آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل19؍ذیقعد 1440ھ 23؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ گزشتہ روز قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی کے گھرپہنچ گئے۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ صوبائی کے ہمراہ صوبائی وزراء بھی تھے، انہوں نے مفتی تقی عثمانی کی خیریت دریافت کی۔

وزیراعلیٰ سندھ سے گفتگو میں مفتی تقی عثمانی نے بتایا کہ ان کی گاڑی پر چاروں اطراف سے فائرنگ کی گئی جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ اللہ پاک نے آپ پر کرم کیا اور آپ کو اور اہل خانہ کو محفوظ رکھا۔

مراد علی شاہ نے واقعے میں سندھ پولیس کے شہید ہونے والے اہلکار کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ شہید اہلکار کے خاندان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے، ان کے نابینا بچوں کا علاج کرائیں گے اور انہیں تعلیم بھی دلوائیں گے۔

واضح رہےکہ گزشتہ روز کراچی کے علاقے نیپا چورنگی پر مفتی تقی عثمان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا جس میں ان کا محافظ پولیس اہلکار بھی شہید ہوگیا تھا۔

معروف عالم دین مفتی تقی عثمانی کی تاک میں آنے والے دہشت گردوں کی گولیوں کا سامنا کرنے والا سندھ پولیس کا جوان باغ کورنگی کا رہائشی پولیس اہلکار فاروق کئی افراد کا کفیل تھا،

مفتی تقی عثمانی کو بچاتے ہوئے شہید ہونے والے پولیس اہلکار فاروق کے 7 بچے یتیم ہو گئے، جن میں سے 3 بچے نابینا ہیں۔

شہید اہلکار کی بیوہ بہن کے 6 بچے بھی اس کی زیر کفالت تھے، تمام بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنے والا ٹارگٹ کلرز کا نشانہ بن گیا۔

مفتی تقی عثمانی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے مقدمے میں قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں