آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اگلے چند روز میں ملکی سیاست کے اسٹیج پر کھیلے جانے والے ایک اورغیر سیاسی شعبدے کے رونما ہونے کی خبر تو پچھلے تقریباًدو ہفتوں سے ٹی وی سکرینوں کی زینت بنی ہوئی ہے۔ چاہتا تو میں بھی تھا کہ جناب ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کے لانگ مارچ کے حوالے سے کچھ گذارشات کر ہی ڈالوں۔ آخرآج کل ہر طرف ہی ریاست بچانے کے ڈاکٹر صاحب کے فارمولے کی دھومیں ہیں،الیکٹرانک میڈیا کی بدولت اب ہم سب ہر وقت مستقبل قریب میں ہونے والے واقعات کے بارے میں پہلے سے ہی سیر حاصل تبصرے سنتے رہتے ہیں۔ میڈیا کے اس دور میں ہر کوئی مستقبل قریب کے بارے میں فکرمند نظر آتا ہے لیکن اس میڈیا سرکس سے دور ایسے بہت سے مسائل ہیں جو ہماری ریاست کے وجود کے لئے چند سالوں بعد حقیقی خطرہ ہوں گے، وہ مسائل جن پر ہماری کوئی توجہ نہیں ہے۔ہم ان مسائل پر بات کرنا شاید اس لئے بھول گئے ہیں کہ اس کے نتائج چند دنوں نہیں بلکہ چند سالوں کے بعد رونماہونا شروع ہوں گے، اس لئے فی الحال ان میں نہ ہی میڈیا اور نہ ہی عوام کے لئے چسکا “کی کوئی بات ہے۔ایسا ہی ایک مسئلہ پانی کے بحران کا ہے ۔یہ و ہ ٹا ئم بم ہے جو کہ آج سے دس بیس سال بعد پاکستان کے عوام کی قسمت کا درحقیقت فیصلہ کرے گا۔ وہ بم کہ جسے ہم سب لاکھوں یا ہزاروں کے مجمعوں کی خاطر بھلائے بیٹھے ہیں جس کے بارے میں ہمارے پاس نہ ہی

گفتگو کیلئے وقت ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی فوری مفاد اس سے وابستہ ہے۔ جبکہ حقیقتاً یہ ایک ایسا بحران ہے جس کے آنے کے بعد ریاست اور سیاست دونوں کے بچنے کے امکانات کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ کیونکہ پانی کے بغیر ریاست تو کیا۔ انسان کا وجود نا ممکن ہے ۔
جغرافیائی لحاظ سے سرزمین پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں قدرتی بارشیں زراعت کے لئے نا کافی ہیں، اسی کمی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے برطانیہ نے برصغیر میں زرعی شعبے کے لئے دنیا کے سب سے بڑے اور جامع نہری نظام کی بنیاد رکھی۔ اس نہری نظام کی مدد سے کئی ملین ایکڑ بنجر زمین کو قابل کاشت بنایا گیا، اس نہری نظام کی ریڑھ کی ہڈی وہ دریا تھے جو کہ ہمالیہ اور قراقرم کے پہاڑوں سے بہتے ہوئے بحیرہ عرب میں جا گرتے ہیں۔ انگریز جو کہ اس خطے پر ایک قابض کی حیثیت سے آیا تھا ان دریاؤں کے پانی کو دوردراز کے علاقوں تک پہنچانے کے لئے جو نہری نظام بنایاگیا وہ صدیوں بعد بھی نہ صرف کارآمد ہے بلکہ پاکستان میں تو انگریزوں کے پھیلائے گئے اس جال میں کوئی خاطر خواہ اضافہ کئے بغیر اس نظام کا ابھی تک فعال رہنا اس کے بنانے والوں کے وسیع ویژن کی ایک روشن مثال ہے۔ اس نظام کی جڑ پاکستان کا سب سے بڑا دریا سندھ ہے۔ اباسین یا دریاؤں کے باپ کے نام سے مشہور یہ دریا ،اب پہلے سی تندی و تیزی کا حامل نہیں رہا۔ تبت کے پہاڑوں سے نکلنے اوربحیرہ عرب میں گرنے کے درمیان اس میں شامل ہونے والے تمام دریاؤں، نالوں اور ندیوں کے پانی میں گزرتے سالوں کے ساتھ کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دریائے سندھ کے پانی پر سندھ طاس معاہدے کی رُو سے پاکستان کا حق ہے لیکن چونکہ پاکستان میں داخل ہونے سے پہلے دریائے سندھ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے اس لئے اس کے پانی پر بھی بھارت براجمان ہونے کو تیار ہے۔ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے ہوتے ہوئے دریائے سندھ کے پانی کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے کا کوئی خاطر خواہ جواز نہیں لیکن اس سلسلے میں بھارت کی جانب سے انٹرنیشنل فورمز پر جس موقف کا اظہارکیا جارہا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کے کم ہوتے ہوئے ذخائر کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بھارتی اقدام کو اس لئے جائز قرار دیا جانا چاہیے کیونکہ پاکستان ہر سال تیس سے پینتیس ملین ایکڑ فٹ پانی بحیرہ عرب میں پھینک کر ضائع کردیتا ہے، اس لئے اگر بھات اسے سٹور کر لے تو پاکستان کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
دراصل ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم پانی کے بحران کوسنجیدگی سے لینے کو تیار نہیں لیکن ڈاکٹر طاہرالقادری کے اسلام آباد کے جلسے میں لگنے والے ٹوائلٹس کی تعداد جاننے کا بھرپور اشتیاق رکھتے ہیں۔میڈیا کو وقتاً فوقتاً چڑھنے والے مختلف ایشوز کے بخار کی طرح ہماری قوم بھی وقتی ”تھرل“ کے انتظار میں رہتی ہے ۔پھر چاہے کوئی اہم مسئلہ ہی اس کی نذر کیوں نہ ہو جائے۔ پاکستان میں پانی کے بحران کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا ہے، کچھ عرصہ تک تو ہمارے میڈیا اور عوامی حلقے پانی کے کم اور مستقبل قریب میں ختم ہونے کا رونا روتے رہے مگر پھر ہمیشہ کی طرح کسی اور شعبدہ باز کی طرف متوجہ ہو گئے۔مگر پانی کی کمی کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔۔۔۔۔یہ تو ایک اٹل حقیقت ہے جو ہمیں منہ چڑا رہی ہے مگر شاید ہم اس وقت تک آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں جب ایک دن بجلی اور گیس کی مانند ہمارے گھروں میں نل سے پانی آنا بھی بند نہیں ہو جاتا۔۔۔ مگر ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بجلی اور گیس کے بغیر تو انسان کا وجود ممکن ہے پانی کے بغیر نہیں۔ پاکستان کی آبادی عنقریب بیس کروڑ کے ہندسے کو عبور کرلے گی اور پاکستان میں پانی کی قلت کا باقاعدہ آغاز ہو جائے گا۔ دنیا میں سالانہ ایک فرد کے لئے ایک ہزارکیوبک میٹر پانی کو کم از کم پیمانے کے طور پر لیا جاتا ہے، آج سے چند سال بعد پاکستان میں یہ تعداد ۷۷۸ کیوبک میٹر فی کس رہ جائے گی جو کہ قحط سالی اور خوراک کی کمی کی طرف پہلا قدم ہوگا۔ 2050تک پاکستان میں یہ تعداد585 رہ جائے گی۔ دریاؤں کے پانی کے ساتھ ساتھ زراعت کے لئے ٹیوب ویل کے استعمال کی وجہ سے اب بہت سے علاقوں میں زیرزمین پانی کے ذخائر یا تو ختم ہو گئے ہیں یا بہت کم رہ گئے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں زیرزمین پانی اب کڑوا ہو کر ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے نہ صرف پینے کا پانی کمیاب ہو جائے گا بلکہ ملک میں زرعی اجناس کی پیدوار بھی آدھے سے کم ہو جائے گی ۔ ایک طرف کم ہوتا پانی ،دوسری طرف بڑھتی ہوئی آبادی یہ دونوں محرکات پاکستان میں ایک ایسے فساد کو جنم دیں گے کہ جس کو ختم کرنا شاید کسی کے بس میں نہ رہے۔ غذائی قلت اورپانی ان دو ایشوز پر ملکی سطح پر ایک ایسی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے کہ جس کی مدد سے پانی کے ذخیروں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پانی کے استعمال کو بھی بہتر انداز میں ہینڈل کیا جائے تاکہ ہماری آنے والے نسلیں پانی جیسی نعمت سے محروم نہ ہو جائیں۔۔۔ کاش کوئی ان مسائل کے حل کے لئے حکومت پر دباؤ ڈالتا اور اس مقصد کے لئے اسلام آباد کی طرف لاکھوں کا مجمع مارچ کرتا تو کتنا اچھا ہوتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں