آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 11؍ذیقعد 1440ھ15؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عبدالغنی بجیر، (تھرپارکر)

نسان بنیادی طور پر فطرت پسند ہے۔ترقی کی دوڑ میں جہاں آسمان کو چھو چکا ہے وہاں کئی ایجادات سے دنیا بھر کے صدیوں کے منصوبے دنوں اور مہینوں میں طےپا رہے ہیں۔ چونکہ یہ سارا سسٹم ٹیکنالوجی کی جدت کے بدولت ہے جسے اعلی و ارفع دماغوں نے سرانجام دیا ہے۔ہم مشینی دور میں زندگی گزار رہے ہیں، تمام کاروبار حیات مشینوں کی مدد سے نمٹایا جاتا ہے۔ جدید کمپوٹرائزڈ مشینری کی مدد سے ملبوسات سے لے کر ہوائی جہازتیار کیے جاتے ہیں جب کہ خواتین کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری میں بھی مشینوں کا استعمال کرتی ہیں بلکہ کئی ممالک میں ان کی مدد کے لیے روبوٹ موجود ہیں۔مشینوںی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن ہاتھوں اور انسانوںکی ان تھک محنت سے بنی ہوئی اشیاء کی کشش ہی کچھ اور ہوتی ہے ان میں گھر کے بنے کھانوںسے لے کر ہاتھوں کی مدد سے تراشے اور تیار کیے ہوئےلباس و گھریلو دست کاری سمیت ہاتھوں سے سے بنی مختلف اشیاء شامل ہیں۔ سندھ دھرتی کا صحرائے تھر جسے فطری رنگوں کا اوپن میوزیم کہا جا سکتا ہے ۔وہاں آج بھی ہزاروں ہنر مندافراد کئی نادر اشیاء ہاتھوں کی مدد سے تیار کرتے ہیں ۔

Indus Valley Civilization)سنہ 3300 سے 1700 قبل مسیح تک قائم رہنے والی انسان کی چند ابتدائی تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ وادیٔ مہران میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے کناروں پر شروع ہوئی۔ ہڑپہ اور موئن جو دڑو اس کے اہم مراکز تھے۔ اس تہذيب کے باسی پکی اینٹوں سے مکان بناتے تھے اور ان کا شمار دنیا کے عظیم دست کاروں میں ہوتا تھا۔ ان کے پاس قدیم سفری ذرائع کے طور پربیل گاڑياں تھیں، وہ چرخے اور کھڈی سے کپڑا بنتے تھے، مٹی سے برتن بنانے کے ماہر تھے، کسان، جولاہے، کمہار اور مستری وادیٔ سندھ کی تہذیب کے عظیم معمار تھے۔ یہاں زمانہ قدیم سے ہی گھریلو صنعت و حرفت کو فروغ حاصل رہا ہے۔

تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ قدیم بابل کے باسی کپاس کو’’ سندھو‘‘ کے نام سے پکارتے تھے، کیوں کہ اس کی کاشت اس دور میں صرف سندھ دھرتی کے سینے پر ہوتی تھی، اور وہ اسےبابل لےکر آئے اور وہاں اس کی کاشت شروع کی۔ روئی سے سوت بنانے اورپھر اس سےکپڑے کی تیاری کا کام سب سے پہلے وادی مہران میں شروع ہوا۔دنیا کی قدیم قومیں مثلاً میسوپوٹیمیا، مصر اور شام وغیرہ تو صدیوں سے سندھ کی سوتی مصنوعات سے استفادہ کرتی چلی آرہی تھیں۔ یونان کی تہذیب کا شمار دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں ہوتا ہے لیکن اہل یونان کو کپاس، سوتی دھاگے، سوتی کپڑے وغیرہ کا پتا اس وقت معلوم ہوا جب سکندراعظم کی فوج کے سپاہی سندھ سے واپسی پر سوتی مصنوعات اپنے ساتھ بہ طور سوغات لےکر یونان گئے۔یہ کپڑے اس قدر باریک، نرم و ملائم اور نفاست سے تیار کیے گئے تھے کہ ایک یورپی محقق ڈاکٹر جیمس اے بی شیر نے اپنی کتاب ’’کاٹن ایزورلڈ پاور‘‘ میں ان کو صبا سے بُنے گئے جالوں سے تعبیر کیا ہے۔ یونان اور مغربی دنیا میں اس کپڑے کو ’’سنڈن‘‘ کہا جاتا تھا۔ سندھ کے اس کپڑے نے اپنی نرمی اور لطافت کی وجہ سے مغرب کے شعری و نثری ادب کو اپنی جانب متوجہ کیا اور اورنامور یورپی دانش وروں نے اس کا ذکر اپنی تحریروں میں کیا۔سوتی کپڑا جسے انگریزی میں کاٹن کہتے ہیں وہ اسندھ کی ہی ایجاد تھی ’’کاٹن‘‘ کالفظ سندھی زبان کے لفظ ’’کاتنا ‘‘سے بنا ہے۔

1608ء میں برطانیہ میں جنم لینے والے انگریزی زبان کے عظیم شاعر، جان ملٹن نے ’’سنڈن ‘‘کا تذکرہ ’’جالی ‘‘کے طور پر کیا ۔ ہوسکتا ہے کہ اس کپڑے کے باریک ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جالی کے طور پر کیا جاتا ہو اور اسی وجہ سے ملٹن نے اس کا ذکر جالی کے طور پر کیا ۔سندھ کی بنی ہوئی دیگرسوتی مصنوعات میں سے دوسری چیز جس نے مغربی سرزمین پراپنی جگہ بنائی اس کا نام ’’سنڈل‘‘ ہے جس کے معنی ہیں ’’بٹا ہوا دھاگہ‘‘ اس زمانے میں سنڈل سے رسے بنائے جاتے تھے، جن سے بڑے بڑے جہازوں اور بجروں کو باندھا جاتا ہوگا، جن کے بادبان ریشم سےبٹے ہوئے رسوں کےہوتے تھے۔ ململ کے باریک اور نرم کپڑے سے لے کر قدرے موٹا ،مگر ہلکا پھلکا کپڑا ’’سوسی‘‘ بھی سندھ کی قدیم دست کاری ہے۔ململ بھی چرخوں، اور تکلوں سے بنائی جاتی تھی اور سوسی بھی چرخوں اور دور حاضر میں کھڈی پر بنائی جاتی ہے۔ سوسی کے کپڑے میں یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ اسے ہر موسم میں پہنا جاسکتا ہے، یہ سردیوں میں حرارت اور گرمیوں میں ٹھنڈک کا احساس دیتا ہے۔ اس کے گھریلوکارخانے زیادہ تر نصر پور، ہالا اور تھرپارکر میںہیں۔یہ سندھ کی دیہی خواتین کا پسندیدہ لباس ہے جب کہ شہر ی خواتین بھی فیشن کے طور پر سوسی زیب تن کرتی ہیں۔ سوسی سے اسکرٹ تیار کرکے یورپی ممالک کو برآمد کیے جاتے ہیںجنہیںترقی یافتہ ممالک کی خواتین انتہائی مہنگے داموں خرید کر فخریہ انداز میں پہنتی ہیں۔ اس کی مانگ پورے ملک میں ہے، بلکہ بیرون ملک بھی ہے۔ سندھ ہنرمندوں کی سرزمین ہے، جن کا ہنر خود بولتا ہے۔ چرخوں اور کھڈیوں میں تیار کردہ سوسی سندھ کی ایک ایسی دست کاری ہے، جس پر اہل سندھ بجا طور پر فخر کرسکتے ہیں۔ بلاشبہ ململ اور سوسی سندھ کا خوب صورت تاریخی کپڑا اور قدیم دست کاری کا ثبوت بھی۔

سندھ کی وادی میں زمانہ قدیم سے ایسی کار آمد مصنوعات تیار ہوتی رہی ہیں ،جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں کے لوگ انتہائی جفاکش، محنتی اور ہنر مند لوگ تھے۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے ایسی نفیس اشیاء تیار کیں جنہیں دنیا بھر میں پذیرائی حاصل رہی۔قدیم تہذیب موہن جو دڑو کے عہد میں پوری دنیا میں سوتی ملبوسات، کپاس،اس کے بیج یا ریشے سے بنائی جانے والی تمام مصنوعات پر سندھی عوام کی اجارہ داری تھی ۔

تھر میں بچیوں کی تعلیم کا رواج نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے طور پردست کاری کے میدان میں خود کو منوانے کا زور رہا ہے۔آج سے کئی عشرے قبل تھری خواتین نے اپنے ہاتھوں کا استعمال کرکے سوئی میں دھاگا پرو کراس کی مدد سےجوکچھ بھی بنایا، ان اشیاء کا شمارباوقار سندھی ثقافت اور گھریلو دستکاری کی فنی مہارت میں ہوتا ہے اور جب یہ دکانوں میں سجتی ہیں تو ان کا حسن، خوب صورتی اور نفاست دیکھ کرغیر ملکی سیاح انہیں بہ طورنوادرات اور اپنےعزیزو ں کے لیے تحائف کے طور پر خرید کر لے جاتے ہیں اور اپنے ملک جاکر ، انتہائی فخر کے ساتھعزیز و اقرباء کو دکھاتے ہیں ، جو ان میں وادی مہران کی خوب صورت جھلکیاں دیکھ کر پاکستان کی سیاحت کے متمنی ہوتے ہیں۔ لیکن قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکورہ دستکاری اور گھریلوطور پر تیار کی جانے والی اشیاء جو مڈل مین ان دیہی خو اتین سے انتہائی معمولی اجرت پرتیارکراتے ہیں، بعد میں انہیں انتہائی مہنگے داموں کراچی سمیت ملک کے بڑے شہروں کی دکانوں پر فروخت کردیتے ہیں، جہاں سے ملکی و غیرملکی سیاح انہیں منہ مانگے داموںپر خرید کر اپنے ملک یا شہروں میں لے جاتے ہیں۔

دیہی علاقوں میں خواتین گج یعنی گلے کی کڑھائی،دولہا کےسہرے،رلی،چادریں،تکیے،پرس،رومال اپنے ہاتھوں سے تیار کرتی ہیں۔ وہاں کےمردحضرات بھی رنگ برنگی شالیں ،لکڑی سے بنے شاندار جھولے ،دروازے وپلنگ، بنا کر ان میں رنگ بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان دنوں تھر کے گوٹھوں ٹابھو میگھواڑ،سینھار ناگڑ، ویڑھیجھپ، چیلہاراور نگرپارکر کے دیہاتفن دست کاری کے حوالے سے سر فہرست ہیں جہاں تھری شالوں سمیت ہاتھ سے تیار کی جانے والی ثقافتی اشیاء کی گھر یلو سطح پر کھڈیاں موجود ہیں۔

کچھ عرصہ قبل معروف سماجی تنظیم تھردیپ اور پی و ڈی پی نے بھی ہنرمندوں کی ہمت افزائی و رہنمائی کے لیے کام شروع کیا مگر بعد ازاں اس کا تسلسل جاری نہ رہ سکا۔محنت و لگن سے کام کرنے والے مرد وخواتین کاریگر اشیاء تو بہت خوبصورت بناتے ہیں مگر روزمرہ کی بدلتی ہوئی صورت حال، لوگوں کا ذہنی رجحان اور مارکیٹ کی ڈیمانڈ و ویلیوز سے کافی بے خبر نظر آتے ہیں۔اگر ان کاریگروں کی کلر کامبنیشن کے انتخاب و مارکیٹ ویلیو کے مطابق تربیت کی جائے تو سندھ کی گھریلو صنعتیںترقی کرسکتی ہیں اور دست کاری کے فن کودنیا بھر میں متعارف کروایا جا سکتا ہے۔

ایک شال جس کی تیاری پر تین سے پانچ دن،رلی کے مکمل ہونے کا دورانیہ کم سے کم ایک ماہ ،تکیے پرس ،بیڈ شیٹس ،ٹیبل دان، روٹیاں لپیٹ کر رکھنے کا کپڑا،اور دیگر ائٹم بنانے پرگھریلو کاریگروں کو معاوضے ملتا ہے اس سے پیٹ بھرنے کے علاوہ ان کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری نہیں ہوتیں ۔ نتیجے میں یہ ہنر بھی معدوم ہوتا جارہا ہے۔لہذا اب یہ چند ہی دیہاتوں اورہزاروں کے بجائے چند سو ہاتھوں تک محدود ہو گیا ہے۔

دست کاروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، گھریلو پیمانے پر تیار کی جانے والی تمام اشیاء،کاریگر دھاگوں سمیت دیگر سامان دکانداروں سے ادھار لے کرآتے ہیں۔اشیاء کی فروخت کے بعد، انہیں صرف اپنی مزدوری ہی مل پاتی ہے جو بمشکل یومیہ تین سوروپے تک بنتی ہے۔بعد ازاں دکاندار ان اشیاء پر پرکشش لیبل لگا کرمہنگے داموں فروخت کرتے ہیں۔ حکومت اور محکمہ ثقافت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ فن زوال کا شکار ہے۔ حکومت کو اسے معدوم ہونے سے بچانے کے لیے گھریلو دست کاروں کی سرپرستی کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں، انہیں خام مال کی فراہمی کے ساتھ ان کی فروخت کے لیے ادارے قائم کرنا چاہئیں جو اس کے اصل کاریگروں کو ان کا صحیح معاوضہ دے سکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں