آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 17؍ذوالحجہ 1440ھ 19؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ادویہ ساز کمپنیوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ ڈالر کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا جب کہ فارماسسٹ کا کہنا ہے کہ میڈیسن کے نرخ میں کئی گنا اضافے نے کاروبار متاثر کر دیا ہے۔ا

دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے ادویات کی قیمتیں از خود 100 فیصد تک بڑھانے پر لوگ پریشان ہو گئے۔ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں بھی 400 روپے تک کا اضافہ کا ہو چکا ہے۔

امراض قلب کی دواکی قیمت میں 317 روپے، شوگر کو کنٹرول کرنے والی دوا کی قیمت 272 سے 460 روپے اور بلڈ پریشر کی دوائی کی قیمت 185 سے 500 روپے تک بڑھ چکی ہے۔

ٹی بی کی ایک میڈیسن 872 سے 1625 کی ہو گئی ہےجب کہ ہارمونز کا ایک انجکشن 750 سے 1437 کا ہو گیا ہے۔ گلے کے امراض کی دوا 548 سے بڑھا کر 921 روپے کر دی گئی ہے۔

سر درد کیلئے استعمال ہونے والی دوا کی قیمت میں 27 روپے فی پیکٹ کا اضافہ ہوا ہے۔

میڈیکل اسٹورز مالکان کے مطابق ڈیڑھ ماہ بعد ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔

تجارتی خبریں سے مزید