آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیورو کریسی کام کیوں نہیں کر رہی! سیکریٹریز کمیٹی نے واضح کر دیا

کراچی (انصار عباسی) جس دن وزیراعظم عمران خان نے شکایت کی کہ بیوروکریسی فائلوں پر دستخط نہیں کر رہی اور اسلئے حکومت کیلئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، اس کے ایک دن قبل سرکاری ملازمین کے اعلیٰ ترین ادارے سیکریٹریز کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا جس میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نیب بدستور سرکاری ملازمین کو پریشان اور ہراساں کر ررہا ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بدھ کو ہونے والے سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاس میں تشویش کا اظہار کیا گیا کہ سیکریٹریوں اور ایڈیشنل سیکریٹریوں کو نوٹس جاری نہ کرنے کی چیئرمین نیب کی یقین دہانیوں کے باوجود معاملہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ ایک وفاقی سیکریٹری کے مطابق، سیکریٹریز چاہتے تھے کہ یہ معاملہ وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین کے روبرو پیش کیا جائے جو خود بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے تھے، لیکن ایسا نہیں ہو پایا کیونکہ مسٹر عشرت حسین کو جلدی جانا تھا۔ بعد میں سیکریٹریز نے فیصلہ کیا کہ وہ اجلاس کے اہم نکات کی صورت میں اپنے تحفظات براہِ راست نیب کو بتائیں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یہ سمجھنا چاہئے کہ بیوروکریسی کو اگر یہ ڈر لگا رہے کہ کسی بھی فیصلے اور کرپشن کے ثبوت کے بغیر بھی انہیں طلب کیا جا سکتا ، ان سے تفتیش کی جا سکتی ہے حتیٰ کہ انہیں گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، اس وقت تک وہ کسی فائل پر دستخط نہیں کرے گی۔ ایک ذریعے کے مطابق، سرکاری ملازم اس وقت اپنا اعتماد کھو دیتا ہے جب پوری بیوروکریسی میں نیب وزیراعظم عمران خان کے دو اہم مشیروں (پرنسپل سیکریٹری اعظم خان اور سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈاکٹر اعجاز منیر) کو طلب کرنے سے نہیں ہچکچاتی، حالانکہ ان کی ساکھ بھی اچھی ہے اور ریکارڈ بھی صاف ہے۔ یہی نہیں، کہا جاتا ہے کہ نیب اچھی ساکھ کے حامل ایک اور سینئر بیوروکریٹ اور ایف بی آر کے چیئرمین جہانزیب خان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ ان کی تعریف تو وزیراعظم نے خود کی تھی۔ ایک اور اچھے وفاقی سیکریٹری طارق پاشا، جو فی الوقت کشمیر افیئرز کے سیکریٹری ہیں، کو بھی نیب کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ ایسے کئی حاضر سروس اور ریٹائرڈ سیکریٹریز اور دیگر سینئر بیوروکریٹس ہیں جنہیں نیب ہراساں کر رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ صوبوں بالخصوص سندھ میں سول بیوروکریسی کیلئے حالات بدتر ہیں۔ حالیہ برسوں کے دوران، فواد حسن فواد اور احد چیمہ جیسے افسران کی گرفتاری نے بیوروکریسی کو مایوس کر دیا ہے لیکن سی ڈی اے کے سابق ممبر بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کی خودکشی کے حالیہ واقعے نے سول سروسز کے اعتماد کو زبردست ٹھیس پہنچائی ہے۔ ایک سینئر افسر نے کہا کہ ایسے حالات میں بیوروکریسی معمول کے مطابق کیسے کام کر سکتی ہے، نیب کو بیوروکریٹک کام کی بنیادی سمجھ بوجھ نہیں اور اسلئے اکثر نقائص سے پر مقدمات بنائے جا رہے ہیں۔ ایسے حالات کو دیکھتے ہوئے، سیکریٹریز کمیٹی بار بار نیب کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے معاملے پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم، صورتحال درست کرنے کے اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ چند ماہ قبل، چیئرمین نیب نے سیکریٹریز کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کرکے یقین دہانی کرائی تھی کہ آئندہ نیب وفاقی سیکریٹریز اور ایڈیشنل سیکریٹریز کو معمول کی انکوائری اور انوسٹی گیشن کیلئے طلب نہیں کرے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ وفاقی سیکریٹریز اور ایڈیشنل سیکریٹریز کو طلب کرنے کی بجائے بیورو کی جانب سے ان کے پاس جا کر کسی بھی ایسے معاملے پر سوالوں کے جواب طلب کیے جائیں گے جس کے حوالے سے نیب تحقیقات کر رہا ہوگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، چیئرمین نے سیکریٹریز سے یہ بھی کہا تھا کہ وہ بذات خود سوالات کا جائزہ لے کر سینئر ترین بیوروکریٹس کو بھجوائیں گے۔ بیوروکریٹس نے پہلے شکایت کی تھی کہ مبینہ کرپشن کے معاملات میں نیب کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کیے جانے کی بجائے قیاس آرائیوں پر مبنی ہوتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں