آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل18؍ذوالحجہ 1440ھ20؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’’الطاف صحافت‘‘ پاکستان کی ممتاز اور منفرد صحافتی شخصیت جناب الطاف حسن قریشی کی صحافتی و ادبی خدمات پر مشتمل ایک مکمل کہانی کا اصولی اور اجمالی خاکہ ہے، یہ خاکہ آپ کو ان کی صحافتی و ادبی خدمات کے گلستان اور ریگستان کے تمام راستوں اور راہوں کی چشم کشائی سے لطف اندوز ہونے کی ذہنی لذت سے سرشار کرتا ہے، معروف مصنف، مرتب، مولف اور کالم نگار ڈاکٹر طاہر مسعود کی شفقت آمیز محبتوں نے اس نایاب صحافتی و ادبی دستاویز کو پاکستانی عوام اور آئندہ نسلوں کے لئے محفوظ کر دیا ہے، لائبریریوں کی الماریوں میں پاکستان کی کہانیوں سے لبالب کاوشوں میں ان کی اس کاوش سے شاید ہی صرف نظر کیا جا سکے۔ جناب الطاف حسن قریشی نے اپنی جدوجہد حیات، از خود اپنے ہی اس ایک شعر میں سمیٹ دی ہے۔

ہماری داستان آرزو الطاف اتنی ہے

سحر کی جستجو کی تھی شب گلنار تک آئے

یہ غزل انہوں نے 1972ء میں پہلی گرفتاری پر کوٹ لکھپت جیل میں لکھی تھی۔ نثر میں اپنی جدوجہد حیات بھی چند جملوں کے کوزے میں بند کر دی۔ لکھتے ہیں ’’نصف صدی تک ہم تلاش حق اور شہادت حق کا فریضہ سرانجام دینے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے ہیں، اس میں ہمیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ ہمارے ادارے غیر معمولی نقصانات سے دوچار بھی ہوئے، ہمارے خاندان نے بڑے مصائب بھی جھیلے لیکن ہم کبھی حرفِ شکایت زبان پر لائے نہ اخبارات میں چرچا کیا کہ مشنری جذبہ اس کی اجازت نہیں دیتا‘‘۔

میں اب 87برس کی عمر کو پہنچ گیا ہوں لیکن آج کے حکمرانوں کو بھی غلط روش پر ٹوکتا رہتا اور اپنے گریبان میں بھی جھانکتا رہتا ہوں، پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہم دونوں بھائیوں (مراد بڑے بھائی محترم ڈاکٹر اعجاز حسن قریشی سے ہے) نے اس قدر کٹھن سفر کس طرح طے کر لیا۔۔۔ بس ایک ہی دعا ہے، یہ ’’اردو ڈائجسٹ جس نے تین نسلوں کی ذہنی آبیاری کی ہے اور امید کے چراغ روشن رکھے ہیں، وہ اپنی روایات کا تسلسل قائم رکھ سکے‘‘۔

مبالغے اور جانبداری سے محتاط رہتے ہوئے، جناب الطاف حسن قریشی کو فکری سطحات پر ہم اپنے نظریاتی، صحافتی، ادبی اور سماجی بزرگوں سرسید سے لے کر شورش کاشمیری تک کی مسلسل صف میں شامل کر سکتے ہیں، ان کے اسلوبِ فکر و نگارش نے اس سلسلے کو منقطع نہیں ہونے دیا، جناب مجیب الرحمٰن شامی نے ان کے اس تاریخی سراپے کی غالباً مکمل تصویر کشی کی ہے۔ شامی صاحب کے خیال میں ’’وہ سیاستدان ہوتے تو ذوالفقار علی بھٹو کی بے تابیوں کو سید مودودی کا سوزمل جاتا، ناول نگار ہوتے تو نسیم حجازی اور قرۃ العین حیدر کو یکجا کرنا پڑے گا، شاعر ہوتے تو اقبال کی آرزوئیں داغ کے لہجے میں ڈھل جائیں، صنعت کار ہوتے تو میرا خیال ہے اتفاق فائونڈری کے سریے سے مضبوط سریا بنا کر دکھا دیتے، انہوں نے صحافت کو چن لیا یا یوں کہئے کہ صحافت نے ان کو چن لیا، اس میدان میں قدم رکھا تو سونے کے زیور بناتے تھے، بڑھتے بڑھتے لوہے کے گرز ڈھالنے لگے۔ اردو ڈائجسٹ کی ایجاد سے انہوں نے ادب عام آدمی تک پہنچایا، حقائق کہانی کے انداز میں سنائے اور گھر گھر اپنا سکہ جمایا، دیمک زدہ ادبی رسالوں کے ایڈیٹروں نے انہیں اپنا حریف جانا اور یہ بھول گئے کہ جارج ہفتم اور ایڈورڈ ہشتم کے دور کے سکے جیب میں رکھ کر پولکا آئس کریم تو کجا بندو خان کے کباب بھی نہیں خریدے جا سکتے، الطاف صاحب نے یہ بات منوائی کہ عوام کی زبان میں دل کی بات کی جائے تو اس کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔ اردو ڈائجسٹ اردو کا پہلا رسالہ تھا جو ایک لاکھ سے زیادہ چھپنے لگا۔‘‘ اور مشتاق یوسفی، کہ ان کے لکھے کو ’’فرمودہ‘‘ ہی سمجھنا چاہئے اور یوسفی صاحب کا فرمودہ یہ ہے۔ ’’ہم ادیبوں کے اندر جو سہما سہما مصلحت اندیش شخص بیٹھا تھا اسے سب سے پہلے جس جیالے نے جرأت اظہار بخشی وہ خود ادیب تھا، ادبی سچائیوں کا سرچشمہ تھا، ہماری ساری نگارشیں، ہمارا سارا ناموسِ فن الطاف صاحب پر نثار! وہ رستم کیانی تھا کہ جس کی خاک پا آج بھی سرمہ چشم دانش وراںہے،اس جریدے کے اوراق بھی اسی جنوں کی حکایت کا ایک ناقابل فراموش باب ہیں‘‘

جناب مجیب الرحمٰن شامی اور حضرت مشتاق یوسفی کے افکار رسا کے آئینے میں ’’الطاف صحافت‘‘ کے لئے کسی اصو ل بیانئے پر پہنچنے سے قبل تین نکات کی ’’انکشافی کیفیت ‘‘ پر گفتگو کے بغیر چارہ نہیں، وہ تین نکات یہ ہیں۔

(1) الطاف صحافت کے تناظر میں شامی صاحب کی تشبیہات‘‘ ذوالفقار علی بھٹو، سید مودودی، قرۃ العین حیدر اور اقبال کا ذکر! (2) یوسفی صاحب نے اس تناظر میں ’’رستم کیانی‘‘ کو یاد کیا۔ (3) پہلے دو پہلووئوں کے پس منظر میں ’’الطاف صحافت‘‘ کی ’’جدوجہد حیات‘‘ پر کسی ’’اصولی بیانیے‘‘ کی تشکیل۔

جناب مجیب الرحمٰن شامی کی یہ تشبیہات الطاف حسن قریشی کی کیا صورت گری کر رہی ہیں۔ یہ کہ وہ اپنی قومی تاریخی جدوجہد میں ذوالفقار علی بھٹو کا تحرک، سید مودودی کا پُرایمان تیقن، قرۃ العین حیدر کی کائناتی نثر نگاری اور اقبال کے فلسفہ عظمت خودی کے مربعے میں زندگی کی شکار گاہوں میں رزم آرا رہے۔ الطاف صاحب کی تاریخ ساز قومی جدوجہد میں ’’سقوط مشرقی پاکستان‘‘ اور ’’ذوالفقار علی بھٹو جیسے قومی ابواب پہ ان کی اپروچ اور طریق سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، وہ ہمیں بھی ہے، تھوڑا شدید نہیں بہت شدید، پھر بھی انہیں پاکستانیوں کے مایہ ناز افراد کی صف میں شمار کرنے کو دل چاہتا ہے کہ وہ شائستہ کلام اور شائستہ کردار ہیں، اُنہوں نے اپنے نظریاتی قبیلہ کے بہت برعکس ذوالفقار علی بھٹو سے اختلاف کے معاملے میں تہذیب، اعتدال اور گنجائش کے دروازے کبھی بند نہیں کئے!