آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

ذوالفقار علی بھٹو کی 40ویں برسی پر، نوڈیرو کی شہادت گاہوں سے سابق صدر آصف علی زرداری، چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو صاحب کے نواسے بلاول بھٹو زرداری کی تقاریر پاکستانی سیاسی تاریخ کی کرب آمیز صدائے بازگشت تھی، اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا ’’ہم نے ہمیشہ عدالت سے انصاف کی امید رکھی، اپنی غلطیوں کو سدھارنا ہو گا۔ بھٹو شہید کو انصاف ملنے سے ہی انصاف کی ابتدا ہو گی‘‘۔ پاکستان کے منفرد اور مستثنیٰ شاعر، ایڈیٹر اور کالم نگار عباس اطہر نے ذوالفقار علی بھٹو مقدمے کے لئے ’’اّم المقدمات‘‘ کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ جناب آصف علی زرداری نے فروری کے آخر یا مارچ کے اوائل (2011) میں سپریم کورٹ میں بھٹو کیس ری اوپن کرنے کا ریفرنس وفاقی کابینہ کو بھیجا۔ وفاقی کابینہ نے 28مارچ 2011ء کو ریفرنس کی منظوری دی جس کے بعد 2اپریل 2011ء کو سیکرٹری قانون مسعود چشتی نے ریفرنس رجسٹرار سپریم کورٹ کے حوالے کیا۔ سپریم کورٹ نے اس کی ابتدائی سماعت کے لئے 13اپریل 2011کی تاریخ مقرر کی۔ ابتدائی سماعت کے دوران میں سپریم کورٹ نے ریفرنس کو مضوع کے تعین اور متعینہ قانونی سوالات کے سقم کا آئینہ دار ہونے کے باعث اس ہدایت کے ساتھ وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کے حوالے کر دیا کہ ’’آپ اس میں متعینہ موضوع اور اس سے متعلق متعینہ قانونی سوالات شامل کریں۔‘‘

سپریم کورٹ کی ہدایت کےمطابق صدارتی ریفرنس کا یہ تقاضا پورا کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان 21اپریل 2011کی صبح عدالت عظمیٰ میں پیش ہوئے۔ عدالت نے مختصر جائزے کے بعد بھٹو کیس ری اوپن کرنے کا صدارتی ریفرنس سماعت کے لئے منظور کر لیا۔ عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ سے بھٹو کیس کا اصل ریکارڈ طلب کیا اور لارجر بنچ تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے 2مئی 2011سے روزانہ سماعت کا حکم نامہ جاری کر دیا۔

وفاق کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے وہ 5متعینہ سوالات آئین کے آرٹیکل 185کے تحت تحریری طور پر پیش کئے۔ وہ زیر مقدمہ سوالات یہ تھے۔

(1) کیا ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی سزا میں آئین کے بنیادی حقوق سے متعلق آرٹیکلز کے تمام تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے؟ (2) کیا یہ فیصلہ سپریم کورٹ سمیت ملک کی دوسری عدالتوں میں بطور نظیر پیش کیا جا سکتا ہے؟ (3) کیا مخصوص حالات میں دی گئی سزا کا کوئی جواز بنتا تھا اور کیا اسے قتل عمد قرار دیا جا سکتا ہے؟ (4) کیا ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی سزا میں اسلامی قانون کی پاسداری کی گئی؟ (5) جن شواہد اور مواد کی بنیاد پر شہید بھٹو کو سزا دی گئی، کیا وہ ریکارڈ کئے گئے تھے؟

صدارتی ریفرنس میں اسی متوقع بے انصافی کو ان الفاظ میں منعکس کیا گیا تھا۔ ’’ٹرائل آزادانہ ماحول میں نہیں ہوا، ضیاء الحق کے دبائو پر فیصلہ سنایا گیا، نسیم شاہ نے دبائو کا اعتراف کیا تھا، مقدمہ دوبارہ چلا کر بھٹو کو بعد از مرگ بری قرار دیا جائے۔‘‘ وکیل ڈاکٹر بابر اعوان کے مطابق ’’عدالتی تاریخ پر سیاہ دھبے دھونے کے لئے یہ کام کیا۔ پھانسی کے فیصلے کو دنیا اور کسی عدالت نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ اسلامی اعتبار سے بھی ناجائز ہے۔ تین ججوں نے بری کر دیا تھا۔‘‘

2011میں ذوالفقار علی بھٹو کی 32ویں برسی پر اس وقت صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے ریفرنس کے حوالے سے اپنے نظریاتی کرب کا اظہار گڑھی خدا بخش میں واقع ’’خانوادہ شہیداں‘‘ کے قبرستان میں کیا۔ صدر کا کہنا تھا ’’ہم نے 1973 کا آئین بحال کرنے کی بات کی تو سیاسی اداکاروں کو یقین نہیں تھا، میں نے بھٹو اور بی بی کو روزِ قیامت جواب دینا ہے، اس لئے ان کے خواب پورا کرنا ہیں، ہماری خواہش ہے کہ بھٹو کا جو عدالتی قتل ہوا ہے وہ تاریخ سے مٹایا جائے۔ جس کے لئے میں نے ریفرنس بھیج دیا ہے، آج کی عدلیہ کو ہم نے بحال کیا، انہوں نے بھی شہیدوں کی طرح جلسے، لانگ مارچ کئے ہیں، یہ انہیں ذوالفقار علی بھٹو نے سکھائے ہیں۔ ہم نے انہیں بھٹو کی ادا پر بحال کیا۔بھٹو کے عدالتی قتل کو کسی چھوٹے سے چھوٹے جج نے بھی تسلیم نہیں کیا تو وہ کیسے جج تھے جنہوں نے ضیاء الحق کے پی سی او کو مانا تھا۔ ہم نے تاریخ سے ایک حرف مٹانے کی بات کی ہے بھٹو کیس ری اوپن کرنے کا وعدہ ہم نے ہمارے بچھڑے دوست نواز شریف نے بھی کیا مگر وہ نہ کر سکے یا انہیں کرنے نہ دیا گیا۔ آئندہ سال جب ہم یہاں کھڑے ہوں گے تو کٹہرے سے تمام نام مٹا چکے ہوں گے یا سب کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ ہم اخبار کی سرخیاں نہیں بناتےبلکہ اپنے لہو سے تاریخ لکھتے ہیں۔ بھٹو بننے کی کوشش تو سب کرتے ہیں، ان جیسا پیار بھی مانگتے ہیں مگر اس جیسی موت نہیں مانگتے۔ اب ریفرنس بھیجنے پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے، فیصلہ کرو کہ تم سے غلطی ہوئی اور معافی دینا ہمارا کام ہے۔‘‘

ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار سرفراز کئے چالیس برس گزر چکے، یہ مقدمہ ری اوپن کرنے کا ریفرنس تقریباً 8 برس پیشتر دائر کیا گیا، پاکستانی قوم آج چالیس برس بعد بھی ذوالفقار علی بھٹو کی بے گور و کفن میت کے مقام کا انتظار کر رہی ہے، عدالت عظمیٰ پاکستان اس ’’اّم المقدمات‘‘ کے سوالات کب حل کرے گی؟ انصاف کا ہر لمحہ جواب کا منتظر ہے۔ اور رہ گئی پاکستان پیپلز پارٹی، کیا وہ اس رٹ کے بعد سو چکی ہے؟

داتا دربار میں ایک مہربان نشست

عزیزم ضیاء الحق نقشبندی، ہمارے نوجوان کالم نگاروں میں سے بھی ہیں، گزری جمعرات کو حضرت داتا گنج بخش رحمۃ اللہ علیہ دربار کے احاطے میں ایک مجلس کا اہتمام کیا، یہ ایک نرم و مہربان نشست تھی۔ شرکاء میں برادر اخبار نویسوں کا موثر اکٹھ تھا۔ صوبائی وزیر اوقاف پیر سعید الحسن شاہ مرکزی شخصیت کے طور پر موجود تھے، واقعہ یہ ہے کہ ان کی ذات سے علم اور عاجزی کی خوشبو محسوس ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کی جب انہوں نے سعادت حاصل کی، دل میں مزید احترام، شاید محبت کا احساس بھی در آیا۔ آپ اولڈ راوین اور عربی فارسی سمیت پانچ زبانوں کی تعلیم سے آشنائی کا اعزاز رکھتے ہیں دنیا داری سے دور نہیں، بایں ہمہ محسوس ہوا اپنے سلسلہ تصوف کی نسبت کا مقام و مرتبہ سعید الحسن شاہ کی نظروں سے ایک لحظہ کے لئے اوجھل نہیں ہونے پایا۔ صوبائی وزیر اوقاف نے اپنے محکمے کے حوالے سے سترہ نکاتی مربوط پالیسی پر گفتگو کی، صوفی یونیورسٹی کے قیام کا معاملہ بھی پوری وضاحت سے بیان کیا، افسوس کالم کی گنجائش ختم ہوئی، وعدہ رہا صوفی یونیورسٹی پر مزید بات ہو گی۔ ان شاء اللہ۔

ادارتی صفحہ سے مزید