آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تفہیم المسائل

سوال:۔ روزنامہ جنگ کے اسلامی صفحے پرایک مسئلہ (مسجد میں محرابی دیوار پرشیشے لگانا) کے بارے میں آپ نے نہایت مفصّل اور مدلّل جواب دیا تھا،اسی سلسلے میں میرا سوال یہ ہے کہ آج کل مسجد کے ہال اوربرآمدوں میں ٹرانسپیرنٹ شیشے کے دروازے لگائے جاتے ہیں،جن کے آر پار لوگ واضح نظرآتے ہیں،کیا ایسے شیشوں والے دروازے کو نمازی کےلیے ’’سُترہ‘‘بنایا جاسکتا ہے؟(اظفرصدّیقی، لاہور)

جواب: ۔ شیشہ خود ایک ٹھوس چیز ہے ،جو سُترہ بننے کی صلاحیت رکھتاہے اور اس کے آر پار نظر آنا گزرنے والے کے لیے ممانعت کا سبب نہیں بن سکتا ۔ حدیث پاک میں سُترہ کی کم ازکم مقدار لمبائی ایک ہاتھ اور موٹائی ایک انگلی کے برابرتعلیم فرمائی گئی ہے اور زیادہ سے زیادہ لمبائی تین ہاتھ ہے،تو اگر آپ نماز پڑھ رہے ہیں اور ایک ذراع لمبی اورایک انگلی موٹی لکڑی یا اس کی بھی ڈبل آپ کے سامنے سُترے کے طورپر رکھی ہوئی ہو توکیا آپ کو سامنے سب کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا ، سویہ ایک علامتی آڑھ ہے ، حدیث پاک میں ہے: ترجمہ:’’حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: غزوۂ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے سُترہکے بارے میں دریافت کیاگیا ،تو آپ ﷺ نے فرمایا: پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر ہو،(صحیح مسلم:)‘‘۔

تنویر الابصار مع الدرالمختار میںہے:ترجمہ:’’ سُترہ کی مقدار ایک ہاتھ لمبا اور موٹائی ایک انگلی کے برابر ہونی چاہیے تاکہ دیکھنے والے پر ظاہر ہو ، زیادہ سے زیادہ لمبائی تین ہاتھ ہے ‘‘۔سُترے کا بچھا کر رکھنایا نصب کرنا لازم نہیں ہے ،مُعلّق شے بھی بطور سُترہ استعمال ہوسکتی ہے ، علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں:ترجمہ:’’ اس کی صورت یہ ہے:کپڑے کا پردہ یا اُس کے جیسی کوئی شے چھت سے مُعَلّق(لٹکی ہوئی) ہے، پھر اس کے قریب کوئی نمازپڑھ رہاہو،پس جب سجدہ کرے تو پردہ اُس کی پشت پر ہوگا اور سجدہ اُس(پردے) کے خارج میں اور جب نمازی قیام یا قعدہ کرے گا تو پردہ زمین پر لٹک رہاہوگا اور سترہ ہوگا ، (حاشیہ ابن عابدین شامی)‘‘۔

اقراء سے مزید