن لوگوں نے پولیس پر حملہ کیا، اہلکاروں نے تحمل و صبر کا مظاہرہ کیا اس دوران 4 اہلکار زخمی ہوئے۔

انہوں نے پی پی قیادت سےسوال کیا کہ کیا آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کو تفتیش کیلئے کیوں بلایا؟ یہ رویہ کالعدم تنظیموں سے کس طرح مختلف ہے جن پر نیشنل ایکشن پلان کا نفاذ ہو رہا ہے؟

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے رویے سے آئین کے بنیادی تصورات کی نفی ہوئی،افہام و تفہیم چاہتے ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ احتساب کا عمل روک دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی معاملے کو غیرجانبداری سے نمٹانے کی کوشش قابل ستائش ہے،ہم پولیس کے اسی رویے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں،آپ حد پار کریں گے تو ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی،ایسا ممکن نہیں کہ آپ تحقیقات کے عمل کو متاثر کرسکیں۔

وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی کے 500 کارکنوں سے بلاول بھٹو کی گفتگو ایسی تھی، جیسے وہ لاکھوں کے مجمع سے خطاب کر رہے ہوں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ آصف زرداری اور بلاول بھٹو سمیت جن پر مقدمات ہیں،انہیں عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا، احتساب کا عمل جاری رہے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں