آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ذیقعد 1440ھ 16؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

’اسکائپ پر بیان ریکارڈ کروائیں، چاہے گھر پر ہوں یا اسپتال کے بیڈ پر‘

سپریم کورٹ میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پرویز مشرف اسکائپ پر بیان رکارڈ کرائیں، چاہے وہ گھر پر ہوں یا بیڈ پر۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنگین غداری کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چیف جسٹسنے پرویز مشرف کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے کہا کہ وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں اگر نہیں ہوسکتے تو وہ اپنا بیان اسکائپ پر ریکارڈ کرائیں، چاہےگھر پر ہوں یا اسپتال کے بیڈ پر۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ اگر مشرف خود بولنے کے قابل ہیں تو ٹھیک ہے ورنہ اُن کے وکیل صاحب بولیں گے۔

سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت یکم اپریل تک ملتوی کردی اور کہا کہ توقع ہے یکم اپریل کو اپریل فول نہیں ہوگا۔

دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل نے اس موقع پر کہا کہ پرویز مشرف نے عدالت کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور عدالت کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ پرویزمشرف کا342 کا بیان کیسے ریکارڈ کیا جائے اس پر 28مارچ کوخصوصی عدالت نےتاریخ رکھی ہے۔ پرویز مشرف ٹی وی کو انٹرویوز دیتے ہیں، ان کی ڈانس کی ویڈیوز آتی ہیں جبکہ عوام میں یہ تاثر پیدا ہورہا ہے کہ طاقتور کو سزا نہیں ہوتی۔

انہوں نے کہا کہ خصوصی عدالت نےتاثر دیا کہ وہ سپریم کورٹ کے کسی حکم کا انتظار کرنا چاہتے ہیں جبکہ وہ خصوصی عدالت کو موقع دیتے ہیں کہ وہ آئندہ سماعت پر کارروائی کرے اور اگر ایسا نہ ہوا تو 2 دن بعد ہم سماعت رکھ کرحکم دے دیں گے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ نے جب اگلی تاریخ رکھی ہے تو کیوں نا انہیں ایک موقع دیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں