آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل14؍شوال المکرم 1440ھ 18؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عالمی کپ کر کٹ ٹور نامنٹ کے لئےچیف سلیکٹر انضمام الحق نے جس ابتدائی 23 رکنی دستے کا فٹنس ٹیسٹ کے نام پر انتخاب کیا ہے اس میں سے 15 خوش نصیبوں کا اعلان 18 اپریل کو کیا جائے گا، فٹنس ٹیسٹ 15 اور 16 اپریل کو شیڈول ہیں،جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کی آخری 2 سیریز کے 10 میچوں کو سامنے رکھیں یا اس سے قبل نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلی گئی ون ڈے سیریز ، ایشیا کپ ، 2018 میں دورہ نیوزی لینڈ کی سیریز سب میںتجربات کے نام پر درجن بھر تبدیلیاں کی گئی ہیں ،مگر بنیادی معاملات کا حل نہیں نکالا جاسکا، گزشتہ 15 ماہ میں ہماری ٹیم 28 ایک روزہ میچوں میں سے 17 ہاری ہے صرف 10 جیتی ، ایک میچ بے نتیجہ رہا۔ان میں 5فتوحات زمبابوے،ایک ہانگ کانگ اور ایک افغانستان کے خلاف ملی ہے ،ایک کامیابی نیوزی لینڈ اور 2 جنوبی افریقا کے خلاف ہیں، گویا صرف 3قابل قدر فتوحات ہیں،اسی نیوزی لینڈ سے 6،بھارت سے 2،جنوبی افریقا سے 3،آسٹریلیا سے وائٹ واش، بنگلہ دیش سے بھی ایک شکست شامل ہے۔ایک سیریز زمبابوے سے جیتے۔گزشتہ ورلڈ کپ سے اب تک ٹیم کی کارکردگی بھی مایوس کن ہے ۔75 میچز میں سے 35 جیتے اور اس سے زائد 38 میں ناکامی گلے کا طوق بنی ہے، چارسال میں شکست کی اہم وجہ درست کمبی نیشن کا نہ ہونا اور دوسرا میچ ونر یا میچ فنشز پلیئر کی کمی،جو سلیکٹرز 4 سال میں مرض کی تشخیص نہ کرسکے وہ اب ان اعلان کردہ 23 کھلاڑیوں میں سے کیا نکالیں گے۔محمد حفیظ اور شعیب ملک جتنے تجربہ کار ہیں اور جتنی ذمہ داری ان پر پڑتی ہے،وہ مسلسل ناکام ہیں،نہ میچ ونرز ہیں اور نہ میچ فنشرز،حتیٰ کہ ان پلیئرز کو مشکل وقت میں کمانڈنگ پوزیشن سے بھاگ کر ا سٹرائیک اینڈ پر آتے دیکھا گیا ہے۔ ٹیم منیجمنٹ ابھی بھی شعیب ملک اور محمد حفیظ پر انحصار کرنے جارہی ہے۔23 کرکٹرزکے نام تو سامنے آچکے ،ان میں سے سرفراز احمد،بابر اعظم،فخر زمان،حارث سہیل،حسن علی،عماد وسیم،شاداب خان ،شاہین آفریدی،عثمان شنواری،امام الحق،محمد عامر،محمد حفیظ،شعیب ملک ،عابد علی اور آصف علی میں سے ایک ،محمد عباس،فہیم اشرف ،محمد حسنین میں سے کوئی ایک لیا جائے گا،جنید خان،یاسر شاہ محمد نواز،محمد رضوان اور شان مسعود میں سے فٹنس ٹیسٹ کےبعدایک مقدر کا سکندر بنے گا ورلڈ کپ کے لئےامام الحق اور عابد علی میں سے کسی ایک کا انتخاب ہوگا،فخر زمان کے ساتھ رائٹ اور لیفٹ کاکمبی نیشن زیادہ پر اثر ہوگا،اب عابد علی کے پاس انگلش وکٹوں پر کھیلنے کی پریکٹس نہیں ہے،حارث سہیل نے حال ہی میں 2 سنچریز بنائی ہیں 31 میچوں میں یہی 2سنچریاں اور 10 نصف سنچریز ہیں،بولنگ میں 11وکٹیں لی ہے ،59 میچوں کا تجربہ رکھنے والے بابر اعظم نمبر 3پر کھیلیں گے،شعیب ملک اور محمد حفیظ اگر تجربے کی بنیاد پر کھیلے تو ان کے بعد آصف علی(یا فہیم اشرف) ،کپتان سرفراز احمد اور پھر ٹیل اینڈرز،اب فاسٹ بولرز میں محمد عامر،شاہین آفریدی،عثمان شنواری لیفٹ ہینڈڈ ہیں،عباس کی سلیکشن محض انگلش وکٹوں کی بنیاد پر تو ہوسکتی ہے مگر ایک روزہ اور پھر میگا ایونٹ کی بنیاد پر ہر گز ہر گز نہیں،بولنگ لائن کے حوالے سے ہمارے یہ 23 کھلاڑی مکمل طور پر مس فٹ ہیں کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی اکیلا میچ جتوانے کا بوجھ اٹھا نہیں سکتا اور بیٹنگ لائن کے حوالے سے میچ ونرز اور میچ فنشر سے عاری ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں