آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملائیشیا پاک بھارت تنازع میں کسی ایک کا ساتھ نہیں دیگا، ڈاکٹر مہاتیر

اسلام آباد (حنیف خالد) ملائیشیاء کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ملائیشیاء پاکستان اور انڈیا کے درمیان موجودہ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں کسی ایک فریق کا ساتھ نہیں دیگا کیونکہ ملائیشیاء جنگیں نہیں چاہتا۔ میرے خیال میں دہشت گردوں کو بالادستی حاصل کرنے کی اجازت دینا بہت خطرناک ہے‘ ہمیں دہشت گردوں کو روکنا چاہئے لیکن دونوں (انڈیا پاکستان) کو دہشت گردی کی کارروائیوں کا سدباب کرنا ہو گا۔ جب دہشت گرد لڑتے ہیں وہ محض انتقام لینا چاہتے ہیں۔ وہ فاتح نہیں ہو سکتے‘ وہ کیا کر سکتے ہیں‘ انسانوں کو مار سکتے ہیں‘ کیا انسانیت کا مقدر یہی ہے۔ ہم ہر دو فریق میں سے کسی کی طرفداری نہیں کرنا چاہتے مگر ہمیں ان مسائل کا ادراک ہے جس کا انہیں سامنا ہے۔ ملائیشین میڈیا ٹیم کے ایک رکن کے ڈسپیچ کے مطابق پاکستان کے تین روزہ دورے کے اختتام پر وہ میڈیا کانفرنس میں سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ تن ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ اسلامی ملکوں کا ترقی یافتہ اقوام پر حد سے زیادہ انحصار ہے جس کی وجہ سے اسلامی ملک

مغربی ممالک کی غلط کاریوں کیخلاف احتجاج کرنے سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ اسی بناء پر اسلامی ملک مغربی ملکوں کی تابعداری کرتے ہیں۔ ہر چیز کیلئے اسلامی ملک ترقی یافتہ اقوام پر بہت ہی زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ انکی استعدادو صلاحیت محدود ہے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے یہ بات زور دیکر کہی کہ کیونکہ مغربی ممالک اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اسلامی اقوام اسرائیل کی مذمت کرنے سے بھی خوف کھاتی ہیں کہ اسرائیل کی اگر کسی مسلمان ملک نے مذمت کی تو مغربی ممالک اس پر ایکشن لیں گے۔ ملائیشیاء کے میڈیا وفد کے رکن کے مطابق ڈاکٹر مہاتیر نے کہا کہ پاکستان کے کشیدہ حالات میں پاکستان کا تین روزہ دورہ کرنا بالواسطہ طور پر یہ تاثر نہیں دیتا کہ ملائیشیانے ایک فریق کا چنائو کر لیا ہے‘ ہم کسی ایک فریق کی سائیڈ نہیں لے سکتے کیونکہ ایسا کیا جانے سے دہشت گردوں کو بالادست ہونے کی اجازت دینا ہے اور یہ بہت خطرناک ہے۔ ہمیں دونوں طرف (انڈیا پاکستان) میں دہشت گردی کو لازماً روکنا چاہئے۔ دہشت گردی کے واقعات کا سدباب کرنا چاہئے۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ملائیشین میڈیا سے مخاطب ہو کر کہا جیسا کہ آپ دیکھ سکتے ہیں پاکستان نے جنگی طیارہ (جے ایف 17تھنڈر) بنانے کی صلاحیت تک حاصل کر رکھی ہے‘ آج پریڈ میں اس جنگی طیارے نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پاکستان اپنے تیار کردہ جے ایف 17تھنڈر جنگی طیارے ہمیں فروخت کرنا پسند کریگا‘ ہر کوئی ملائیشیاء کو طیارے فروخت کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ میرا کہنا ہے کہ پہلے ایک یا دو جنگی طیارے ہمیں ملیں تاکہ ہم انکی صلاحیتوں کو دیکھ سکیں‘ ان کو گیج (Gauge) کر سکیں۔ ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ انکے علاوہ پاکستان نے لینڈ وہیکلز‘ بحری جہاز (Vessels) بھی بنائے ہیں۔ میں سردست یہ نہیں جانتا کہ پاکستان آرمی کتنی مضبوط ہے‘ اگر پاکستان کے بنائے گئے میزائل ایٹمی ہتھیار لیکر جا سکتے ہیں تو دنیا کے لوگ پاکستان پر حملہ کرنے سے قبل بار بار سوچیں گے۔ پاکستانی وزیراعظم عمران خان سے کرپشن کے خاتمے کیلئے انکی کوششوں کے بارے میں جب پوچھا گیا کہ آپ نے گفت و شنید میں اس کا کیا جائزہ لیا تو ڈاکٹر مہاتیر نے کہا کہ پاکستان کو ملائیشیاء دونوں اقوام ایک جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ لوگ سابقہ حکومت جوکہ کرپٹ تھی‘ لوگ اسے عدالت میں لے گئے ہیں۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے ملائیشین ائرلائن کے معاملات کے بارے میں کہا کہ کوئی فیصلہ لینے سے قبل ہمیں ان معاملات کا گہرائی میں جا کر جائزہ لینا ہو گا۔ ملائیشین ائرلائنز کے بارے میں انکی پیشرو حکومت نے جو اپروچ اختیار کی وہ انکی دانست میں نہیں آتی۔ ملائیشین ائرلائنز نے اپنے عملے میں 6ہزار ملازمین کی کٹوتی کی اور اب ملائیشین ائرلائن کی بین الاقوامی منازل بھی کم رہ گئی ہیں مگر اسکے باوجود ملائیشین ائرلائنز کی پروازوں کی تعداد اور ملازمین کا تناسب پہلے جتنا ہے۔ ہمیں ائرلائنز کے بارے میں ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ملائیشین ائرلائن کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے کرنے سمیت جو تجاویز آئیں ہم ان پر غور کرینگے۔ پانچ مارچ 2019ء کو ملائیشین ائرلائن کی رپورٹ میں سات ارب تیس کروڑ ملائیشین رنگٹ کا خسارہ برائے سال 2018ء بتایا گیا۔ ملائیشین ائرلائنز کا واحد شیئر ہولڈر ملائیشین خزانہ ہے۔ 2014ء میں بیمار قومی ائرلائن کو ٹیک اوور کئے جانے کے بعد چھ ارب ملائیشین رنگٹ کی کارکردگی بہتر بنانے پر صرف ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشین ائرلائنز کے مقدر کا حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت بہت سے آپشن پر غور کر رہی ہے کہ اسے بند کر دیا جائے یا ائرلائن کو فروخت کر دیا جائے یا اسکی ری فنانسنگ کی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں