آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہیوسٹن میں متعین پاکستان کی قونصل جنرل عائشہ فاروقی کی کتاب ’موسنگز آف اے نومیڈ‘ کی تقریب رونمائی پلانو میں واقع سینٹرل آغا خان کائونسل اسماعیل جماعت خانہ میں منعقد ہوئی جس کو ڈیلس انسٹیٹیوٹ آف ہیومینٹیز ایند کلچر کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔


کتاب کی رونمائی تقریب میں مقامی امریکن اور پاکستانی نژاد امریکی مرد و خواتین نے شرکت کی اس موقع پر کتا ب میں بیان کئے گئے مختلف موضوعات سے متعلق ڈیلس انسٹیٹیوٹ آف ہیومینٹیز اینڈ کلچر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جے لیری نے تحقیقی سوالات کیے جو کہ تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہے۔

قونصل جرنل عائشہ فاروقی نے مختلف سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے سفارتکاری کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں اور بحیثیت ایک خاتون سفارتکار ان کو اس عرصہ میں جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا وہ انہوں نے اس کتاب کے ذریعہ قرطاس ابیض پر رقم کیے ہیں تاکہ کتاب کے قارئین ان کے تجربات سے استفادہ حاصل کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ بحیثیت سفارتکار اس عرصہ میں انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور سفارتکاری جس کو وہ خانہ بدوشی والی زندگی سے تعبیر کرتی ہیں، اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس زندگی نے ان کو اُن مسائل کو مختلف طریقے سے دیکھنے کا تجربہ دیا، جس کو انہوں نے قلم بند  کر کے ایک خاتون سفارتکار کے مسائل، مشکلات اور اس سے نمٹنے کا طریقہ پیش کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ مستقبل میں مزید دو اور کتاب لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس میں سے ایک کتاب اب تکمیل کے مرائل ہے۔

جیو، جنگ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اس کتاب کو لکھنے کا مقصد یہی تھا کہ مختلف کمیونٹیوں کو آپس میں ملایا جائے اور ان کو بتایا جائے کہ ہم آپ کے جیسے ہیں اور ان سے کسی قسم کا خوف محسوس نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ ہم سب انسانی رشتوں میں جڑے ہوئے ہیں اور انسانیت کی اپنی ایک فیملی ہے جو کہ دنیا میں بسنے والے تمام لوگوں پر محیط ہے، اس لئے رنگ، نسل، مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ انسانی رشتوں کو مقدم سمجھنا چاہیے۔

عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم کو عدم برداشت، بڑے دل کا عملی مظاہرہ کرنا ہو گا، حاضرین کے سوالات کے جواب میں انہوں نے کہا کہ خوف ایک حقیقت نہیں ہے اور جو لوگ اس حقیقت کو جان لیتے ہیں اور خوف کا بہادری کے ذریعے مقابلہ کرتے ہیں۔

اس موقع پر اسماعیلی جماعت خانہ کے صدر کی جانب سے عائشہ فاروقی کو تحائف پیش کئے گئے جبکہ اس تقریب کے اختتام پر آنے والے حاضرین نے ان کی کتاب خریدی اور اس پر ان کے آٹو گر اف بھی لیے۔

حاضرین کا کہنا تھا کہ عائشہ فاروقی نے اس موضوع پر کتاب لکھ کر آئندہ آنے والی نسلوں خصوصاً خواتین کو رہنمائی کا ایک ذریعہ فراہم کیا ہے۔

اس موقع پر پاکستان سوسائٹی کے صدر عابد ملک، امریکی صنعتکار اور انرجی ڈنرک کے سی ای او حفیظ خان، قراقرم تھنکر فورم کے صدر سراج بٹ، پاکستان سوسائیٹی بورڈ آف ٹرسٹی کے اراکین برکت بسریا، شاہ رخ صدیقی، محمد یونس، کمیونٹی رہنما ڈاکٹر فریحہ قاضی، سائوتھ ایشیا ڈیمو کریسی واچ کے ڈائریکٹر زاہد خانزادہ سمیت سینکڑوں افراد موجود تھے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں