آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات16؍ ربیع الاوّل 1441ھ 14؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

میں نے پچھلے مہینوں میں پنجابی، اردو اور انگریزی میں کافی کتابیں شائع کی ہیں لیکن اس سارے عمل میں جو بنیادی مسئلہ درپیش آیا ہے وہ کتابوں کی تقسیم کا ہے۔ اگرچہ پورے پنجاب اور پاکستان میں کئی شہروں میں نئی یونیورسٹیاں کُھل چکی ہیں لیکن میری معلومات کے مطابق علمی درسگاہوں کے ساتھ کتابوں کی دکانیں نہیں کھلیں، جس کا مطلب ہے کہ اعلیٰ تعلیمی ادارے تو کُھل رہے ہیں لیکن علم کے پھیلاؤ کی رفتار بہت ہی سست ہے۔ بقول منیر نیازی:

منیر اس شہر پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

خیر میری کتابوں کی تقسیم کی ذمہ داری سنبھلانے والے ہمارے دوست پروفیسر زبیر احمد نے تجویز کیا کہ وہ ایک دکان لے کر کتابوں کی تقسیم و ترسیل کا کام شروع کروا سکتے ہیں۔ وہ خود بھی ’ترنجن‘ کے نام سے کئی سال پہلے اسی طرح کا ایک ادارہ چلا چکے ہیں اور میں خود بھی ستّر کی دہائی میں ’پنجاب ادبی مرکز‘ کے نام سے اسی نوع کا پبلشنگ ہاؤس چلا چکا ہوں۔ میں نے ان تجربات کی روشنی میں اُن سے کہا کہ پچھلے چالیس سالوں میں دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے اور زیادہ کتابیں پڑھے جانے والے ملکوں میں کتابوں کی دکانیں دھڑا دھڑ بند ہو رہی ہیں اور اب یہ سارا کام کچھ ادارے انٹر نیٹ پر آن لائن کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی رجحان غالب آ جائے گا کیونکہ وہ بھی گلوبلائزیشن کی زد میں آچکا ہے۔ لوگوں کے پاس سیل فونوں اور انٹرنیٹ کی عام موجودگی سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کتابوں کی تقسیم کے لئے انٹرنیٹ پر آن لائن خریداری جیسے وسائل مُلک میں موجود ہیں لیکن اسے کوئی بھی منظم طریقے سے کرنے کی کوشش نہیں کر رہا۔ اس لئے چالیس سال پرانے ڈھنگ کے انداز میں کتابوں کی دکان کھولنے کی بجائے نئی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہوئے عصر حاضر کے مطابق چلا جائے کیونکہ مستقبل میں یہی کُچھ ہوگا۔ میرے خیال میں آج کتابوں کی دکان کے ذریعے تقسیمِ کُتب پس ماندہ فکر کی ایک ٹھوس مثال ہے: یہ ایسے ہی ہے جیسے ٹریکٹر کی بجائے بیلوں اور لکڑی کے ہل سے کاشتکاری کی جائے۔

اس مسئلے کی وضاحت کے لئے میرے ذہن میں کُچھ اور مثالیں بھی ہیں۔ مثلاً میرے آن لائن اخبار کے دو مددگار، نئے ہُنر کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں بیٹھ کر امریکہ کے درمیانے طبقے جتنی آمدنی کما رہے ہیں۔ اُن میں سے ایک صاحب دس بارہ لوگوں کو ملازمت دے کر خوشحالی کی طرف گامزن ہیں۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ نئی دولت(یا آمدنی) ذہنوں کو نئے ہُنر سے مزین کرنے کے ذریعے سے پیدا ہو رہی ہے۔ اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر آپ کے پاس چند کروڑ روپیہ آجائے تو اس کے ساتھ کونسا کام شروع کیا جا سکتا ہے جس سے زیادہ آمدنی ہو؟ آپ ان کروڑوں روپوں سے سو ایکڑ زرعی زمین بھی خرید سکتے ہیں یا ان میں سے چند لاکھ (یا چند ہزار)روپے میں ایک یا چند کمروں پر مشتمل ایک دفتر کرایے پر لے کر نئی ٹیکنالوجی سے جُڑا ہوا کوئی کاروبار بھی شروع کر سکتے ہیں۔ قوی امکان ہے کہ زرعی زمین خریدنے والا منافع بھی نہیں کما سکے گا اور گوناگوں مسائل کا بھی شکار ہو گا جبکہ بہت ہی کم پیسوں سے جدید ٹیکنالوجی استعمال کرنے والی کمپنی تھوڑے عرصے میں ہی لاکھوں کروڑوں کا منافع کمانا شروع کر دے گی۔

انہی مثالوں کو قومی اور پورے سماج کی سطح پر دیکھیں تو نتیجہ مختلف نہیں ہو گا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا قومی وسائل کو پرانے پیداواری ڈھنگ (زرعی شعبہ) کو بہتر بنانے یا مستحکم کرنے پر صرف کیا جائے یا اُس سے نئے صنعتی ادارے قائم کئے جائیں۔ پرانے طرز پیداوار کے ساتھ چمٹے رہنے کا وہی مستقبل ہے جو کروڑوں خرچ کر کے زمین خریدنے والے کا۔ اس طرح کی پُرانی سوچ کے ساتھ جُڑے رہنا فکری پس ماندگی ہے۔ آپ غور کریں کہ یہاں فکری پس ماندگی کو مذہبی یا دوسرے قدیم عقیدوں کے ساتھ نہیں جوڑا گیا بلکہ اسے سماج کے مستقبل کے بارے میں پائے جانے والے تصورات کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔ آپ مذہب مخالف ہوتے ہوئے بھی اگر زمانہ رفتہ کے پیداواری ڈھنگ پر سماجی وسائل صرف کرنے کے حق میں ہیں تو یہ فکری پس ماندگی کا اظہار ہے۔

پاکستان میں جدید پیداواری ذرائع اپنی اندرونی طاقت اور عالمی ماحول کے تبدیل ہونے کی بنا پر پیش قدمی کر سکے ہیں اور ایک مقام تک آنے کے بعد جمود کا شکار ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ شاید اس کی بنیادی وجہ ریاست کی ترجیحات کا ٹھونسے جانا اور اجتماعی سطح پر ’اندازِ نو‘ سے گریز ہے۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیاں اور دانشور حلقے پرانے طرز فکر کے اسیر ہیں۔ لوگوں کو پرانے عقیدوں کا زبردستی پابند بنانے اورذہنوں کی کشادگی کے راستے بند کرنے کے لئے ہر طرح کا ہتھکنڈہ استعمال کیا گیا ہے۔ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ سرمایہ کاری رئیل اسٹیٹ تک محدود ہو کر رہ گئی ہے اور پرانے سرمایہ داروں نے بھی صنعتی یونٹوں کی جگہ پر شاپنگ پلازے بنا لئے ہیں۔ پاکستان میں صنعتی پیداوار کا تیزی سے نہ بڑھنا اس کے معاشی دوڑ میں پیچھے رہنے پر منتج ہو رہا ہے۔ اس کے لئے فکری انقلاب کی شدید ضرورت ہے جس کا پہلا قدم یہ ہے کہ ریاست لوگوں پر ذہنی پابندیاں لگانے کی روش کو ترک کرے اور دانشور طبقہ زرعی معاشرے کی پیدا کردہ طرز فکر کو خیر باد کہے۔

ادارتی صفحہ سے مزید