آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی (نیوز ڈیسک) سائنسدانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اگرچہ انسان خلا میں اپنے علاوہ کسی جاندار بالخصوص خلائی مخلوق کو تلاش کرنے کی کوششوں میں برسوں سے مصروف ہیں لیکن خلائی مخلوق پہلے ہی انسانوں کو تلاش کر چکی ہے۔ اس موضوع پر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں سائنسدانوں کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اس بات پر بحث کی گئی کہ برسوں کی تلاش اور خلائی مخلوق کی موجودگی کے غالب امکان کے باوجود ہم ان سے رابطے میں آخر کیوں ناکام رہے ہیں۔ برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین نے اس صورتحال کی ایک وجہ یہ بتائی ہے کہ خلائی مخلوق خود چاہتی ہے کہ وہ انسانوں سے دور رہے اور انسان اسے تلاش نہ کر سکیں کیونکہ تلاش کیے جانے کی صورت میں انسان کو خلائی مخلوق کی موجودگی کی حقیقت سے نمٹنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ موقر جریدے فوربز کے مطابق، ایم ای ٹی آئی (میسیجنگ ایکسٹرا ٹیریسٹریل انٹیلی جنس) انٹرنیشنل کے محققین نے اس اجلاس میں تجویز پیش کی کہ خلائی مخلوق (ایلیئنز) نے انسانوں کو ممکنہ طور پر ایک خلائی چڑیا گھر

میں قید رکھا ہے اور وہ دور سے بیٹھ کر ہماری حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور خود کو سامنے نہیں لا رہے تاکہ زمین پر موجودگی زندگی کے نظام اور توازن کو بگڑنے سے روکا جا سکے۔ فوربز کے مطابق، ایم ای ٹی آئی کا اجلاس ہر سال پیرس میں منعقد کیا جاتا ہے جس میں ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے سائنسدان پیرس میں واقع ایک میوزیم میں جمع ہوتے ہیں اور 1950ء کی دہائی سے انسان کو درپیش اس سوال کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرانس کے ایگرونومک ریسرچ کے قومی ادارے کے ریسرچ ڈائریکٹر ژان پیئغ روسپاغ کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ خلائی مخلوق نے ’’خلائی قرنطینہ‘‘ (Galactic Quarantine) نافذ کر رکھا ہے کیونکہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ اگر انسانوں کو خلائی مخلوق کے بارے میں پتہ چل گیا تو یہ صورتحال زمین پر موجود حیاتیاتی نظام کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں