آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 15؍شعبان المعظم 1440ھ 21؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹوزرداری نےآج سےٹریک کےذریعے’کراچی سےلاڑکانہ تک‘حکومت مخالف مارچ کےپہلےمرحلےکاآغازکرکےایک سیاسی جواکھیلاہے، یہ ایک ایسےوقت میں کیاگیاجب ایک جانب پارٹی کی اعلیٰ قیادت کومبینہ کرپشن پربہت سےمقدمات کاسامناہےاوردوسری جانب اپوزیشن منقسم ہے، یہ بات اُن کےمشکل چیلنجروزیراعظم عمران خان کےحق میں جاتی ہے جواگلےہفتے سندھ کادورہ بھی کریں گے۔ یہ ایک سیاسی جواہےکیونکہ نوجوان پی پی پی لیڈرجنھیں تین سال قبل لایاگیاتھاجب انھوں نےکراچی میں مزارِقائدکےسامنےایک جوشیلی تقریرکی تھی، چونکہ وہ کافی جلدی لوگوں کوسڑکوں پر لانےکی کوشش کررہےہیں جب حکومت نےاقتدارمیں ابھی ایک سال ہی مکمل کیاہے اور بظاہرمضبوط نظرآرہی ہے۔ دوئم، یہ ایک سیاسی رسک ہےچونکہ پارٹی سندھ سےباہرتاحال عوامی ردِعمل لینےکی جدوجہد کررہی ہے۔ جب وہ کراچی سے لاڑکانہ تک اپنےسفرمیں لوگ جمع کرلیں گےتو اگلے مرحلے میں حقیقی امتحان شروع ہوگاجب اگلےماہ مئی میں وہ کراچی سےپنڈی کاراستہ اختیارکریں گے۔ ٹرین میں اپنےپہلےسفر میں بلاول بھٹوکوایک

نوجوان کے طور پر اپوزیشن اورحکمران پارٹی دونوں دیکھ رہیں ہوں گی۔ یہ ایک ایسا بھی امتحان ہوگاکہ کیایہ سفران کےوالداورسابق آصف زرداری کےزیرسایہ ہوگایاوہ خودہی یہ کریں گے۔ ان کےسفرکاسب سےاہم حصہ ان کا’پیغام‘ہوگا۔ اگراُن کی تقریرنیب کےمقدمات کےگردگردش کرتی ہےتووہ صرف عمران خان کی جانب سےکی جانےوالی تنقیدکہ بلاول اورمریم نوازاپنے اپنے ’والد‘کوبچانے کی کوشش کررہےہیں، کوجائز قراردیں گے۔ اگربلاول لوگوں کے مسائل پر توجہ دیں گےتوانھیں اپنی پارٹی کی حکومت کابھی دفاع کرنا ہوگا کہ جو کچھ انھوں نے سندھ اور باقی علاقوں میں کیاہے۔ آگے کا لائحہ عمل بھی اہم ہوگا۔ کیا وہ کوئی مخالف بیانیہ دیں گےاورسندھ میں ’تاریخی غلطی‘ کادفاع کرنےکی کوشش کی بجائےگُڈگورننس کاوعدہ کریں گے۔ دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت بلاول کی اس تحریک کو ’کرپٹ‘ عناصرکوتحفظ دینےوالی تحریک کے طور پردیکھتی ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چوہدری نے کہا،’’مال بچائوتحریک ناکام ہوگی‘‘۔ انھوں نے مزید کہاکہ آئندہ چند ہفتوں یا دو یا تین ماہ میں ان میں سے بہت سے جیل میں ہوگے۔ مرکز یا پنجاب میں حکومت کو غیرمستحکم کرنے کیلئےپی پی پی، پی ایم ایل(این) اور دیگر اپوزیشن پارٹیاں تاحال ایک صفحے پر نہیں ہیں۔ تاہم اتفاقِ رائے پر پہنچنے کیلئےان کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ سابق صدر آصف زرداری نے جے یو آئی (ف)کے رہنما مولانافضل الرحمان سے ملاقات کی ہے جو ایک ماہ کے اندر ہی اسلام آباد تک ایم ایم اےکے’ملین مارچ‘ کی قیادت کریں گے۔ تاہم جب بات جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی کی ہوتو اپوزیشن مکمل طورپر منقسم نظر آتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں