آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 18؍ صفر المظفّر 1441ھ 18؍ اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کلاسیکل گائیک اسد امانت علی کوبچھڑے 12برس بیت گئے


پٹیالہ گھرانے سے تعلق رکھنے والے کلاسیکل گائیک اسد امانت علی خان کو مداحوں سے بچھڑے بارہ برس بیت گئے۔

موسیقی کا ہنستا بستا پٹیالہ گھرانہ آج بھی اپنے ہونہار اور سجیلے سپوت کے ذکر پر آبدیدہ ہو جاتا ہے اوراس گھرانے کے افراد یادوں میں اس کی شخصیت کے لمس کو محسوس کرتے ہیں۔

نیم کلاسیکل گائیکی کے نمائندہ گلوکار اسد امانت علی خان 25 ستمبر 1955 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔اسد امانت علی خان، استاد امانت علی خان کے صاحبزادے، استاد فتح علی، استاد حامد علی خان کے بھتیجے اورشفقت امانت علی خان کے بڑے بھائی تھے۔

انہیں موسیقی کا فن اپنے والد امانت علی خان سے ورثے میں ملا لیکن انھوں نے اپنی شناخت علیحدہ سے منوائی۔

اسد امانت علی خان نے اپنی گائیگی کا آغاز 10 سال کی عمر سے کیا اور ایف اے کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد موسیقی کو ہی پیشہ بنایا۔

اسد امانت علی خان نے کلاسیکل موسیقی سے تعلق رکھنے والے خاندان میں چار چاند لگائے۔ اپنے والد استاد امانت علی کی وفات کے بعد انشا جی کی لکھی اور استاد امانت علی کی گائی غزل 'انشا جی اٹھو اب کوچ کرو گانے کے بعد اسد علی خان کو اولین شناخت اور مقبولیت حاصل ہوئی تاہم انہیں اصل شہرت 'عمراں لنگھیاں پباں بھار سے ملی اور اس کے بعد وہ انتقال تک گائیکی کے ایک درخشاں ستارے رہے۔اپنے چچا حامد علی خان کے ساتھ ان کی جوڑی کو بھی بہت پسند کیا گیا جنہوں نے پاکستان کے علاوہ بھارتی فلموں میں بھی موسیقی کا جادو جگایا۔

انہیں صدارتی ایوارڈ پرائڈ آف پرفارمنس سے بھی نوازا گیا تاہم ایوارڈ کے فوری بعد ہی ان کی طبیعت ناساز ہوگئی اور وہ علاج کیلئے لندن چلے گئے۔

آٹھ اپریل 2007 کو 52 برس کی عمر میں ان کو دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوااور وہ جو فن موسیقی کا ایک درخشندہ ستارہ تھا، عین عالم شباب میں غروب ہو گیا ۔

انٹرٹینمنٹ سے مزید