آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ18؍شعبان المعظم 1440ھ24؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سارے طیارے فضا میں تھے، فوٹیچ موجود، F-16 کا معاملہ ہم اور امریکا دیکھیں گے، فوجی ترجمان

اسلام آباد (جنگ نیوز) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حقیقی جنگوں کو روکنے (Deterrence) کا کام کرتے ہیں۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ چونکہ ہم 1998ء میں طرح علی الاعلان جوہری طاقت بنے، جیسا کہ بھارت بھی ہے، اسلئے ہمارا موقف ہے کہ جوہری صلاحیت دو ریاستوں میں روایتی جنگ کا امکان ختم کر دیتی ہے۔ اسلئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ مزاحمتی ہتھیار اور سیاسی چوائس ہے۔ یہ صلاحیت رکھنے والے کوئی بھی دانشمند ملک اسے استعمال کرنے کی بات نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کا دفاع اولین ترجیح ہے لیکن اس کے باوجود جوہری ہتھیاروں کے استعمال پر بات کرنا پاگل پن ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلائو کیلئے اقدامات کرے گا بشرطیکہ بھارت بھی ایسا ہی کرے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہر وہ اقدام کرے گا جو مساوات اور برابری پر مبنی ہو، پاکستان کے

ہاتھ باندھ کر بھارت کو کھلا نہیں چھوڑا جا سکتا۔ جو بھی ہوگا دونوں ملکوں کیلئے ہوگا۔ روس کے ساتھ تعاون کے حوالے سے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ دفاعی صنعت میں تعاون پر بات کر رہا ہے جس میں ایوی ایشن، فضائی دفاعی نظام اور ٹینک شکن میزائل پروگرام کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایوی ایشن ہے، ہمارے پاس ایئر ڈیفنس بھی ہے، ہمارے پاس ٹینک شکن ڈومین بھی ہے، جن پر ہم مذاکرات کر رہے ہیں، اور یہ مثبت مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے یہ واضح کرنے سے انکار کر دیا کہ مذاکرات میں کس ایجنڈا پر بات ہوگی لیکن کہا کہ پاکستان مختلف پیشکشوں کیلئے کھلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کسی چیز کو باہر نہیں رکھا، کچھ بھی ہو سکتا ہے، سب کچھ بھی ہو سکتا ہے جو پاکستان ممکنہ طور پر خرید سکتا ہے وہ خریدے گا۔ بھارت کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے دوران چین نے پاکستان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس حوالے سے فوجی ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی میں ہم روس کی جانب سے ثالثی کے کردار کا خیر مقدم کریں گے، ہم تیسرے فریق کی جانب سے ثالثی کی پیشکش کا خیر مقدم کریں گے جس سے خطے میں امن آئے، روس کا ہم تہہ دل سے خیر مقدم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغان مصالحتی عمل میں روس کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خطے میں جاری اس عمل میں روس کا کردار اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس طاقت کے توازن اور دنیا میں کثیر القطبی صورتحال کی جانب دیکھتا ہے، ہم روس کے موقف کو اہم سمجھتے ہیں، روس کے اقدامات مثبت نتائج دے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بھارت کے ان دعووں کو مسترد کر دیا کہ پاکستان نے فروری میں بھارتی طیارہ مار گرانے کیلئے امریکی ایف سولہ طیارہ استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین کے اشتراک سے تیار کیا جانے والا جے ایف 17؍ تھنڈر طیارہ کارروائی میں استعمال ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ وقت تھا جب ہماری پوری فضائیہ حرکت میں آ چکی تھی اور اب یہ دیکھنا امریکا اور پاکستان کا کام ہے کہ ایف سولہ کے استعمال کے حوالے سے مفاہمتی یادداشتوں میں کیا بات تھی۔تاہم انہوں نے اصرار کیا کہ پاکستان اپنے دفاع کیلئے جو ضروری ہوگا وہ استعمال کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی طیاروں نے 26؍ فروری کو پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی، پے لوڈ گرایا لیکن انفرا اسٹرکچر کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کا فیصلہ کیا لیکن عام افراد کو نشانہ نہ بنانے کا انتخاب کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دن ہماری فضائیہ نے اپنی ہی فضائی حدود میں رہتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں چار بھارتی طیاروں کو نشانے پر لیا، ہم اُن کے فوجی ٹھکانوں یا انسانی جانوں کو نقصان پہنچا سکتے تھے لیکن ذمہ دار ملک کی حیثیت سے ہم نے اپنی صلاحیت، عزم اور صلاحیت کا اظہار کرنا تھا۔ اسلئے ہم نے اہداف کا انتخاب کیا، طیاروں نے انہیں لاک کیا، اس کے بعد ہم نے پوائنٹ آف امپیکٹ کو محفوظ فاصلے تک منتقل کیا جہاں کوئی انفرا اسٹرکچر یا انسان نہیں تھے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم بھارتیوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہمارے پاس فوجی ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے لیکن خطے کے امن کی خاطر ہم صرف آپ کو (بھارت کو) اپنی صلاحیت دکھا ر ہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اس آپریشن کی فوٹیج بھی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں