آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍رمضان المبارک 1440ھ27؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برسلز میں یورپین لٹریسی سرکل کے زیراہتمام  منعقدہ اجلاس میں شرکاء نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ثقافت ایک ایسا مشترکہ اثاثہ ہے جسے اگر اُس کے وسیع تناظر میں دیکھتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے تو وہ ہر معاشرے کیلئے خیر اور ہر باہر سے آنے والوں  کیلئے جائز مواقع کے حصول کا سبب بن سکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار یورپ بھر سے آئے ہوئے دانشوروں ، ادیبوں ، شاعروں اور شاعرات نے برسلز کی اہم ترین تاریخی عمارت 1000 برسلز کی سینٹرل کمیون میں منعقدہ اجلاس میں کیا۔

جس کا اہتمام اسی میونسپلٹی کے پہلے پاکساتنی نژاد کونسلر محمد ناصر چوہدری کے تعاون سے کیا گیا تھا ۔جبکہ اس کے شرکاء میں ڈنمارک سے صدف مرزا، ناروے سے ڈاکٹر ندیم سید، جرمنی اسٹٹ گارڈ سے ہُُما مالنی، برلن سے ڈاکٹر عشرت معین سیما، بون سے   سیمی زیدی ،برطانیہ سے فیض امن میلے کے آرگنائزر اکرم قائم خانی، برمنگھم اپوا برطانیہ کی چئر پرسن رفعت مغل، اپواہی کی رعنا شمع نذیر، لیورپول پول یونیورسٹی سے دلنوازگل، تیونسی نژاد ڈاکٹر منال، ہالینڈ سے پاکستان میلے کے روح رواں اعجاز سیفی، آدم جی ایوارڈ یافتہ ادیب خالد فاروق , صفدر نوید زیدی ،عدیل شاکر، منصور عالم  ، اسپین سے راجہ شفیق کیانی،اٹلی سے چوہدری نواز گلیانہ ، فرانس سے عاکف غنی ، نبیلہ شاکر اور آصف جاوید آصف،جبکہ بیلجئم سے چوہدری عمران ثاقب اور شیراز راج شامل تھے۔

صبح سے شام تک جاری رہنے والے اس اجلاس کی تین نشستیں تھیں جس میں سب سے پہلے مہمانوں کو یورپین پارلیمنٹ کا دورہ کرایا گیا ۔بعد ازاں " مہاجر خواتین کی بحالی میں ثقافت کا کردار" کے موضوع پر ہونے والی نشست میں ڈاکٹر منال ، کونسلر ناصر چوہدری ، رعنا شمع نذیر ، کوکل برگ کمیون سے پاکستانی خاتون کونسلر لامیہ خان ، ڈاکٹر عشرت معین ، سیمی زیدی، رفعت مغل ، ڈاکٹر ندیم سیداور دلنواز گل نے اظہارخیال کیا۔

اس دوران ایک رپورٹ زیر بحث آئی جس میں بتایا گیا کہ یورپ میں اس وقت کم وبیش  47 لاکھ خواتین جسم فروشی میں ملوث ہیں ۔ جس کی بنیادی وجہ رہائش کی عدم دستیابی کی ابتدائی مشکلات ہیں ۔ جنمیں زبان سے ناوقفیت اور اپنی ثقافت کے کھو جانے کا خوف شامل ہیں ۔

جس کے باعث سیکھنے کی صلاحیت میں مسلسل کمی واقع ہوتی ہے اور پھر مالی مطالبات اور ضروریات اُنہیں ہوس پرستوں کا شکار بنادیتی ہیں ۔ اسی تناظر میں سماج کے اندر خواتین کے حقوق اور انکا کردار بھی زیر بحث آیا جس میں یہ نکتہ اہمیت کا حامل تھا کہ خواتین برابری نہیں بلکہ انصاف چاہتی ہیں ۔

اس دوران یہ بات خاص طور پر نوٹ کی گئی کہ تعلیم و تربیت کی ضرورت صرف خواتین ہی کو نہیں بلکہ مردوں کو اس کی زیادہ ضرورت ہے۔ جیسا کہ کونسلر لامیہ خان نے کہا کہ صحیح سوچ اور تعلیم و تربیت ان کے شوہر کی طرح انکے کام میں رکاوٹ نہیں بلکہ ان کی مدد سے آگے بڑھنے کے راستے ہموار کرتی ہے۔

دوسری جانب لٹریسی سرکل  کی صدر صدف مرزا  کا یہ کہنا بھی بجا تھا کہ کچھ بننے کیلئے خواتین  کو اپنی منزل اور اس کیلئے محنت کا راستہ خود متعین کرنا ہو گا ۔اسٹڈی سرکل کی ڈائریکٹر ڈاکٹر عشرت معین سیما نے بیرون ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی کے معاشروں میں خواتین کی غیر مودگی کو توجہ کا مرکز بنایا ۔

اُنہوں نے متوجہ کیا کہ ان محافل سے خواتین کی غیر موجودگی دراصل مردوں کے اپنے خوف کی علامت ہے۔ جس کے ذریعے وہ یہ تاثر دے رہے ہوتے ہیں کہ خواتین کے حوالے سے انکی اپنی سوچ ناپختہ اور اس کے نتیجے میں اُنہیں اپنی ہی جنس کے دیگر لوگوں پر اعتبار نہیں ۔

بعد ازاں ادب وثقافت کی ترویج، کتب کی رونمائی اور کلا م شاعر بزبان شاعر کے عنوان سے تیسری نشست ہوئی۔ جس میں فیض میلہ کی آرگنائزنگ کمیٹی برطانیہ کے صدر اکرم قائم خانی۔ بیلجئیم سے کونسلر عامر نعیم ،چوہدری نواز گلیانہ، راجہ شفیق کیانی اور اعجاز سیفی نےروشنی ڈالی۔

اکرم قائمخانی نے فیض امن میلے کے یورپ اور امریکہ میں انعقاد کے حوالے سے گفتگو کی اور اس کے لئے باہمی تعاون پر زور دیا ۔ دیگر مقررین نے اس خیال سے اتفاق کیا کہ ان سرگرمیوں میں اضافے کیلئے مزید کوششوں اور اس میں خواتین و فیملیز  کی بھر پورشرکت ضروری ہے۔

اس موقع پر ہالینڈ سے آدم جی ایوارڈ یافتہ خالد فاروق ، جرمنی سے ہُما مالنی ، جرمنی سے ڈاکٹر عشرت معین ، ہالینڈ سے عدیل شاکر۔ڈنمارک سے صدف مرزا ، صفدر نوید زیدی اور فرانس سے عاکف غنی کی کتب کی رونمائی ہوئی جس کے بارے میں مصنفین نے مختصراً اظہار خیال بھی کیا ۔

نشست کے آخری حصے میں چوہدری عمران ثاقب ، شیراز راج ، سیمی زیدی ، عدیل شاکر ، عاکف غنی ، نبیلہ آرزو، اور آصف جاوید آصف نے اپنا کلام سنایا اور خوب داد وصول کی۔

بعد ازاں یورپین لٹریسی سرکل کی صدر صدف مرزا اور جنرل سیکرٹری عمران ثاقب نے اس پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے 1000 برسلز کمیون کے کونسلر ناصر چوہدری، سماجی کارکن روبینہ خان ، ایم ندیم بٹ،  اور دیگر ممالک کے شرکاء کا خصوصی شکریہ اداکیا ۔ اس موقع پر آفیشل گائیڈ کے ذریعے یونیسکو کی جانب سے ثقافتی ورثہ قرار دی جانے والی اس عمارت کا دورہ کرانے کا  بھی اہتمام کیا گیا۔


Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں