آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ20؍ذیقعد 1440ھ 24؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکا نے شام اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ کا سبب بنی گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ہمراہ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران معاہدے پر دستخط کیے۔


معاہدے کے تحت امریکہ نے باضابطہ طور پر گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرلیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے امریکی صدر کے اقدام کو تاریخی قرار دیا اور کہا کہ گولان سے متعلق امریکی فیصلہ ایسے وقت میں آیا جب ایران شام میں فوجی اڈے قائم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاواروف نے گولان سے متعلق معاہدے کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکی فیصلے سے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کی نئی لہر شروع ہوجائےگی۔

ساتھ ہی شام نے گولان کی پہاڑیوں سے متعلق امریکی حکومت کے فیصلے کو اپنے ملک کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے۔

گولان کی پہاڑیاں شام اور اسرائیل کے درمیان متنازعہ علاقہ ہے، جہاں اسرائیل نے 1967 کی 6 روزہ جنگ کے دوران قبضہ کیا تھا۔

گولان کی پہاڑیوں کو پانی کا ایک اہم ذریعہ مانا جاتا ہے اور انہی پہاڑوں کے چشموں سے بہنے والے پانی سے اسرائیل کی کل آبادی کا 40 فیصد حصہ مستفید ہوتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں