آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ18؍شعبان المعظم 1440ھ24؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہلی دفعہ پورے نیوزی لینڈ میں اذانیں گونج رہی ہیں "اللہ اکبر"۔15فروری 2019نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ میں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی گئی۔ان دو مساجد میں نہتے نمازیوں پر ایک سفید فام دہشت گرد نے بعد نماز جمعہ قانونی اسلحے سے گولیوںکی بوچھاڑ کردی اور پھر فرار ہوگیا۔پوری دنیا میں مذمت کی گئی، اس میں کرسچن ،یہودی اور دیگر مذاہب کے پر امن باشندے شامل تھے ۔خود نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈاآرڈن ، پولیس کے مسلمان سربراہ ، پارلیمنٹ کے اراکین اور پوری قوم نےپورے ہفتے مسلمانوں سے جو اس سانحہ میں شہید اور زخمی ہوئے تھےاظہار ہمدردی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ نیوزی لینڈ کی دیگر مذاہب کی جماعتوں اور عوام نے کھل کر مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کیا اور عملی طور پر ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوکر دہشت گرد وں کو پہلی مرتبہ یہ پیغام دیا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے اور مسلمانوں پر اس دہشت گرد کا خود ساختہ لیبل بھی اتارپھینکا اور ثابت کیا کہ اسلاموفوبیا ایک سوچا سمجھامغربی ممالک کا پروپیگنڈہ ہے۔ جو 9/11کی گھنائونی سارش کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرنے کیلئےکیا گیا ۔ جب بھی دنیا میں دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے تو اس کو مسلمانوں کی طرف دھکیل دیا جاتا ہے۔ خواہ اس میں دوسرے مذاہب کے افراد بھی شامل ہوں۔ ناروے میں 2011میں ایک عیسائی دہشت گرد نے فائزنگ کر کے اپنے ہی 77افراد کو اسی طرح قتل کیا تھا ۔مگر آج تک اس کو دہشت گرد نہیں نفسیاتی مجرم قرار دیکر اس کا علاج کروایا جارہا ہے ۔ نیوزی لینڈ میں اس کھلی دہشت گردی، جس میں 50سے زائد افراد شہید اور لاتعداد زخمی ہوئے ، پوپ فرانسس ،سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو،روس کے صدرپیوٹن، امریکہ کےصدر ٹرمپ ،برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسامے ،جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل ،فرانس کے صدر نے صرف مسلمانوں سے اظہار ہمدردی ہی کیا اور اس واقعہ کو ذہنی اور نفسیاتی اقدام قرار دیا ۔ کیا دہرا معیار مغرب نے دھارا ہوا ہے ۔ بندآنکھوںکے جابر حکمران جن کا تعلق دیگر مذاہب سے ہے، نے داعش،الشباب،را،موساد ،حوثی جیسی تنظیمیں خود اپنے اپنے مفادات کے تحفظ اورتیل کے کنوئوں پر قبضہ کرنےکیلئے نائن الیون کی آڑ میں تشکیل دیں اور جو آج صرف اور صرف مسلمان ممالک میں ان کے اشاروں پر مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں۔افسوس کا مقام ہے کہ صرف تین مسلمان ملکوں نے کھل کر اس سانحہ کی نہ صرف مذمت کی بلکہ مسلمانوں کے خلاف جاری سازش بے نقاب کی۔ اس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان،ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ملایشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹرمہاتیر محمد شامل ہیں ۔جبکہ بنگلہ دیش جس کی کرکٹ ٹیم خوش قسمتی سے چند منٹ دیر سے مسجد نماز جمعہ ادا کرنے پہنچی تھی اس سانحہ سے بچ گئی ،اس نے اس سانحہ کو اپنی کرکٹ ٹیم تک محدود رکھا۔ مسلمانوں کی واحد تنظیم او آئی سی ابھی تک الفاظ جمع کرنے میں مصروف ہے اور ایک ارب30 لاکھ مسلمانوں کے ممالک کو چپ لگی ہوئی ہے۔ وہ اس سانحہ سے لاعلم اور لاتعلق ہیں اور اپنے اپنے غیر مسلم آقائوں کی خوشنودی حاصل کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔صرف ایک کرسچن لڑکے نے تعصب پسند آسٹریلوی سینیٹر جو کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب پھیلارہا تھا بالکل اسی طرح جس طرح امریکہ کے سابق صدر بش کو جوتا پڑا تھا اسی طرح اس لڑکے نے سینیٹر کے سر پر انڈہ دے مارا۔سینیٹر نے پیچھے مڑ کر اس لڑکے کو تھپڑ مارا ،وہاں کے لوگوں نے لڑکے کے اس عمل کو سراہا اور اس کے لئے ہزاروں ڈالر چندہ بھی اکٹھاکیا جو اس لڑکے نے شہداء کے لواحقین کو دینے کا کہا لوگوں نے اس کو EGGبوائے کا خطاب دیا ۔ افسوس صدافسوس دوسری طرف بھارت کی متعصب عدلیہ نے 18فروری 2007کو سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ جس میں 42پاکستانی ٹرین دھماکہ میں شہید ہوئے تھے۔ اس کے تمام ملزمان بشمول سوامی آنند اور دیگر ملزمان بری کردئیے جبکہ اس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ کرنل پروبیت کو4 سال قبل ہی رہا کر دیا گیا تھا۔ اس سانحہ کے 300چشم دید گواہوں کو بیک وقت منحرف کرادیا گیا اورعینی شاہد ایک مسلمان خاتون عائشہ کو بھی عدالت میں پیش نہیں ہونے دیا ،جبکہ 2 ملزمان رام چند اور سندیپ چوہان ابھی تک 12سال سے مفرور ہیں ۔ان ملزمان کو رہاکر دیا ہے ۔جبکہ پاکستان اکیلا بلبلارہاہے۔ یہ مظلوم 42مسلمانوں کا خون کس کے سر پر ہے ؟تمام این جی اوز جو صرف ایک بندے پر ظلم پر چٹان کی طرح کھڑی ہوجاتی ہیں اب خاموش ہیں۔آئیے کچھ اپنے ملک کے بارے میں بھی ہو جائے اس یوم آزادی کی خوشی میں تبدیلی کے نام پر بننے والی تحریک انصاف کی حکومت نے اس سال قوم میں تمغے بانٹنے میں بھی تبدیلی کا آغاز کر کے ایک نیا تمغہ اپنے نام کر لیا جو کبھی پہلی حکومتوں میں نہیں کیا گیاتھا ۔ چھان پھٹک کے بعدبے داغ افراد کو ہی تمغے دئیے جاتے تھے۔ اس مرتبہ تونیب زدگان، عدالتوں میں مقدمات کا سامنا کرنے والے افراد، قوم کے خائن افراد،جن کا ماضی بھی داغدار ہے ،ان کی FIRبھی پولیس نے کاٹی ہوئی ہے ۔بغیر معروف اداروں کی کلیئرنس لئے تمغوں کی بارش کردی گئی ہے۔ جس پر بہت سی نیک نام تنظیمیں احتجاج ریکارڈ کراچکی ہیں۔ کچھ ایسے بھی افراد ہیں جن کے حصے میں صرف تحریک انصاف کی تحریک میں اور دھرنے میں عملی شرکت دامے ،درمے،سخنے ہی نظر آتی ہے ،اور شاید کچھ افراد کو توخود بھی نہیں معلوم ہو گا کہ انہیں کس کارکردگی کی بنا پر اس یوم آزادی کے موقع پر تمغوں سے فیض یاب کرایا گیاہے۔

بنگلہ دیش سے محصورین پاکستانیوں نے لکھاہے کہ اے پاکستانیوہم نصف صدی سے بنگلہ دیش میں ہیں ہم کو پاکستان کب لائوگے ہم کب آزادی منائیں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں