آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 17؍ذیقعد 1440ھ21؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت کا یوم پاکستان کی تقریب کابائیکاٹ، خیر سگالی کا پیغام بھی

کراچی (جنگ نیوز) بھارت نے ایک طرف یوم پاکستان کی تقریبات کا بائیکاٹ کیا تو دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم منصب عمران خان کو خیر سگالی کا پیغام بھیجا جس میں مل جل کر کام کرنے اور امن کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔مودی کے پیغام پر کانگریس رہنماؤں نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مودی جی محبت نامے لکھنا بند کرو۔ پولیس اہلکاروں کی طرف سے یوم پاکستان کی تقریب میںشرکت کرنے والے مہمانوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے ضمیر کی بات سنیں اور واپس چلیں جائیں۔کوئی حریت رہنما شرکت نہ کرسکا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میںیوم پاکستان کی ضیافت کا بائیکاٹ کیا جس کی وجہ حریت پسند رہنماؤں کو مدعو کرنے کا جواز دیا گیا۔ پاکستان کے نام مودی کے خیر سگالی پیغام کے حوالے سے بھارت کی طرف سے کو ئی باضابطہ موقف سامنے نہیں آیا، تاہم سرکاری ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مودی کا خط ایک رسمی پیغام ہے جو قومی دنوںکے حوالے سے سربراہان مملکت یا حکومت کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔ اس خط

پر کسی کے دستخط نہیں یہ مروجہ سفارتی روایات ہیں ایسے خطوط تمام ملکوں کو بھیجے جاتے ہیں جن سے بھارت کے سفارتی تعلقات ہیں۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی پولیس اور سادہ کپڑوں میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گھیراؤ کیے رکھا اور یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کو ہراساں کرتے رہے۔ان کے نام پوچھتے رہے۔ میزبان ملک کی طرف سے کوئی مہمان خصوصی نہیں تھا، پروٹوکول کے تحت بھارت کا قومی ترانہ گایا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ پلوامہ حملے کی وجہ سے کشیدہ تعلقات اورحریت رہنماؤں کو مدعو کیے جانے کی مخالفت میں بھارت نے پاکستان کے قومی دن سے متعلق پروگرام کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پروگرام میں حکومت کا کوئی بھی نمائندہ شرکت نہیں کرے گا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قومی دن پر اسلام آباد میں منعقد کی جانے والی تقریب میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریا بھی شامل نہیں ہوں گے۔ انہوںنے کہا میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ بھارت نے پاکستان کے قومی دن میں کسی نمائندے کو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ چار برس سے بھارت کی طرف سے کوئی وزیر اس تقریب کا مہمان خصوصی ہوتا ہے۔حریت رہنماؤں کی شرکت کے باجود بھارتی وزرا میں سے 2015میں وی کے سنگھ،2016میںپراکاش جاویدکر،2017میں ایم جے اکبر اور گزشتہ برس گیجندرا سنگھ شیکھاوت شریک ہوئے۔ حکومتی مشینری کے ذریعے مہمانوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ شرکت کم رہے ۔ نہ صرف بائیکاٹ کیا گیا بلکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے اطراف سیکورٹی حصار بڑھایا گیا او رخار دار تاریں بچھائیں گئیں۔بھارتی نمبروں کی کاروں کو روک دیا گیا۔کبھی سادہ کپڑوں اور کبھی یونیفارم میں پولیس اہلکاروں نے شرکت کرنے والوں کو روکا اور انہیں بتایا گیا کہ حکومت نے یوم پاکستان کا بائیکاٹ کیا ہے ، یہ آپ کے ضمیر پر ہے کہ آپ شرکت کریں یا نہیں، اور کہاجاتا کہ بہتر ہے کہ آپ شرکت نہ کریں۔ مہمان کومزید کہا گیا کہ بھارت میں جمہوریت ہے یہ پیغام صرف ایک درخواست ہے۔ ایک شریک کار جواہر لال سرین جو اپنی اہلیہ کے ساتھ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کیلئے آئے تھے،انہیں بھارتی اہلکاروں نے شرکت سے روکا جس پر انہوں نے انکار کیا، اس کے بعد ان سے دستاویزات طلب کی گئی بلکہ اس کی کار نمبر کی تصاویر بنائی گئیں۔سابقہ پلاننگ کمیشن رکن سیدہ سیدین حمید نے بھارتی اہلکاروں کی تقریب میں شرکت نہ کرنے کی بات مسترد کردی تو انہوں نے دعوت نامے کی تصاویر بنائیں۔ صحافی جو اس تقریب کی رپورٹنگ کیلئے آئے تھے انہیں بھی شرکت نہ کرنے کا پیغام دیا گیا۔ اگر انہوں نے پیشہ وارانہ ذمہ داری بتائی تو ان کے نام اور فون نمبر لیے گئے۔ایک شریک کار کا کہنا تھا کہ اس سے قبل ایسی صورت حال نہیں دیکھی ۔ کوئی بھی حریت رہنما تقریب میں شریک نہ ہوسکا کیونکہ یا تو وہ قید ہیں یاان پر سفری پابندیاں ہیں۔ بھارتی خبر رساں ادارے نے محمد حسن انتو کی گرفتاری کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ حریت پسند ہیں۔ گزشتہ سالوںکے مقابلے میں سفارت خانے میںہجوم کم تھا، تاہم سفارتی کمیونٹی نے کافی تعداد میں شرکت کی۔ اس دفعہ ڈائس پر مہمان خصوصی کی جگہ پاکستانی ہائی کمیشنر سہیل محمود اور ان کے ساتھ ان کی اہلیہ تھیں۔ دوسری طرف کانگریس نے وزیر اعظم ہاوس سے اس خط کی دعوی کی تصدیق کا مطالبہ کیا ہے کانگریسی رہنما نے عمران خان کے نام مودی کے پیغا م پر کہا کہ محبت نامے لکھنا چھوڑ دو۔ کانگریس رہنما نے ٹویٹ کیا کہ مودی جی پاکستان کو لو لیٹر لکھنا بند کرو۔ کانگریس کے رہنما سلمان خورشید نے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مود ی ان سے حقائق چھپا رہے ہیں۔ اب عمران خان ہمیں بتائے گا کہ مود ی نے یوم پاکستان پر انہیں نیک خواہشات کا پیغام بھیجا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں