آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ضم شدہ قبائلی اضلاع میں الیکٹرک انسپکٹریٹ ذیلی دفاتر کھولنے پر غور

پشاور(نیوزڈیسک)وزیراعلیٰ خیبرپختونخواکے مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے کہا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں توانائی کے وسائل کوبروئے کارلانے کے لئے باقاعدہ طورپر توانائی پلان مرتب کیا گیا ہے جہاں پانی سے سستی بجلی پیدا کرکے خوشحالی وترقی کے نئے دورکاآغازکیاجائے گا۔نئے اضلاع میں عوام کو بجلی کے درپیش مسائل کے فوری حل کیلئے الیکٹرک انسپکٹریٹ کے ریجنل (مقامی) دفاترقائم کرنے پر غورکیا جارہا ہے جبکہ صوبے کے پانچ اضلاع کے ساتھ ساتھ ضلع کوہاٹ اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی الیکٹرک انسپکٹریٹ کے ذیلی دفاتر کھولنے کاپروگرام ترتیب دیا گیا ہے۔ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ کے مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے محکمہ توانائی وبرقیات کے ذیلی ادارے الیکٹرک انسپکٹریٹ میں اصلاحات سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں محکمہ توانائی وبرقیات کے ایڈیشنل سیکرٹری (ایڈمن)افتخاراحمدمروت ،ایڈیشنل سیکرٹری (پاور)ظفرالاسلام اورالیکٹرک انسپکٹرانجینئراحسان خان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخواحکومت نے صوبے میں بجلی صارفین کے جملہ مسائل کے فوری حل کے لئے الیکٹرک انسپکٹریٹ کوموثر بنانے کے لئے ادارے کی ریسٹرکچرنگ اوراصلاحات لانے کافیصلہ کیا ہے۔ صوبائی الیکٹرک انسپکٹریٹ کے ہیڈکوارٹرکے علاوہ صوبے

کے5اضلاع سوات، پشاور،نوشہرہ،بنوں اورایبٹ آباد میںریجنل آفس قائم کئے گئے ہیں جبکہ ضلع کوہاٹ اورڈی آئی خان میں بھی الیکٹرک انسپکٹریٹ کے ذیلی دفاترقائم کئے جارہے ہیں جہاں بجلی صارفین کے جملہ مسائل جن میں اووربلنگ،ڈسکنکشن،لووولٹیج اوربجلی کنکشن کے فوری انتظامات سمیت دیگرحل طلب مسائل کوپیسکو اورواپڈاکے ساتھ فوری حل کیا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں